اشرف مفتون، رومان، فلسفہ اور انسانی کرب کا خاموش شاعر

پشتو زبان و ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض شاعر نہیں ہوتے بلکہ ایک پورے عہد، ایک احساس اور ایک فکری رویّے کی علامت بن جاتی ہیں۔ اشرف مفتون کا شمار بھی انہی درخشاں ناموں میں ہوتا ہے، جنہوں نے پشتو شاعری کو رومان، فلسفہ اور انسانی کرب کی ایسی ہم آہنگی عطا کی جو آج بھی قاری کے دل میں اُتر جاتی ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جن کی شاعری میں محبت، تنہائی، مزاحمت اور جمالیات ایک ساتھ سانس لیتی ہیں اور جو محض جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ ایک حساس اور باشعور ذہن کی فکری گہرائی کی آئینہ دار بھی ہے۔ ان کی زندگی، شاعری، ریڈیو سے وابستگی، خدائی خدمت گار پس منظر، خاندانی روایت اور بالخصوص اپنے اکلوتے بیٹے زرک خان مفتون کی الم ناک موت کے بعد پیدا ہونے والی تنہائی، ان کی شخصیت اور فن کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم پہلو ہیں۔
پشتو زبان کے ممتاز رومانوی شاعر اشرف مفتون کا تعلق خیبر پختون خوا کے تاریخی خطے ہشتنغر کے گاؤں رجڑ، چارسدہ سے تھا۔ دستیاب روایات میں ان کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے اختلاف ملتا ہے۔ بعض ذرائع یکم اپریل 1922ء جب کہ بعض روایات اپریل 1924ء کے پہلے ہفتے کو ان کی پیدائش کا زمانہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے والد قلندر خان تھے جو ہشتنغر کے مکھوڑی خیل اور بڑے جاگیردار نور محمد خان کے بیٹے تھے۔ قلندر خان خود رسمی تعلیم سے محروم تھے، مگر وہ ایک پکے خدائی خدمت گار تھے اور باچا خان بابا کی صحبت اور خدائی خدمت گار تحریک نے ان میں سیاسی و سماجی شعور پیدا کیا تھا۔ ان کا باچا خان بابا کے خاندان سے پشت در پشت خونی تعلق بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اسی شعور کے تحت انہوں نے اپنے بیٹے اشرف مفتون کو تعلیم دلانے پر خصوصی توجہ دی۔
اشرف مفتون ایک باوقار اور فکری طور پر فعال خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کی خاندانی نسبتیں بھی پشتون سیاسی، سماجی اور علمی تاریخ سے جڑی ہوئی تھیں۔ انہیں خان عبدالغفار خان (باچا خان) کا بھانجا، خان عبدالولی خان کا پھوپھی زاد اور معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر جہان زیب نیاز کا خالہ زاد بھائی بیان کیا جاتا ہے۔ ان نسبتوں کا اثر ان کی شاعری میں بہ راہِ راست سیاسی نعرے کی صورت میں شاید نمایاں نہ ہو، تاہم ان کی فکری تربیت اور شعوری ساخت میں ان کے خاندانی اور سماجی ماحول کی گہری جھلک محسوس ہوتی ہے۔ تاریخ کی بعض کتابوں میں انہیں "محمد زئی” قبیلے سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم ہشتنغر کے حوالے سے اس نسبت کی وضاحت ضروری ہے کہ وہاں کے تمام لوگ عمومی طور پر "محمد زئی” کہلاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سوات کے لوگ عمومی طور پر یوسف زئی کہلاتے ہیں، جب کہ مقامی سطح پر ان کے اپنے اپنے خاندان اور قبائل بھی ہیں۔ اسی اعتبار سے اشرف مفتون چوتھی پشت میں خان میر عالم خان کی اولاد میں سے اور قبیلے کے اعتبار سے "کنعان خیل” بیان کیے جاتے ہیں۔
اشرف مفتون چھے بہنوں کے اکلوتے اور لاڈلے بھائی تھے۔ ان کی تین بڑی بہنوں کے نام امتری بی بی، محمدی بی بی اور نور جہاں بی، جب کہ تین چھوٹی بہنوں کے نام محل آرا بی بی، پکھراج بی بی اور وجاہت بی بی بیان کیے جاتے ہیں۔ اکلوتے بھائی ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف گھر بھر کے لاڈلے تھے بلکہ ایک بڑے جاگیردار خاندان کے وارث بھی تھے۔ ان کے والد قلندر خان نے اگرچہ خود تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن باچا خان اور خدائی خدمت گار تحریک کی صحبت سے جو شعور حاصل کیا تھا، اسی کے نتیجے میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔
اشرف مفتون نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور بعد ازاں اسلامیہ کالج پشاور میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے بی اے کیا۔ انہوں نے فلسفے کا مضمون اس ارادے سے اختیار کیا تھا کہ آگے چل کر فلسفے میں ایم اے کریں۔ انہوں نے فلسفے میں ماسٹرز میں داخلہ بھی لیا، تاہم یہ ڈگری مکمل نہ کرسکے۔ اس کے باوجود فلسفے کا مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی، وجود، محبت، تنہائی، انسانی کرب اور انسانی احساسات کے پیچیدہ سوالات بار بار سامنے آتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسفہ ان کے لیے محض ایک تعلیمی مضمون نہیں بلکہ ان کے تخلیقی مزاج کا حصہ بن چکا تھا۔
اشرف مفتون نے شاعری کا آغاز بھی کم عمری ہی میں کردیا تھا۔ انہوں نے سکول کے زمانے سے شعر کہنا شروع کیا اور جب اسلامیہ کالج میں داخل ہوئے تو ان کا ایک شعری مجموعہ اشاعت کے لیے تیار تھا۔ 1945ء کے آس پاس ان کے شعری سفر نے باقاعدہ ادبی شناخت اختیار کی اور بہت کم عرصے میں انہوں نے پشتو ادب میں اپنا منفرد مقام بنا لیا۔ ان کی شاعری نے رومانیت کو محض حسن و عشق کے محدود دائرے سے نکال کر انسانی دکھ، داخلی کرب، وجودی سوالات اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کے ساتھ جوڑ دیا۔ اسی لیے پشتو شاعری میں رومانیت کا ذکر ہو، تو غنی خان کے بعد اشرف مفتون کا نام بھی نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔
ان کی ازدواجی زندگی بھی ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو تھی۔ اشرف مفتون کی شادی اپنے چچا شیر محمد خان کی بیٹی حسن دارا سے ہوئی۔ حسن دارا نہ صرف اس زمانے کی تعلیم یافتہ خواتین میں شمار ہوتی تھیں بلکہ قد و قامت، رنگ، مزاج، اخلاق اور خوب صورتی کے اعتبار سے بھی اپنے نام کے معنی کی عکاس تھیں۔ وہ ہشتنغر کی خواتین اور لڑکیوں کو اردو، پشتو اور انگریزی پڑھاتی تھیں، جب کہ بہت سی لڑکیوں نے ان کے پاس ناظرہ قرآن بھی مکمل کیا۔ اشرف مفتون اپنی اہلیہ حسن دارا کی ان خدمات کو بھی خدائی خدمت گاری کا حصہ سمجھتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ "حسن دارا، یہ بھی خدائی خدمت گاری ہے۔”
اشرف مفتون کی زندگی ایک عرصے تک امن، سکون اور گھریلو خوشیوں سے بھر پور رہی۔ حسن دارا سے ان کے آٹھ بچے تھے۔ ان میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا بچپن ہی میں وفات پاگئے، جب کہ چار بیٹیاں فوزیہ مفتون، نگینہ مفتون، نیر مفتون اور زرشانہ مفتون اور ایک بیٹا زرک خان مفتون زندہ رہے۔ جس طرح اشرف مفتون اپنی چھے بہنوں کے اکلوتے اور لاڈلے بھائی تھے، اسی طرح زرک خان مفتون بھی اپنی چار بہنوں کے اکلوتے اور لاڈلے بھائی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ باپ اور بیٹے کے درمیان محبت اور وابستگی غیر معمولی نوعیت کی تھی اور بعد میں زرک کی موت نے اشرف مفتون کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
اشرف مفتون چوں کہ شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار تھے، اس لیے ریڈیو پاکستان کی ملازمت انہیں اپنے تخیل کی دنیا کو عملی اظہار دینے اور اپنی ادبی پیاس بجھانے کا ایک مؤثر ذریعہ محسوس ہوئی۔ 1950ء میں وہ ریڈیو پشاور سے پروگرام اسسٹنٹ کے طور پر وابستہ ہوئے۔ ریڈیو ان کی شخصیت اور تخلیقی سفر کا اہم میدان ثابت ہوا۔ انہوں نے نشریاتی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ترقی کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے ریجنل اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے منصب تک پہنچے۔ وہ اپنی ملازمت سے خوش تھے اور ریڈیو کو اپنی ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ذریعہ سمجھتے تھے۔
1958ء میں ان کے والد قلندر خان کا انتقال ہوا، تو اشرف مفتون نے کچھ عرصے کے لیے ریڈیو پاکستان کی ملازمت چھوڑ دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گھر کے اکلوتے مرد تھے اور والد کے انتقال کے بعد زمینوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گاؤں کے جرگوں کی ذمہ داریاں بھی ان کے کندھوں پر آگئیں۔ تاہم ان کے دوست نثار مظلوم، افسر شاہ کاکا خیل اور دیگر احباب نے انہیں ریڈیو پاکستان کی ملازمت برقرار رکھنے پر آمادہ کیا، چنانچہ وہ دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ اور ادبی دنیا کی طرف لوٹ آئے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم اور اصولی مرحلہ اس وقت آیا جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں ریڈیو پاکستان کے اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ریڈیو پاکستان پشاور میں "پختون” اور "پختو” کے الفاظ کے استعمال پر سرکاری پابندی کے خلاف اشرف مفتون نے احتجاجاً استعفا دے دیا۔ ان کے ساتھ نثار مظلوم اور افسر شاہ کاکا خیل نے بھی استعفا دیا۔ اس واقعے کو ان کی زندگی کا ایک اہم نظریاتی موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے لیے یہ محض سرکاری ملازمت سے علاحدگی نہیں تھی بلکہ اپنی زبان اور شناخت کے حوالے سے ایک شعوری احتجاج تھا۔ یوں ان کی تقریباً بائیس سالہ سرکاری ملازمت کا اختتام ہوا۔
ریڈیو سے وابستگی کے دوران میں اور اس کے بعد بھی اشرف مفتون نے اپنی ادبی تخلیقات کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی شاعری میں رومان، انسانی جذبات، جمالیات، تنہائی، زندگی کے فلسفیانہ سوالات اور انسانی کرب نمایاں رہے۔ انہوں نے پشتو ادب کو متعدد اہم تخلیقات دیں۔ ان کی معروف کتابوں میں د شاعر دنیا، د ژوند سندرہ، تڑمی اوخکی، وگمی، ترخی شکری، کاواکی، سڑیکی اور لوخڑی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ "سکونڈاری” کے نام سے ان کا کلیات اور "حیدر” کے عنوان سے چھے ریڈیائی ڈراموں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان تخلیقات نے پشتو رومانوی شاعری کو ایک نئی جہت دی اور آنے والی نسلوں کے شعرا کے لیے بھی فکری راستے متعین کیے۔
ان کی کتاب "لوخڑی” خاص طور پر ان کے بیٹے زرک خان مفتون کے نام کی گئی تھی، جو اس بات کی علامت ہے کہ زرک ان کی زندگی اور تخلیقی دنیا میں کس قدر اہم مقام رکھتے تھے۔ اشرف مفتون اپنی تخیل کی دنیا میں حسن، رنگ، خوب صورتی اور دلکشی کے عاشق تھے۔ انہوں نے اپنے تخیل میں اس بد رنگ دنیا کے اندر اپنے لیے گویا جنت کا ایک ٹکڑا بنا رکھا تھا، جہاں شاعری، حسن، محبت اور جمالیات ان کے احساسات کو معنی عطا کرتے تھے۔ مگر یہی دنیا بعد میں ایک ایسے سانحے سے دوچار ہوئی جس نے ان کی شخصیت اور شاعری کے رنگ بدل دیے۔
30 اکتوبر 1991ء کی صبح رجڑ میں اشرف مفتون کے خاندان میں شادی کی تقریب تھی۔ ان کی بیٹیوں نے شادی کی تیاری مکمل کرلی تھی اور گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ اسی دوران بہنوں نے اپنے لاڈلے بھائی زرک خان مفتون کو آوازیں دیں، مگر زرک نے کوئی جواب نہ دیا۔ آخرکار گھر والوں نے ان کے کمرے کا دروازہ توڑا، تو کم عمر زرک خان کی لاش خون میں ڈوبی ہوئی ملی۔ زرک خان نے خودکشی کیوں کی، ایسا کون سا غم تھا جس نے انہیں اس انتہائی قدم پر مجبور کیا، یہ سوال آج بھی ایک معمہ قرار دیا جاتا ہے۔ خودکشی سے پہلے زرک خان نے جو خط لکھا، اس میں بھی اپنی موت کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی۔ انہوں نے صرف اتنا لکھا کہ ان کی موت کا الزام کسی پر نہ لگایا جائے، انہوں نے مزید زندہ رہنے کی بہت کوشش کی، لیکن اب وہ مزید نہیں جی سکتے اور ان کی جائیداد ان کی بہنوں اور بھانجیوں میں برابر تقسیم کردی جائے۔ خط کے اختتام پر انہوں نے سب کے لیے محبت کا اظہار کیا۔
زرک خان کی موت اشرف مفتون کے لیے ایسا صدمہ تھی جس نے ان کی باقی زندگی کا رُخ بدل دیا۔ 30 اکتوبر 1991ء کو زرک خان کی موت کے ساتھ ہی گویا اشرف مفتون کی تخلیقی دنیا کا ایک بڑا حصہ بھی خاموش ہوگیا۔ اگرچہ وہ 1991ء سے 2004ء تک جسمانی طور پر زندہ رہے، مگر اب وہ پہلے والے اشرف مفتون نہیں رہے تھے جو حسن، خوب صورتی اور دلکشی کے عاشق تھے۔ اب نہ وہ کوئل اور بلبل کے گیت گاتے تھے، نہ تاریک رات کی خاموشی میں زہرہ کی زلفوں سے کھیلتے تھے، نہ صبح کے ستارے سے محبوب کے راز بانٹتے تھے اور نہ چاند سے راز و نیاز کی باتیں کرتے تھے۔ زرک کی موت نے ان کے ہونٹوں پر خاموشی کی ایسی مہر لگا دی جس نے ان کی شخصیت کے رنگ بدل دیے۔
اشرف مفتون پہلے ہی تنہائی پسند طبیعت رکھتے تھے، لیکن زرک خان کی موت کے بعد ان کی تنہائی مزید گہری ہوگئی۔ وہ رفتہ رفتہ رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی کٹتے گئے اور زیادہ تر وقت تنہائی میں سوچوں کے دریا میں غرق رہتے۔ ان کی شاعری اور شخصیت کو سمجھنے میں اس سانحے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ان کے ہاں انسانی کرب، تنہائی اور زندگی کے المیے محض فلسفیانہ تصورات نہیں رہتے بلکہ ذاتی تجربے کی شدت اختیار کرلیتے ہیں۔
اشرف مفتون کے فن کی علمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان پر ڈاکٹر اختر علی نے تحقیقی کام کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اشرف مفتون محض ایک رومانوی شاعر نہیں بلکہ پشتو ادب کا ایک سنجیدہ فکری اور تخلیقی حوالہ ہیں۔ ان کی شاعری میں رومان کے ساتھ فلسفہ، انسانی نفسیات، معاشرتی احساس، جمالیات اور زندگی کے بنیادی سوالات کی موجودگی ان کے فن کو محض عشقیہ شاعری تک محدود نہیں رہنے دیتی۔
اشرف مفتون کی شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں محبت اور حسن کے ساتھ انسانی دکھ اور وجودی بے چینی بھی موجود ہے۔ ان کی رومانیت سطحی جذباتیت نہیں بلکہ ایک ایسے شاعر کی رومانیت ہے جو زندگی کی خوب صورتی کے ساتھ اس کی تلخیوں سے بھی واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ایک طرف محبوب، چاند، ستارے، کوئل، بلبل اور فطرت کے حسین استعارے نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف تنہائی، محرومی، موت، انسانی کرب اور وجود کے سوالات بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اسی امتزاج نے انہیں پشتو کے اہم رومانوی اور فلسفیانہ شعرا میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
قارئین، 14 مارچ 2004ء کو پشتو زبان و ادب کا یہ درخشاں ستارہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ ان کی وفات پشاور میں ہوئی اور اسی روز شام تقریباً پانچ بجے انہیں ان کے آبائی گاؤں رجڑ کے مقبرے میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ان کے انتقال کے ساتھ پشتو ادب نے ایک ایسے شاعر، ادیب اور مفکر کو کھودیا جس نے اپنی زندگی میں رومان، فلسفہ، جمالیات اور انسانی کرب کو ایک منفرد شعری تجربے میں ڈھالا۔
قارئین، اشرف مفتون کی زندگی کا جائزہ لیا جائے، تو یہ محض ایک شاعر کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے اپنے عہد کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور ادبی ماحول کو اپنے اندر جذب کیا۔ ایک طرف وہ ایک بڑے جاگیردار اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، دوسری طرف ان کے والد قلندر خان خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ تھے اور باچا خان کی صحبت سے متاثر تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی خواہش پر تعلیم حاصل کی، فلسفے کا مطالعہ کیا، سکول کے زمانے سے شاعری شروع کی، ریڈیو پاکستان کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا، اپنی زبان اور شناخت کے معاملے پر ملازمت سے استعفا دیا اور پھر اپنی شاعری کے ذریعے پشتو ادب میں ایک مستقل مقام پیدا کیا۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ان کے اکلوتے بیٹے زرک خان مفتون کی پراسرار خودکشی تھی، جس نے ان کی شخصیت کو اندر سے توڑ دیا۔ اس سانحے کے بعد ان کی دنیا کی رنگینی ماند پڑ گئی اور وہ تنہائی میں مزید گم ہوتے گئے۔ تاہم جسمانی زندگی کے اختتام کے باوجود ان کا فکری اور ادبی سفر ختم نہیں ہوا۔ ان کی کتابیں، ان کی شاعری، ان کے ریڈیائی ڈرامے اور ان کی فکری روایت آج بھی پشتو ادب کے قارئین اور محققین کے لیے اہم ہیں۔
اشرف مفتون کو صرف ایک ’’رومانوی شاعر‘‘ کہنا شاید ان کی مکمل ادبی شخصیت کی ترجمانی نہ کرے۔ وہ شاعر بھی تھے، مفکر بھی، جمالیات کے عاشق بھی تھے اور انسانی کرب کے ترجمان بھی، تخیل کی حسین دنیا کے باسی بھی تھے اور اپنی زبان و شناخت کے معاملے میں اصولی مؤقف رکھنے والے انسان بھی۔ ان کی شاعری میں محبت ہے، تو مزاحمت بھی، حسن ہے، تو درد بھی، خواب ہے، تو حقیقت بھی، اور رومان ہے، تو فلسفہ بھی۔ یہی ہمہ جہت فکری و تخلیقی مزاج انہیں پشتو ادب کی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
اشرف مفتون ان شاعروں میں شامل ہیں جو شور نہیں مچاتے، مگر دلوں میں دیرپا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا تخلیقی ورثہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ایک حساس شاعر اپنے ذاتی تجربات، اپنے عہد کے مسائل اور اپنے معاشرے کے احساسات کو الفاظ میں ڈھال کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرسکتا ہے۔ وہ جسمانی طور پر 14 مارچ 2004ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے افکار، ان کا تخیل اور ان کا شعری ورثہ آج بھی روشن ہے۔ پشتو شاعری کی تاریخ میں اشرف مفتون کا نام ایک ایسے خاموش، باوقار اور گہرے احساس رکھنے والے رومانوی فلسفی کے طور پر زندہ رہے گا، جس نے محبت کی خوب صورتی اور انسانی کرب کی تلخی، دونوں کو اپنی شاعری میں ایک ساتھ جگہ دی۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔