سپوگمئی کڑنگ وھا راخیجہ
یار می د گلو لو کوی گوتی ریبینہ
قارئین، پشتو زبان کا یہ مشہور ٹپہ “سوما” نامی پھول سے منسوب ہے۔ جب آریا قوم چار ہزار سال پہلے ملاکنڈ اور سوات کی زمین پر وارد ہوئی، تو تاریخ میں اُن کا دور “ویدک دور” کے نام سے مشہور ہوا۔ آریا قوم کی زندگی میں سوما نامی پھول کو بہت تبرک حاصل رہا جس کا نباتاتی نام “افیڈرا پلانٹ” (Ephedra Plant) ہے۔ جب کہ چینی زبان میں اس پھول کو “ماھونگ” (Ma Houng) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مشہور مؤرخ جنزانو لڈسن کہتے ہے کہ سوما نامی پھول سوات کے “جونو سر” نامی پہاڑ میں اُگتا تھا اور آریا قوم کی لڑکیاں چودھویں کے چاند کی روشنی میں سوما پھول اکھٹا کرنے کی عرض سے پہاڑوں پر جایا کرتی تھیں۔ سوما کے پھول سے وہ ایک خاص رس نکالتے، جس کے پینے سے مستی و سرور اُن میں پیدا ہوتا تھا۔
اسی طرح آریا کی مشہور کتاب رگ وید کے 144 شعروں میں بھی مذکورہ پھول کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آرین کے نزدیک اس پھول کا کتنا تبرک تھا۔ رگ وید میں سوما پھول کا ذکر ایک شعر میں کچھ یوں کیا گیا ہے؛
ترجمہ، مونگ د سوما زلا نه شربت سکلے
زکہ ژوندون مو دوامی موندلے
قارئین، ہندی دیو مالا میں “سوم رس” یا “سوما رس” دیوتاؤں کا ایک خاص مشروب ہے، جو خوشی کے مواقع پر دیوتا اور دیویاں استعمال میں لاتا، جس سے یہ تصور اخذ کیا گیا کہ اس رس کو پینے کی وجہ سے دیوتا امر ہوجاتے ہیں اور موت سے محفوظ۔
یونانی دیو مالا میں بھی دیوتاؤں خاص کر عیش و عشرت کا دیوتا بیکس (Bachus) اور دوسرے دیوتاؤں کا خاص مشروب نیکٹر (Nectar) ہے جس کو اردو میں “امرت رس” کہتے ہیں۔ غرض ہر دیو مالا میں ایسا ایک خاص مشروب موجود ہے۔
__________________________________
قارئین، ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: