قیامِ پاکستان کے فوراً بعد یہ ممکن نہ تھا کہ ملک کا انتظام و انصرام چلانے کےلیے قوانین کی تدوین کے بعد ان کا نفاذ کیا جائے، اسی لیے برطانوی ہند میں مروجہ قوانین ہی یہاں نافذ کیے گئے۔ چنانچہ انڈین کاپی رائٹ ایکٹ 1914ء کو نافذ کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ بھی دیگر قوانین سے مستثنیٰ نہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد حکومتِ پاکستان نے محسوس کیا کہ مذکورہ ایکٹ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی ضروریات کےلیے نا کافی ہے۔ جس کی وجہ سے مارچ 1961ء میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی سربراہی میں ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم، قانون دان، متعلقہ وزارت کے نمائندے، مشرقی و مغربی پاکستان کے محکمۂ تعلیم کے نمائندے، مصنفین، ناشرین، کتب فروش نمائندہ تنظیموں، فلم سازوں اور لائبریریوں کے نمائندے شامل تھے۔

دنیا بھر میں عام طور پر یہ نشان کاپی رائٹ کے ٹریڈ مارک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

کمیٹی کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ پاکستان کے مروجہ کاپی رائٹ قانون کا جائزہ لے، اس میں ترامیم تجویز کرے اور ایک جامع اور آزاد کاپی رائٹ ایکٹ کےلیے اپنی سفارشات پیش کرے۔
مذکورہ کمیٹی نے 25 اکتوبر 1961ء کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں کاپی رائٹ آر ڈی نینس نمبر 34 مرتب ہوا۔ جس کی منظوری صدرِ پاکستان نے 2 جون 1962ء کو دی۔ تاہم قانون کا نفاذ تقریباً پانچ سال بعد ہوا جب 27 فروری 1967ء کو سرکاری گزٹ میں اس کا اعلان کیا گیا۔
مذکورہ نظام کو منظم طور پر رائج کرنے کےلیے کاپی رائٹ دفتر کا قیام عمل میں لایا گیا جو رجسٹرار کاپی رائٹس کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔

شیئرکریں: