سفارتی سطح پر وہ سیاسی اقدام جس پر ایک ملک کسی دوسرے ملک سے تحریری طور پر احتجاج کرتا ہے، ڈی مارش (Demarche) کہلاتا ہے۔
باالفاظِ دیگر جب بھی کسی ملک کی جانب سے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے، تو اس کے خلاف سفارتی سطح پر جو تحریری احتجاج ریکارڈ کیا جاتا ہے، اسے ڈی مارش کہا جاتا ہے۔
سینئر سفارت کار عبدالباسط کے مطابق سفارتی سطح پر مداخلت ہمہ وقت ہوتی رہتی ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی مسئلے پر کسی دوسرے ملک پر مداخلت کا الزام عائد کرتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق سفارتی سطح پر مداخلت کے کئی طریقے ہیں۔ کوئی بھی ملک جب ظاہری طور پر کسی دوسرے خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی نیت سے زبانی، مسلح، سیاسی، معاشی یا ثقافتی دباؤ ڈال کر مجبور کرتا ہے، تو اسے غیر ملکی مداخلت کہا جاتا ہے۔ جس سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات پر بظاہر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اسے رسمی کارروائی کے طور لیا جاتا ہے۔
قارئین، یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے سازش کرنے والے ملک کے سفیر کو واپس بھیجا جاتا ہے اور عالمی عدالتِ انصاف، اقوامِ متحدہ یا کسی بھی بڑے سفارتی فورم پر مسئلہ اُٹھا کر اس کے ثبوت عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر غیرملکی سازش کو نہ صرف بے نقاب کیا جا سکے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا جائے کہ وہ بھی متعلقہ ملک سے خبردار رہیں۔

شیئرکریں: