4 جولائی 2021ء کو گراسی گراؤنڈ مینگورہ میں وطنِ عزیز میں جمہوریت کی بقا کی خاطر ہونے والے پی ڈی ایم جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے “اسٹبلیشمنٹ کے مذہبی ونگ” کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کی بھر پور حمایت کی، جس پر اے این پی نے کھل کر ان کی مخالفت کی جب کہ نام نہاد قوم پرست آفتاب شیرپاؤ اور محمود خان اچک زئی حیران کن طور پر خاموش رہے۔
مَیں نے جب مولانا کی تقریر سنی، تو حیرت میں پڑ گیا کہ ایک طرف مولانا ملک میں جمہوریت کےلیے جلسے جلوس کررہے ہیں، تحریکیں چلاتے ہیں اور دوسری طرف ایک جمہوری اور منتخب حکومت کے خلاف کھڑے ہوکر دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں! کیا یہ منافقت نہیں…؟ لیکن تنہائی میں سوچ کر پتا چلا کہ نہیں، مولانا تو پی ڈی ایم جلسوں میں طالبان کے حمایت کرکے مقتدر حلقوں کو اپنی وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں تاکہ آئندہ حکومت میں ایک دو وزارتیں مل جائیں۔
اب مولانا نے بیس سال بعد جب وزیرستان کا دورہ کیا تو وہاں بھی قبائلی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ایک بار پھر طالبان کی حمایت میں بول اُٹھے۔ جب کہ حکومت کے بجائے اے این پی قیادت کو نشانے پر لے لیا اور تاریخ سے منھ موڑتے ہوئے کچھ من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائیں۔ میں اس تحریر کے ذریعے اپنی ناقص علم کی بنیاد پر مولانا کو حقیقت اور صحیح تاریخ بتانے کی جسارت کرنے کررہا ہوں:
قارئین، 2007ء کو صوبہ خیبر پختون خوا میں ملا ملٹری الائنس (ایم ایم اے) کی حکومت تھی۔ جب ان کے سیاسی امام مشرف نے وادئ سوات میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت طالبان متعارف کروائے تو مولانا کی حکومت پر خطرے کے سائے منڈ لانے لگے۔ انہوں نے مولانا طیب طاہری (پنج پیر) کو ثالثی کےلیے بلایا۔ جب انہوں نے سیدو شریف کے ایک سرکاری آفس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے مسئلہ حل کیا، تو موصوف نے اس وقت کے وزیر اعلا اکرم خان درانی کو فون کرکے کہا کہ “وزیرِ اعلا صاحب! بات بن گئی ہے، طالبان آپ کے ساتھ چلنے کےلیے بالکل تیار ہے۔ وزیرِ اعلا نے فوراً فضل الرحمان کو کال کی اور ہونے والے فیصلے سے آگاہ کیا جس پر مولانا نے اپنی سیاسی آقا پرویز مشرف کو فون کرکے کہا کہ جنرل صاحب، طالبان ہمارے ساتھ چلنے کےلیے تیار ہے۔ جنرل صاحب نے جواباً کہا کہ میں بات بگاڑنا چاہتا ہوں اور آپ صلح کی بات کرتے ہیں۔ جس پر مولانا نے کہا کہ اگر آپ ایک مرتبہ بگاڑنا چاہتے ہیں تو میں دس دفعہ بگاڑنا چاہتا ہوں لیکن بدلے میں مجھے کیا دیں گے…؟ بالآخر بات کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شپ پر آکر رُک گئی اور اکرم خان درانی نے وفاق کو خط لکھ کر کہا کہ سوات میں حالات قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں، لہٰذا فوجی اپریشن کرایا جائے، اور وفاق و صوبائی حکومت کے درمیان “شکئی” نامی معاہدہ طے پایا۔ یوں مولانا نے چیئرمین شپ کی خاطر ہماری اس جنتِ نظیر وادی کو آگ کی دلدل میں دھکیل دیا۔
قارئین، مولانا نے وزیرستان میں کہا کہ اے این پی نے مشرف ریفرنڈم کا ساتھ دیا، یہ بات بالکل من گھڑت، جھوٹ اور تاریخ مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک وزارت کی خاطر مشرف کی گود میں بیٹھنے والا اور دہشت گردوں کا ساتھی کون تھا…؟
اے این پی نے کبھی بھی کسی آمر کی حمایت نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف آمریت کے خلاف اے این پی میدان میں تن تنہا کھڑی رہی۔ جب کہ مولانا صاحب ہمیشہ آمریت کا ساتھ دیتے چلے آرہے ہیں، ان کی ایم ایم اے ڈیل کرتی رہی ہے اور مولانا صاحب آج بھی جا بجا دہشت گردوں کی حمایت کرکے گھومتے پھرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ مولانا اور ان کے نظریاتی ساتھیوں نے چند ڈالروں اور دیگر مراعات کی عوض 80 کی دہائی میں امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے افغانستان کی تباہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
مولانا صاحب، یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ آپ نے کھل کر جلال الدین حقانی اور یونس خالص کی مدد کی، جہاد کے نام پر لڑنے والی جنگ سے فوائد اٹھائے۔ آپ کے ہاتھ ہزاروں پختون افغانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ نصیر اللہ بابر، اسددرانی اور خود مشرف کی کتاب سے واضح ہوچکا ہے کہ طالبان آپ ہی کی پیداوار ہیں۔ کیوں کہ پاکستان، امریکا اور یو اے ای بالواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کو سپورٹ کرتے رہے ہیں اور آپ اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ مشرف دور میں بھی آپ نے طالبان کی حمایت کی۔ سپریم کورٹ کے 2007ء کا فیصلہ بھی یاد رکھا جائے گا جب عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین شکنی میں  ملا ملٹری الائنس (ایم ایم اے) بھی قصور وار تھی۔ سیدھی سادی بات یہ ہے کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر یہ سب کچھ کرکے دس سال تک کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے مزے لیتے رہے۔ آپ لاکھوں بے گناہ افغانیوں کے قتل میں برابر کے شریک ہے۔ افغان قوم تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ سرحد کے آر پار مذہب کے نام پر بہنے والے خون پر آپ تاریخ اور اللہ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔
مولانا صاحب، ہمیں اپنے آندھے پیروکاروں کی طرح تاریخ سے نابلد نا سمجھیں۔ ہمارے اکابرین باچا خان اور خان عبدالولی خان نے سوویت فورسز کی افغانستان میں موجودگی کی کھلی مخالفت کرکے افغان جنگ کو فساد قرار دیا تھا اور پاکستان کو پرائی جنگ میں کودنے سے منع کیا تھا۔ جس پر آپ کے آقاؤں نے انہیں غدار، کافر اور پاکستان مخالف قرار دیا تھا۔ آج بھی اے این پی افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن اور خودمختار افغانستان کی بات کرتی ہے۔
مولانا صاحب، آپ کا یہ لب و لہجہ پختونوں کا شایان شان نہیں، ایک معزز اور تاریخی گھرانے جس نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کی، عقیدے کی سیاست کی، جمہوریت و پارلیمان کی بالادستی کی خاطر تکالیف برداشت کیں، آمریت کے خلاف کھڑی رہی اور جس کی سیاست کی پوری دنیا معترف ہے، کو اس طریقے سے مخاطب کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ افغان جنگ کو بڑھاوا دینے اور اُنہیں نام نہاد جہادی افرادی قوت کس نے فراہم کی…؟ کیا یہ افغانستان کی خودمختاری پر حملہ نہیں تھا…؟ کیا آپ سیاسی اخلاقیات جانتے ہیں…؟ کیوں کہ شکئی معاہدہ اور نیشنل ایکشن پلان دونوں پر آپ کے دستخط موجود ہیں۔ لاکھوں معصوم افغان بچوں کو کس گناہ کی جرم میں شہید کیا گیا…؟ لاکھوں باعزت خواتین کو کیوں بے آبروں کیا گیا…؟ افغان نوجواں لڑکے لڑکیوں کے ارمانوں پر کیوں پانی پھیرا گیا…؟ غریب لوگوں کے گھروں کو کیوں اجاڑا گیا…؟
مولانا صاحب، اگر آپ کو اپنی وزارت سے عوام کی زندگی اور انسانیت عزیز ہوتی، تو شاید آج یہ سوالات جنم نہ لیتے۔
مولانا صاحب، تاریخ کو کبھی مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ پختونوں کی آبادیاں اُجاڑنے، ان کی شناخت اور ان کے وطن کو تباہ کرنے کےلیے بنائے گئے طالبان کی پرورش اور پذیرائی کےلیے آپ اور آپ کی جماعت صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ بقولِ اسلم شاہد!
یہ میری سرزمیں جنت تھی لیکن کچھ شیاطیں نے
اِسے دوزخ بنایا ہے، یہ کیسے بھول سکتا ہوں
اب بات رہی عوامی نیشنل پارٹی کی، تو مولانا صاحب این این پی افغانستان میں کسی فرد یا ریژیم کے ساتھ نہیں بلکہ افغانستان میں دیرپا امن اور جمہوریت کےلیے کل بھی کھڑی تھی، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اے این پی ایک قوم پرست سیاسی جماعت ہے جس کی ساری جدوجہد پختون قوم کے حقوق حاصل کرنے کےلیے ہے۔ اے این پی نسل، رنگ اور جنس سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی علم برداری کا نعرہ لگاتی ہے۔ اسی پاداش میں اس کے قائدین پر پاکستان مخالف اور غداری کے الزامات لگے۔ دین فروش ملاؤں کے ذریعے دین مخالف اور کفر کے فتوے لگائے گئے لیکن وہ اپنے نظریے اور بیانیے کے ساتھ آج بھی میدان میں کھڑے ہیں۔ امن، جمہوریت اور اس مٹی کی خاطر ہزاروں قائدین اور کارکنوں کے جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا، لیکن آج بھی ہر جگہ اپنے اصولی موقف کے ساتھ میدان میں کھڑی ہے۔
مولانا صاحب، یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان میں اگر خانہ جنگی شروع ہوئی تو پاکستان بھی اس آگ کے شعلوں سے نہیں بچے گا۔ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بھی سر پر منڈ لارہا ہے۔ اسی جنگ میں پختون سب سے پہلے ایندھن بنیں گے اور پھر گھر کسی کا نہیں بچے گا۔
_________________________________
محترم قارئین، راقم کے اس تحریر کو آج یعنی 30 جولائی 2021ء کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بار شرفِ قبولیت بخش کرشائع کروایا ہے۔
شیئرکریں: