خیبر پختون خوا میں ایک بار پھر "گورنر راج” کی بحث سنائی دے رہی ہے۔ یہ بحث سیاسی اعتبار سے اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کبھی وفاقی حکومت اس راستے کا انتخاب کرتی ہے، تو آئین اس کے لیے کیا طریقۂ کار متعین کرتا ہے … صدرِ مملکت کے اختیارات کہاں تک ہیں … گورنر کا کردار کیا ہوگا … صوبائی حکومت اور اسمبلی کی حیثیت کیا ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گورنر راج کی آئینی مدت کتنی ہوسکتی ہے؟ ان سیاسی سوالات اور اس اقدام کے ممکنہ اثرات پر بحث کسی دوسرے موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ سرِ دست صرف اس سوال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئین پاکستان 1973ء گورنر راج کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
قارئین، پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں "گورنر راج” کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی۔ عوامی اور صحافتی زبان میں جسے گورنر راج کہا جاتا ہے، آئین میں اسے "کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں اعلان” کہا گیا ہے۔ اس کا بنیادی آئینی حوالہ آرٹیکل 234 ہے، جس کا عنوان ہی ’’Power to issue Proclamation in case of failure of Constitutional machinery in a Province‘‘ ہے۔ یعنی آئین کا تصور کسی صوبے پر محض سیاسی یا انتظامی قبضے کا نہیں بلکہ ایسی غیر معمولی صورتِ حال کا ہے جس میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔
آرٹیکل 234 کے مطابق اگر صدرِ مملکت، صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر اس بات سے مطمئن ہوں کہ ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، تو صدر ایک اعلامیہ یعنی Proclamation جاری کرسکتے ہیں۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ اگر پارلیمان کے دونوں ایوان الگ الگ قراردادیں منظور کریں، تو صدر ایسا اعلان جاری کریں گے۔ یوں آئین نے اس غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے ایک مخصوص آئینی طریقۂ کار وضع کیا ہے۔
اس اعلان کے ذریعے صدرِ مملکت صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو ہدایت دے سکتے ہیں کہ وہ صدر کی نمائندگی میں صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات استعمال کرے۔ اس کے علاوہ صدر یہ اعلان بھی کرسکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کے ذریعے یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ اس لیے "گورنر راج” کو محض یہ سمجھنا کہ گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیتا ہے، آئینی تصویر کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا۔ آرٹیکل 234 کے تحت جاری ہونے والے اعلان میں انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات کے حوالے سے مختلف انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
قارئین، یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اعلان کے بعد وزیرِ اعلا اور صوبائی وزراء کی آئینی حیثیت کیا ہوگی؟ آئین میں یہ الفاظ نہیں کہ آرٹیکل 234 کے اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعلیٰ اور وزراء مستقل طور پر اپنے عہدوں سے برطرف ہوجاتے ہیں۔ ماضی میں جاری ہونے والے Proclamation میں اگرچہ وزیرِ اعلا اور وزراء کے اختیارات ختم ہونے یا ان کے عہدوں پر کام نہ کرنے کی بات کی گئی، لیکن سپریم کورٹ نے پیر صابر شاہ بہ نام وفاقِ پاکستان کیس میں اس معاملے کی وضاحت کی۔
1994ء میں صوبہ سرحد جو آج خیبر پختون خوا کہلاتا ہے، میں آرٹیکل 234 کے تحت جاری ہونے والے اعلان کو پیر صابر شاہ نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور معاملہ بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے 07 کے مقابلے میں 02 کی اکثریت سے یہ اصول واضح کیا کہ Proclamation کے دوران میں وزیرِ اعلا اور کابینہ عملی طور پر اپنے اختیارات استعمال نہیں کرسکتے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں مستقل طور پر ان کے آئینی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ Proclamation کے خاتمے کے بعد ان کی آئینی حیثیت بحال ہوسکتی ہے۔ یوں آرٹیکل 234 کو وزیرِ اعلا کو مستقل طور پر ہٹانے کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ آئین نے وزیرِ اعلا کے منصب اور صوبائی حکومت کی تبدیلی کے لیے الگ آئینی طریقۂ کار فراہم کیے ہیں۔
اسی طرح صوبائی اسمبلی کے بارے میں بھی ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ گورنر راج کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت صدر یہ اعلان کرسکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کے ذریعے یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ یعنی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات کے استعمال کا طریقہ تبدیل ہوسکتا ہے، لیکن اسے خود بہ خود اسمبلی کی تحلیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اسمبلی کی تحلیل کے لیے آئین میں الگ طریقۂ کار موجود ہے۔
آرٹیکل 234 کی ایک اور اہم حد عدلیہ سے متعلق ہے۔ اس اعلان کے ذریعے صدر یا گورنر کو ہائی کورٹ کے اختیارات سنبھالنے یا ہائی کورٹ سے متعلق آئینی دفعات کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ملتا۔ دوسرے لفظوں میں، صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کا اعلان ہوجانے کے باوجود ہائی کورٹ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں کام کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر صابر شاہ کیس میں عدالت نے نہ صرف Proclamation کے اثرات کا جائزہ لیا بلکہ اس کے آئینی دائرے پر بھی غور کیا۔
قارئین، اب سوال آتا ہے کہ ایسا اعلان کتنی مدت تک نافذ رہ سکتا ہے؟ آئین اس معاملے میں بھی واضح ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت Proclamation ابتدائی طور پر دو ماہ تک نافذ رہ سکتا ہے۔ اس مدت کے بعد اسے جاری رکھنے کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہے۔ منظوری ملنے کی صورت میں اسے مزید دو ماہ کے لیے جاری رکھا جاسکتا ہے اور آئینی شرائط پوری ہونے پر مزید دو ماہ کی توسیع بھی ممکن ہے، لیکن کسی بھی صورت میں یہ اعلان مجموعی طور پر چھ ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا۔ یوں آئین نے اس غیر معمولی اختیار کے لیے واضح زمانی حد مقرر کردی ہے اور اسے غیر معینہ مدت کے انتظام میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ایک عام سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اگر وزیرِ اعلا اور وزراء اپنے اختیارات استعمال نہیں کریں گے، تو صوبے کا انتظام کون چلائے گا؟ اس کا جواب صوبے کے مستقل انتظامی ڈھانچے میں موجود ہے۔ حکومت کا پورا نظام صرف سیاسی عہدوں پر مشتمل نہیں ہوتا۔ صوبے میں چیف سیکرٹری اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر افسران موجود ہوتے ہیں۔ وزیرِ صحت نہ بھی ہو، تو محکمۂ صحت کا سیکرٹری موجود ہوتا ہے، وزیرِ تعلیم نہ بھی ہو، تو محکمۂ تعلیم کا انتظامی ڈھانچہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح دیگر محکموں کا روزمرہ انتظام افسر شاہی کے ذریعے چلایا جاسکتا ہے۔ صدر یا گورنر انتظامی ضرورت کے مطابق مناسب بندوبست کرسکتے ہیں، لیکن ایسے انتظام کو آئینی مفہوم میں صوبائی کابینہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ آئین کے آرٹیکل 130 میں صوبائی کابینہ کا تعلق وزیرِ اعلا اور صوبائی وزراء کے آئینی ڈھانچے سے ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی فرق بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آرٹیکل 234 کے تحت آئینی مشینری کی ناکامی کا اعلان اور آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت کا اعلان ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ دونوں کے اسباب، آئینی شرائط اور اثرات الگ ہیں۔ آرٹیکل 234 خاص طور پر اس صورتِ حال سے متعلق ہے جس میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے، جب کہ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے۔ اس لیے صوبے میں وفاق کے غیر معمولی اختیارات کے ہر امکان کو محض "گورنر راج” کہنا بھی آئینی طور پر درست نہیں ہوگا۔
آخرکار اصل آئینی سوال یہی ہے کہ کیا واقعی ایسی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے جس میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا؟ محض سیاسی اختلاف، وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی، حکم ران جماعتوں کے درمیان تنازع یا حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف اپنی جگہ سیاسی معاملات ہوسکتے ہیں، لیکن آرٹیکل 234 ایک مخصوص آئینی صورتِ حال سے متعلق ہے۔ اسی لیے اس اختیار کے استعمال کو سمجھنے کے لیے سیاسی بیانات سے زیادہ اہم آئین کا متن، مقررہ طریقۂ کار، پارلیمان کا کردار، صوبائی اسمبلی کی حیثیت، عدالتی نگرانی اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے ہیں۔
چنانچہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج کی موجودہ بحث کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ بنیادی حقیقت ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ آئین پاکستان میں گورنر راج کے نام سے کوئی الگ نظام موجود نہیں۔ جسے ہم عام سیاسی اور صحافتی زبان میں گورنر راج کہتے ہیں، وہ دراصل آرٹیکل 234 کے تحت "صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں اعلان” ہے۔ اس اعلان کے اختیارات بھی مطلق نہیں بلکہ آئین کی مقرر کردہ حدود کے تابع ہیں۔ پارلیمان، عدلیہ، صوبائی اسمبلی اور آئینی اداروں کا اپنا اپنا کردار برقرار رہتا ہے۔
گورنر راج لگنا چاہیے یا نہیں، اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، وفاق اور خیبر پختون خوا کے تعلقات پر اس کے ممکنہ نتائج کیا ہوسکتے ہیں اور ماضی میں اس نوعیت کے اقدامات نے ملکی سیاست کو کس طرح متاثر کیا، یہ سب الگ اور اہم سوالات ہیں۔ لیکن ان سوالات پر کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے آئین کا آرٹیکل 234 سمجھنا ضروری ہے، کیوں کہ گورنر راج کی پوری بحث کا آئینی نقطۂ آغاز یہی ہے۔
شیئرکریں: