پارلیمانی طرزِ حکومت یعنی جمہوری میں عموماً پارٹی کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں اور جو پارٹی ایوان میں ارکان کی اکثریت حاصل کرلے، وہ اپنا ایک پارلیمانی لیڈر منتخب کرتا ہے جو وزیرِ اعظم کہلاتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس وہ پارٹی یا پارٹیاں جن کے ارکان کی مجموعی تعداد کم ہوتی ہے، حزبِ اختلاف کہلاتی ہیں۔ وہ بھی اپنا ایک پارلیمانی لیڈر منتخب کرتے ہیں جو قائدِ حزبِ اختلاف یا اپوزیشن لیڈر کہلاتا ہے۔
اگر حزبِ اختلاف (اپوزیشن) حکومت کی کار کردگی سے مطمئن نہ ہو اور حکومت گرانا چاہے، تو اس کا آئینی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ جس کے مطابق اپوزیشن حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد (Motion of no confidence) لائے گی۔ ان دنوں پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے کہ حزب اختلاف کی پارٹیاں متحد ہوکر حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور کرانےکی کوشش کررہی ہیں جس کےلیے آئین میں باقاعدہ ایک طریقہ کار درج ہے۔ طریقہ کار کے مطابق وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کےلیے قومی اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہاں نمبرز گیم کی اصطلاح بھی سامنے آ تی ہے جس کا مطلب ہے کہ فریقین کے پاس حکومت گرانے کےلیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔
اس وقت چوں کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کے ارکان کی کُل تعداد 342 ہے، جس کی سادہ اکثریت 172 ارکان کی تعداد بنتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ یہ کارروائی آئین کے تحت ہوتی ہے۔ اس لیے آئینی اُمور کے ماہر اور ممتاز قانون داں قاضی مبین کہتے ہیں کہ تحریکِ عدم اعتماد کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس 2007 کے رول 37 کے تحت ہوگی۔ تحریک پر تین دن سے پہلے اور سات دن کے بعد ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔ یعنی تین سے سات دن کے عرصے میں ووٹنگ ہوگی اور اس ووٹنگ سے پہلے اور بعد میں ایک طویل آئینی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ رولز آف پروسیجر کے تحت تحریکِ عدم اعتماد پر سیکریٹ نہیں ہوسکتی اس لیے ووٹنگ اوپن ہوتی ہے۔ کیوں کہ تحریکِ عدمِ اعتماد کےلیے آئینِ پاکستان میں لفظ “قرارداد” کا استعمال کیا گیا ہے اور رولز آف پروسیجر کے تحت جو ضابطے بنائے گئے ہیں، اس کے مطابق قومی اسمبلی میں کسی بھی قرارداد پر ووٹنگ اوپن ہوگی۔
شیئرکریں: