پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختون خوا میں بولی جانی والی تین علاقائی زبانوں کو مردم شماری میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق سوات سے تعلق رکھنے والے زبیر توروالی سمیت دیگر درخواست گزاروں نے پشاور ہائی کورٹ سے تین نئی زبانوں یعنی توروالی، گاوری اور گوجری کو مردم شماری میں شامل کرنے کی استدعا کی تھی۔ جس پر پشاور ہائی کورٹ نے مذکورہ تین زبانیں مردم شماری کا حصہ بنانے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کی استدعا پر ادارہ شماریات نے عدمِ اعتراض کا اظہار کیا تھا، جس پر پشاور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن منظور کی تھی۔
قارئین، گاوری زبان کالام اور سوات میں بولی جاتی ہے، توروالی بحرین اور کوہستان جب کہ گوجری چترال اور ملاکنڈ میں بولی جاتی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نور الامین یوسف زئی نے کہا کہ زبیر توروالی صاحب اور ان کے ساتھیوں کو اعلا عدالت سے اپنی زبانوں یعنی گجری، گاوری اور توروالی کو مردم شماری میں شامل کرنے کے حق پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اس حوالے سے اس ملک کی محکوم زبانوں کی جد و جہد پر پختون انٹلجینشیا کے مربی محترم حیات روغانے کو زبر دست خراجِ تحسین پیش کرتاہوں، جنہوں نے اس صوبے کی ان تمام زبانوں کے آئینی حق کےلیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا۔ کیوں کہ پاکستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور یہاں موجود زبانیں اس سماج کا حسن اور طاقت ہے۔
شیئرکریں: