دنیا بھر کے کروڑوں لوگ ہر سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کو دیکھتے ہیں۔ نیویارک میں عالمی رہ نماؤں کا اجتماع ہوتا ہے، ایک کے بعد دوسرا سربراہِ مملکت یا حکومتی نمائندہ عالمی سیاست، جنگ، امن، معیشت اور اپنے ملک کے مسائل پر اظہارِ خیال کرتا ہے۔ لیکن اس عالمی منظرنامے میں ایک دلچسپ روایت ایسی بھی ہے جس پر کم ہی لوگ غور کرتے ہیں۔

جنرل اسمبلی کے جنرل ڈیبیٹ میں سب سے پہلے برازیل کا نمائندہ ہی کیوں بولتا ہے … کیا یہ برازیل کا کوئی قانونی حق ہے … کیا اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں اس کا ذکر موجود ہے …. یا اس کے پیچھے کوئی خاص سفارتی معاہدہ ہے؟ قارئین، حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جنرل ڈیبیٹ میں برازیل کا پہلے خطاب کرنا کسی باقاعدہ قانونی حق یا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق کا نتیجہ نہیں۔ یہ دراصل کئی دہائیوں پر محیط ایک سفارتی روایت ہے۔ کیوں کہ اقوامِ متحدہ کے ابتدائی برسوں میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر یہ سوال پیدا ہوا کہ سب سے پہلے کون سا ملک خطاب کرے۔ برازیل نے ابتدائی دور میں متعدد مرتبہ رضاکارانہ طور پر بحث کا آغاز کیا۔ وقت کے ساتھ یہ عمل اتنا معمول بن گیا کہ برازیل کا نام پہلے مقرر کے طور پر تقریباً مستقل ہو گیا۔ یوں ایک وقتی انتظام رفتہ رفتہ پروٹوکول کی روایت بن گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے برازیل کو کوئی ایسا مستقل آئینی حق نہیں دیا کہ وہ ہمیشہ سب سے پہلے بولے گا۔ اگر حالات یا انتظامی فیصلے بدلیں، تو ترتیب بھی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن سفارت کاری میں بعض اوقات روایات قوانین سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔
☆ پھر امریکہ دوسرے نمبر پر کیوں…؟ یہاں کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔ برازیل کے بعد عموماً میزبان ملک امریکہ کو خطاب کا موقع ملتا ہے۔ یعنی دنیا کے سب سے بڑے عالمی سفارتی فورم پر افتتاحی ترتیب میں پہلے برازیل اور پھر امریکہ آتا ہے۔ اس روایت نے ایک خوب صورت سفارتی توازن بھی پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ چوں کہ اقوامِ متحدہ کا میزبان ہے، اس لیے اس کا ابتدائی خطاب فطری اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے پہلے برازیل کا بولنا ایک تاریخی روایت کے طور پر قائم ہے۔
☆ برازیل کو یہ اعزاز کیسے ملا…؟
برازیل اقوامِ متحدہ کے قیام کے ابتدائی مرحلے سے ہی اس عالمی ادارے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے بانی رکن ممالک میں شامل تھا اور اس کی سفارت کاری نے تنظیم کے ابتدائی سالوں میں اہم کردار ادا کیا۔
برازیل کے ایک ممتاز سفارت کار اوسوالدو آرانھا بھی اقوامِ متحدہ کی ابتدائی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ 1947 میں جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ فلسطین کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی کارروائی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے برازیل اور اقوامِ متحدہ کے تعلقات محض رسمی نہیں رہے بلکہ ایک خاص سفارتی شناخت اختیار کر گئے۔
قارئین،1955ء کے بعد یہ روایت مزید مستحکم ہوئی۔ کیوں کہ 1950ء کی دہائی تک یہ معمول خاصا مضبوط ہو چکا تھا۔ 1955ء کے بعد برازیل کا پہلے خطاب کرنا ایک مستحکم سفارتی روایت کی شکل اختیار کر گیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب جنرل اسمبلی کا جنرل ڈیبیٹ شروع ہوتا ہے  تو دنیا کے سفارت کار پہلے ہی جانتے ہیں کہ افتتاحی خطاب برازیل کی طرف سے ہوگا، اس کے بعد میزبان امریکا کی باری آئے گی اور پھر دوسرے ممالک اپنی مقررہ ترتیب کے مطابق خطاب کریں گے۔ یہ ترتیب بظاہر معمولی لگتی ہے، لیکن سفارت کاری میں ایسی روایات کی اپنی ایک علامتی اہمیت ہوتی ہے۔
یوں نیویارک میں ہر سال جب جنرل اسمبلی کا جنرل ڈیبیٹ شروع ہوتا ہے اور برازیل کا نمائندہ سب سے پہلے عالمی برادری سے مخاطب ہوتا ہے، تو دراصل صرف ایک تقریر نہیں ہوتی بلکہ دہائیوں پرانی ایک سفارتی روایت بھی زندہ ہوتی ہے۔
شیئرکریں: