تعلیم ہمیشہ سے اقوام کی تعمیر، شعور کی بیداری اور ترقی کی ضمانت رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا کے نقشے پر اپنا نام برقرار رکھ پاتی ہیں جو قلم اور کتاب کی طاقت کو پہچان لیتی ہیں۔ خیبر پختون خوا کی سرزمین جو دہائیوں تک بدامنی، محرومی اور نام نہاد شدت پسندی کی لپیٹ میں رہی، وہاں تعلیم کی شمع روشن کرنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ یہی وہ چیلنج تھا جسے عوامی نیشنل پارٹی نے قبول کیا اور 2008ء سے 2013ء کے دوران میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر صوبے میں وہ تعلیمی خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔
یہ تعلیمی جدوجہد دراصل خدائی خدمت گار تحریک کے اس عظیم فلسفے کا تسلسل تھی جس کی بنیاد فخرِ افغان باچا خان بابا نے ایک صدی قبل رکھی تھی۔ باچا خان نے اُس دور میں 134 آزاد اسکول قائم کیے جب تعلیم حاصل کرنا جرم سمجھا جاتا تھا اور جہالت کو طاقت کے زور پر مسلط کیا جا رہا تھا۔ انہی تعلیمی کوششوں نے بعد ازاں نیشنل عوامی پارٹی کی فکری بنیاد کو مضبوط کیا اور پھر یہی ورثہ عوامی نیشنل پارٹی تک منتقل ہوا، جس نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسے وسعت دی۔
قارئین، باچا خان بابا کا واضح مؤقف تھا کہ پختون قوم کی پسماندگی کا واحد حل تعلیم ہے۔ انہوں نے بندوق کے مقابلے میں قلم کو ترجیح دی اور علم کو آزادی کا راستہ قرار دیا۔ 2008ء میں جب اے این پی کو اقتدار ملا، تو صوبہ دہشت گردی کی بدترین لہر کی زد میں تھا۔ سکول جلائے جا رہے تھے، اساتذہ کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی منظم کوشش ہو رہی تھی، مگر ایسے حالات میں بھی اے این پی کی قیادت نے یہ عزم کر رکھا تھا کہ وہ بارود کی بو کو کتابوں کی خوشبو سے بدل کر ہی دم لیں گے۔
دستیاب دستاویزات اور تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق اس مختصر دورِ اقتدار میں صوبے بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ایک بے مثال جال بچھایا گیا۔ باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ کا قیام فخرِ افغان کے نام کو علم کے ذریعے زندہ رکھنے کی علامت بنا۔ عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان نے نہ صرف مردان بلکہ بونیر، صوابی اور چترال تک اپنے کیمپسز کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کو عام آدمی تک پہنچایا۔ خوشحال خان خٹک یونی ورسٹی کرک اور سوات یونی ورسٹی جیسے اداروں کا شورش زدہ علاقوں میں قیام اس عزم کا اعلان تھا کہ علم کی روشنی کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
اسی طرح باچا خان میڈیکل یونی ورسٹی مردان کے قیام کے ذریعے طبی اور تعلیمی شعبے کو یکجا کرنے کی ایک انقلابی کوشش کی گئی۔ اسلامیہ کالج پشاور کو یونی ورسٹی کا درجہ دینا، ہری پور یونی ورسٹی، صوابی یونی ورسٹی اور دیر و چترال میں شہید بینظیر بھٹو یونی ورسٹیز کا قیام سیاسی ہم آہنگی اور مشترکہ تعلیمی وژن کی بہترین مثال تھا۔
اعداد و شمار اس تعلیمی انقلاب کی وسعت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد تقریباً ساٹھ برسوں میں خیبر پختون خوا میں صرف 09 یونی ورسٹیاں قائم ہوئیں، جب کہ عوامی نیشنل پارٹی نے محض پانچ سال یعنی 2008ء سے 2013ء کے دوران میں 13 نئی یونی ورسٹیاں قائم کر کے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔ یہی نہیں بلکہ باچا خان کے آزاد اسکولوں کے ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے اے این پی نے صوبے بھر میں 174 نئے ڈگری کالجز بھی قائم کیے۔
اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی۔ سیکڑوں ڈگری کالجز، ہائیر سیکنڈری سکولز اور ہزاروں کی تعداد میں مڈل و پرائمری سکول تعمیر کیے گئے۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں بلکہ ان لاکھوں بچوں کا مستقبل تھیں جنہیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کی منظم کوشش کی جا رہی تھی۔
2008ء سے 2013ء کا عرصہ بلاشبہ خیبر پختون خوا کی تعلیمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو، وژن باچا خان جیسا ہو اور عزم مضبوط ہو، تو وسائل کی کمی اور بدامنی کے باوجود بھی تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ آج اگر انہی علاقوں سے ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور محققین نکل رہے ہیں، تو اس کے پیچھے ان پانچ سالوں کی وہ خاموش مگر عظیم محنت کارفرما ہے جس نے "آزاد مدرسوں” کے خواب کو جدید یونی ورسٹیوں کی حقیقت میں بدل دیا۔
قارئین، یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ تعلیم کا یہ چراغ اسی وقت روشن رہ سکتا ہے جب اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی امانت سمجھا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اس تسلسل کو محفوظ رکھا جائے، وسائل فراہم کیے جائیں اور باچا خان کے فلسفۂ علم کو زندہ رکھا جائے تاکہ خیبر پختون خوا کا ہر بچہ قلم ہاتھ میں لے کر جہالت، غربت اور پسماندگی کے خلاف جدوجہد کر سکے اور دنیا کے ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کر سکے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: