کرنل ریٹائرڈ انعام کے مطابق سیکشن ٹو ون ڈی میں پروسیجر فالو کرنا لازم ہوتا ہے، یعنی (FIR) درج کرنے سے لے کر ثبوتوں کی موجودگی اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 10 (A) کے تحت ملزمان کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر پروسیجر فالو نہیں ہوتا، تو اسے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ اگر ملک میں جوڈیشل سسٹم چل رہا ہو، تو سویلینز کے مقدمات کو سول کورٹ میں بھیجے جانے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کرنل (ر) انعام کہتے ہیں کہ یہاں یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ ملزم کا ٹرائل ملٹری کورٹس کے ذریعے ہو گا یا سویلین عدالت کے ذریعے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ جوڈیشل سسٹم صحیح طرح کام نہیں کر رہا، تو وہ مقدمات ملٹری کورٹس کو بھجوا سکتی ہے۔
ایسے مقدمات کو چیلنج کرنے کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جن تین سویلنز کو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے دور میں سزائے موت کی سزا سنا دی گئی تھی، انھیں ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ کیوں کہ ان کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج تھی نہ انھیں کونسل تک رسائی دی گئی۔ خب کہ آرٹیکل 10 (A) کے تحت یہ دونوں لازم ہیں۔
شیئرکریں: