قارئین، حبیب جالب اپنی آب بیتی “جالب بیتی” میں حیدر آباد سازش کیس (Haider Abad Tribunal Case) میں جیل کے شب و روز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
“حیدر آباد جیل میں ہمارا کام لکھنا پڑھنا تھا۔ دن بھر یوں وقت گزرتا۔ شام پھر سب اکٹھے ہوکر ایک جگہ گراﺅنڈ میں بیٹھتے تھے۔ ولی خان والی بال کھیلتے تھے۔ عطاء اللہ جان نامی ایک لمبا آدمی تھا جو والی بال کا بڑا ماہر تھا۔ ہم والی بال میں شامل ہو جاتے اور بال کورٹ کے پار پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہمارے بزنجو صاحب بھی والی بال کے بڑے ماہر تھے، لیکن اصل میں وہ فٹ بال کے بڑے کھلاڑی تھے اور اپنے زمانے میں بلوچستان کے مانے ہوئے کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا سرخ و سفید رنگ، مرچیں بہت کھاتے تھے۔ پھر وہ اپنا خیر بخش مری، خوب صورت، وہ بھی سرخ و سفید رنگ والا اور اپنے خیالات میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ مطالعہ بے پناہ، نو شایع (Latest) کتاب ہمیشہ ان کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔
جیل میں کُل پچپن افراد تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے، جن کی عمریں چھوٹی تھیں۔ کوئٹہ میں ان پر ہمارے پنجابی بھائیوں نے بڑا تشدد کیا تھا۔ جب وہ پنجابی زبان میں گالی دیتے تھے، تو وہ سمجھتے تھے کہ سارا پنجاب ہمیں مار رہا ہے۔ سارا پنجاب ہمیں گالی دے رہا ہے۔ ان کے خیالات یہی تھے۔ حیدر آباد میں، مَیں اور قسور گردیزی دو ہی پنجابی تھے۔ کبھی کبھی غصے میں وہ لوگ ہمیں بھی گردن زدنی سمجھتے تھے۔ یہیں لطفِ افغانی بھی تھا۔ وہ ان کے ساتھ اُردو بولتا تھا۔ ہم سے پنجابی میں بات کرتا تھا۔
جیل کے اندر کی فضا ایسی تھی کہ ہم وہاں چاروں صوبوں کے ہم درد ایک ساتھ جیل کاٹ رہے تھے۔ مگر بلوچستان کے لوگ اتنے دکھی تھے، ان پر اتنا تشدد ہوا تھا کہ ہم بھی انہیں کچھ بہتر لگتے تھے۔ اتنے ظالم تو نہیں، لیکن اچھے نہیں لگتے تھے۔

رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان حیدر آباد ٹربیونل کیس میں رہائی کے بعد جیل سے باہر آتے ہوئے
فوٹو: ابدالؔی

قسور گردیزی جیل میں ایک ہردل عزیز شخصیت تھے۔ ان کی لطائف اور گفتگو سن کر سب خوش ہوتے تھے۔ ہم ذرا کم آمیز سے ہوگئے تھے۔ وہاں گل خان نصیر تھے۔ ان سے فارسی کا “دیوانِ حافظ” سنتے تھے۔ ان کا فارسی تلفظ بڑا خوب صورت تھا۔ بلوچستان کے ڈھیر سارے پڑھے لکھے لوگ فارسی بھی خوب جانتے ہیں۔
حیدرآباد جیل میں معراج محمد خان اور علی بخش تالپور بھی تھے۔ یہ گروپ بھی اسی ٹربیونل کے سامنے پیش کرنے کےلیے شامل کیا گیا تھا۔ پتا نہیں ان پر یہ چارج تھا کہ ان کا بلوچستان میں کوئی ٹریننگ سنٹر ہے یا پتا نہیں کہاں ہے؟ شیر محمد مری بھی اسی گروپ میں شامل تھے۔ لوگ انہیں “جنرل شیروف” کہتے تھے۔ شیر محمد مری پر بہت تشدد ہوا تھا۔ انہیں بوری میں بند کرکے دریا میں کشتی سے باندھ کر ڈبوتے تھے اور ٹھنڈے پانی میں ننگا کرکے کھڑا کرتے تھے۔”
شیئرکریں: