برِصغیر پاک و ہند کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت کو ہمہ جہت اصلاح، قومی شعور اور انسانیت کی خدمت کی علامت کہا جا سکتا ہے، تو وہ بلا شبہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا ہیں۔ وہ محض ایک سیاسی راہ نما یا آزادی کے کارکن نہیں تھے بلکہ ایک ایسے ہمہ گیر اصلاح کار تھے جنہوں نے ایک پسماندہ، جنگ زدہ اور قبائلی معاشرے کو علم، شعور، عدمِ تشدد اور انسان دوستی کے راستے پر گام زن کرنے کی عملی جدوجہد کی۔
یہ امر محض اتفاق نہیں کہ کولمبیا، آکسفورڈ، ایل ایس ای، یونی ورسٹی آف ٹیکساس، کیلیفورنیا، اپسالہ، ہواوی اور قائدِاعظم یونی ورسٹی سمیت دنیا کی بڑی جامعات میں باچا خان اور ان کی تحریک پر درجنوں پی ایچ ڈی تحقیقی مقالے تحریر کیے جا چکے ہیں۔ یہ علمی سرمایہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ باچا خان محض ایک علاقائی راہ نما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی فکری مظہر تھے۔
جب برِصغیر میں تعلیم مخصوص طبقات تک محدود تھی اور پختون معاشرہ جہالت، قبائلی دشمنیوں اور استعماری جبر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، تو باچا خان نے سیاست سے قبل تعلیم کو اصلاح کا بنیادی ہتھیار بنایا۔ سو سال قبل ایک ایسے خطے میں، جہاں علم کو بغاوت سمجھا جاتا تھا، 130 سے زائد تعلیمی اداروں کا قیام بہ ذاتِ خود ایک انقلابی عمل تھا۔ اسی تناظر میں ان کی قائم کردہ "انجمن اصلاح الافاغنہ” محض ایک تعلیمی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی انقلاب کی بنیاد ثابت ہوئی، جس کا مقصد بندوق کے بجائے قلم اور انتقام کے بجائے برداشت کو فروغ دینا تھا۔
باچا خان کی اصلاحی جدوجہد کی معراج خدائی خدمت گار تحریک تھی۔ ایک منظم، تربیت یافتہ اور غیر مسلح عوامی تحریک، جس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ عدمِ تشدد کم زوری نہیں بلکہ اخلاقی طاقت کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ تاریخ جن پختونوں کو جنگجو کے طور پر جانتی تھی، باچا خان نے انہیں عدمِ تشدد کے سپاہی بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی محققین نے اس تحریک کو برطانوی سامراج کے خلاف سب سے مؤثر عوامی مزاحمت قرار دیا ہے۔
اصلاح ہمیشہ قربانی مانگتی ہے، اور باچا خان نے اس کی قیمت پوری زندگی ادا کی۔ انہوں نے تقریباً 37 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں کبھی برطانوی دور میں اور کبھی پاکستان میں، مگر نہ ان کے اصول بدلے اور نہ راستہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باچا خان ایک سیاست دان سے بلند ہو کر اخلاقی اتھارٹی (Moral Authority) کی صورت اختیار کرتے ہیں۔
باچا خان کی فکر کو محض پختون قوم تک محدود کرنا ان کے ساتھ فکری ناانصافی ہوگی۔ درحقیقت ان کا فلسفہ انسانیت کی مشترکہ اخلاقی وراثت ہے۔ وہ ایسے عہد میں عدمِ تشدد کے داعی تھے جب دنیا بندوق کو واحد حل سمجھتی تھی۔ آج جب مذہبی انتہا پسندی، نسلی نفرت اور سیاسی تشدد عالمی مسئلہ بن چکے ہیں، باچا خان کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ معنویت اختیار کر چکا ہے۔ اسی لیے جدید محققین انہیں (Nonviolent Radicalism) کا بانی قرار دیتے ہیں۔ ایک ایسا تصور جو گاندھی سے بھی زیادہ منظم اور ادارہ جاتی تھا۔
باچا خان کی پختون قوم پرستی تنگ نظر نہیں بلکہ انسان دوست تھی۔ وہ زبان، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی اقدار پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک "پختون ولی” کا اصل جوہر انتقام نہیں بلکہ انصاف، مہمان نوازی اور امن تھا۔ یہی فکر بعد ازاں ترقی پسند سیاست اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی نظریاتی بنیاد بنی۔
یہ محض جذباتی عقیدت نہیں بلکہ علمی اتفاقِ رائے ہے کہ باچا خان برِصغیر کے سب سے بڑے سماجی اصلاح کار تھے۔ انہوں نے تعلیم، عدمِ تشدد اور سیاسی شعور کو ایک ہمہ گیر تحریک میں ڈھالا، اور ان کی فکر پر درجنوں تحقیقی مقالے اور سو سے زائد کتب موجود ہیں۔ یہ سب اس امر کا ثبوت ہے کہ باچا خان کسی ایک دور یا قوم کے نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اصلاحی ستون ہیں۔
قومیں اگر اپنے محسنوں کو فراموش کر دیں، تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرتی۔ باچا خان کو سمجھنا دراصل امن، شعور اور انسانیت کو سمجھنا ہے۔ وہ نفرت کے مقابلے میں محبت، تشدد کے مقابلے میں عدمِ تشدد اور جہالت کے مقابلے میں علم کا استعارہ تھے۔ اسی لیے باچا خان محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہیں۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: