فخرِ افغان خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی 35 ویں اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کی21 ویں برسی کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں “باچا خان، ولی خان اور 21 ویں صدی” کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے دونوں شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامور صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ باچا خان غدار نہیں، بلکہ باغی تھے۔ باغی اور غدار میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ کیوں کہ غدار اپنے ملک، قوم، آئین اور اپنے افکار و نظریات کا غدار ہوتا ہے۔ جب کہ باغی اُس ہر سوچ، فکر، پیغام اور نظام سے بغاوت کرتا ہے، جو انسانیت، مصلحت اور جمہوریت کے منافی ہو۔ لہٰذا ان کو غداری کے القابات دینے والوں کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ باچا خان غدار نہیں بلکہ آمریت، تشدد پر اُبھارنے والے نظریات اور سوچ اور فکر کی پرواز کو روکنے والے عقائد کے باغی تھے۔
دوسری بات، ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ باچا خان کافر تھے۔ مَیں دعوے سے کَہ سکتی ہوں کہ باچا خان جیسے پکے مسلمان، اسلام پسند اور محبِ رسولؐ کبھی دیکھا ہی نہیں۔ کیوں کہ باچا خان نے فلسفۂ عدمِ تشدد رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے سیکھی تھی۔ انھوں نے کبھی ریاستِ مدینہ کا نعرہ نہیں لگایا، بلکہ عمل کرکے دکھایا۔
قارئین، عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ہم باچا خان کے دور میں نہیں تھے، مگر باچا خان ہمارے دور میں موجود ہیں اور آج میں یہ طلب کرنا چاہوں گی کہ باچا خان کو پنجاب میں بھی پڑھایا جائے۔
شیئرکریں: