وطنِ عزیز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بننے والے احتجاجی، سیاسی اور انتخابی اتحاد اپنے مقاصد میں مکمل یا جزوی کام یابیوں کے بعد اندرونی خلف شار کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ماضی کے جمہوری ادوار میں ان سیاسی اتحادوں کا مقصد انتخابی کام یابی اور آمریت کے دور میں سویلین حکومت کا قیام اور آئین کی بحالی کا مطالبہ رہا ہے۔
قارئین، پاکستان کی تاریخ کا پہلا سیاسی اتحاد 04 دسمبر 1953ء کو مشرقی پاکستان یعنی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) میں بننے والا انتخابی اتحاد تھا۔ “جگتو فرنٹ” کہلائے جانے والے اس متحدہ محاذ میں چار سیاسی جماعتیں یعنی عوامی لیگ، سرامک کرشک پارٹی، گن تنتری دل اور نظامِ اسلام پارٹی شامل تھیں، جن کے قایدین حسین شہید سہروردی، مولوی فضلِ حق، مولانا عبدالحمید بھاشانی اور مولانا اطہر تھے۔
یہ اتحاد بنیادی طور پر مارچ 1954ء کو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ کو ہرانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس چار جماعتی اتحاد نے اپنے منشور کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں اتنی مقبولیت حاصل کی تھی کہ مسلم لیگ کی بقا ہی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
ان جماعتوں کے قایدین کے ذاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود الیکشن میں 223 نشستیں اس اتحاد نے جیتیں۔ جب کہ مسلم لیگ کے محض 09 امیدواران ہی کام یابی حاصل کر پائے۔ مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر اور بنگال کے سابق وزیرِ اعلا نورالامین ایک طالب علم سے شکست کھاگئے۔ اس شکست کی وجہ سے مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کا درجہ حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگئی۔ کیوں کہ یہ درجہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کم از کم 10 نشستیں حاصل کرنا لازم تھا۔ بالآخر مسلم لیگ نے ایک آزاد رکن فضل القادر چودھری کی حمایت حاصل کی اور پارلیمانی پارٹی کا درجہ پانے میں کام یاب ہوئی۔
انتخابات میں کام یابی کے بعد مولوی فضل حق وزیرِ اعلا بنے، مگر صرف تین ماہ بعد ہی محمد علی بوگرہ کی حکومت نے اُن پر غداری کے الزامات لگا کر صوبے میں گورنر راج لگا دیا۔ “جگتو فرنٹ” میں اقتدار کی اندرونی کش مہ کش اس کے زوال کا باعث بنی۔ گورنر راج کے خاتمے کے بعد عوامی لیگ نے فضل الحق کے خلاف “تحریکِ عدمِ اعتماد” (Motion of no confidence) پیش کر دی۔ یوں 1958ء تک ان چار جماعتوں نے ایک دوسرے کے وزرائے اعلا کو چین سے حکومت نہ کرنے دیا۔
1965ء کے صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کا اتحاد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دوسرا انتخابی اتحاد تھا۔ 16 ستمبر 1964ء کو کونسل مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)، نظام اسلام پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر پارٹیوں نے فاطمہ جناح کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا۔ آمریت کی وجہ سے متحدہ اپوزیشن کی صدارتی امیدوار فاطمہ جناح کو الیکشن میں کام یابی نہ مل سکی۔
مارچ کو ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات میں قد آور سیاسی شخصیات خواجہ ناظم الدین، ممتاز دولتانہ، چودھری محمد علی، مولانا مودودی، مولانا بھاشانی اور خان عبدالولی خان کا انتخابی اشتراک اور اتحاد بھی ایوب خان کی “کنونشن لیگ” کا مقابلہ نہ کرسکا۔ حکومتی جماعت کی 126 نشستوں کے مقابلے میں متحدہ اتحاد کے حصے میں محض 13 سیٹیں آئیں۔ جہاں اس شکست کی دیگر وجوہات تھیں، وہیں ان جماعتوں کے اندر نظریاتی اور سیاسی اختلافات بھی اہم عنصر تھے۔ ان غیر متوقع اور مایوس کن نتایج کے بعد مذکورہ اتحاد کا شیرازہ بھی بکھر گیا۔
پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) وطنِ عزیز میں تیسرا انتخابی اتحاد تھا، جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف قائم ہوا۔ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات اور قومی اتحاد کی تحریک نے مارشل لا کی راہ ہم وار کی۔ پی این اے میں بھی سیاسی اور مذہبی حریف قوتیں شامل تھیں۔
9 جماعتی اس اتحاد میں جہاں جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان مذہبی سیاست کی علم بردار تھیں، تو وہاں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (جب بھٹو حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی، تو بیگم نسیم ولی خان اور شیر باز خان مزاری نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی جو آج کل عوامی نیشنل پارٹی کی شکل میں موجود ہے) اور تحریکِ استقلال کا طرزِ سیاست سیکولر تھا۔ قومی اتحاد میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی جب اس کے سیکرٹری جنرل رفیق باجوہ کی ذوالفقار علی بھٹو سے خفیہ ملاقات کی خبر منظرِ عام پر آئی۔ ان کی پارٹی جمیعت علمائے پاکستان نے اپنی مذہبی حریف جماعتِ اسلامی پر اس معاملے کو غیرضروری طور پر اُچھالنے کا الزام لگایا، جس کی وجہ سے جماعتِ اسلامی اس اتحاد سے الگ ہوئی۔ ضیاء الحق نے پانچ جولائی 1978ء کو کابینہ بنانے کا اعلان کیا، تو پی این اے کے مابین حکومت میں شمولیت پر اختلافات مزید شدت اختیار کرگئے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے پیر پگاڑا کی مسلم لیگ کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پی این اے سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ اور جماعتِ اسلامی نے جب جنرل ضیا کے مارشل لائی حکومت میں شمولیت اختیار کی، تو قومی اتحاد کی باقی جماعتوں نے اپنا راستہ الگ کرلیا۔ 16 اپریل 1979ء کو قومی اتحاد کے وزرا جب کو کابینہ سے نکال دیا گیا، تو پگاڑا لیگ اور جمعیت علمائے پاکستان نے آپس میں اتحاد کرلیا۔ اس اتحاد میں سب سے زیادہ خسارے میں جماعتِ اسلامی رہی، جسے سابق پی این اے کے دونوں دھڑے قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔
قارئین، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آمریت کے خلاف بننے والا پہلا اتحاد 1962ء میں “نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ” کے نام سے قائم ہوا۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی کی وجہ سے اس اتحاد میں اُس دور کی نمایاں سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ اس میں اکثریت مشرقی پاکستان کے سیاست دانوں اور جماعتوں کی تھی۔
این ڈی ایف کے قیام میں مولانا مودودی اور ملک غلام جیلانی نے اہم کردار ادا کیا۔ ایوب حکومت نے “ایبڈو” (Elective Bodies Disqualification Ordinance) کے شکار سیاست دانوں کو اس اتحاد سے دور کرنے کے لیے انہیں قانونی رعایتوں کا لالچ دیا، تو مغربی پاکستان کے ڈھیر سارے راہ نماؤں نے اس اتحاد سے دوری اختیار کرکے اپنے آپ کو قانونی نااہلی سے بچایا۔
اسی طرح 1967ء میں بننے والی “نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ” (این ڈی ایم) ماضی کے این ڈی ایف کا دوسرا جنم تھا۔ ایوب حکومت کے خلاف پارلیمانی نظام کے قیام اور صوبائی خود مختاری کے مطالبے پر بننے والی این ڈی ایم میں اس وقت کی اہم سیاسی قوتیں شامل تھیں۔ مشرقی پاکستان کی سیاسی قوتیں “ون یونٹ سکیم” کے خاتمے پر متفق تھیں، جب کہ مغربی پاکستان کی جماعتوں میں اس مطالبے پر اندرونی اختلافات تھے۔ اسی وجہ سے این ڈی ایم ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی اندرونی کشمکش سے دو چار رہی۔ اس کی نسبت نئی جنم لینے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے عوامی جذبات کا بہتر انداز میں استعمال کیا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں این ڈی ایم کی جماعتیں بجائے کسی انتخابی اتحاد کے، ایک دوسرے کے خلاف میدان میں آئیں۔
قارئین، چھے فروری 1981ء کو ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف قائم ہونے والا اتحاد “تحریک برائے بحالی جمہوریت” (Moment for Restoration of Democracy) حوالے سے منفرد تھا کہ لگاتار چار سال اس کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
مارشل لا کے خاتمے اور 1973ء کے آئین کی بحالی کے مطالبے پر قائم ہونے والے اس اتحاد کی سیاسی انفرادیت یہ تھی کہ ماضی کے دو کٹر سیاسی حریفوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریکِ استقلال نے ماضی کی تلخیوں کے باوجود مشترکہ سیاسی جد و جہد کے معاہدے پر دستخط کیے۔ تحریکِ بحالیِ جمہوریت کی دیگر جماعتوں میں کونسل مسلم لیگ، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، قومی محاذ آزادی، مزدور کسان پارٹی، پاکستان جمہوری پارٹی اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس شامل تھی۔ اختلافات سے بچنے کے لیے اتحاد کی صدارت ہر ماہ تبدیل ہوتی اور تمام جماعتوں کو باری باری اس کی قیادت کا موقع ملتا۔ ایم آر ڈی میں پہلی دراڑ مسلم کانفرنس کے سردار عبدالقیوم کی اتحاد سے علاحدگی تھی۔ وہ مارچ کے مہینے کے لیے اس کے چیئرمین تھے۔ اُنھی دنوں پی آئی اے کے طیارے کے اِغوا کا واقعہ پیش آیا۔اُس کو جواز بناتے ہوئے 21 مارچ 1981ء کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سردار عبدالقیوم نے بحیثیت چیئرمین اتحاد میں شامل جماعتوں کو اپنی تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا کہا۔ ساتھ ہی پیپلز پارٹی کو اتحاد سے نکالنے کا مطالبہ کیا، مگر اتحاد کی دیگر جماعتوں نے اُن کے مطالبے کو مسترد کر دیا، تو اُنھوں نے خود ہی علاحدگی میں عافیت جانی۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے اپنی کتاب “My Political Struggle” (میری سیاسی جد و جہد) میں ان کے اس اقدام کو حکومتی ایما پر 23 مارچ کو ہونے والے احتجاج کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ملکی تاریخ کی اس طویل تحریک میں سب سے زیادہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اصغر خان 16 دنوں تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ نواب زادہ نصراللہ خان اور مولانا فضل الرحمان طویل عرصے تک پسِ دیوارِ زِنداں رہے۔ پی ڈی ایم کے موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی جماعت کے ایک دھڑے کے قاید منتخب ہوئے۔ ایم آر ڈی میں شمولیت کے بعد 24 فروری کو اُنھیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے 4 دن بعد 28 فروری کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی ایک خبر نے ان کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ اصغر خان کے مطابق مولانا سے منسوب یہ بیان نشر ہوا کہ موصوف نے 9 جماعتوں کے اتحاد کی دستاویز پر جے یو آئی کے نمایندے کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں دستخط کیے ہیں۔ تحریکِ بحالیِ جمہوریت کے دوران میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی پنجاب کابینہ میں شمولیت کرنا اہم واقعہ تھا، جو اُس وقت تحریکِ استقلال کا حصہ تھے۔ اصغر خان لکھتے ہیں کہ نواز شریف نے 28 مارچ 1981ء کو اُن کی اہلیہ آمنہ سے ملاقات میں اُنھیں بتایا کہ وہ پنجاب کابینہ میں شمولیت کی پیشکش پر انکار کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اصغر خان کے مطابق ان کی اہلیہ نے انھیں یہ غلطی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
دوسرا واقعہ بے نظیر بھٹو کا طویل نظر بندی کے بعد علاج کے لیے بیرونِ ملک جانا تھا۔
قارئین، ایم آر ڈی تحریک کے دوران میں یعنی 11 اگست 1983ء کو حاجی غلام احمد بلور نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (اب عوامی نیشنل پارٹی) کے جنرل سیکرٹری اور ایم آر ڈی کے چیئرمین کے عہدے سے جب استعفا دے دیا، تو اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان شکوک و شبہات کے سائے مزید گہرے ہونے لگے۔ اصغر خان کے مطابق انھوں نے اس کی وجہ باچا خان بابا کے اس بیان کو قرار دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ “پاکستان پیپلز پارٹی اندرونی طور پر فوجی حکومت سے رابطے میں ہے۔”
ایم آر ڈی میں تحریکِ استقلال اور پیپلز پارٹی میں ڈھیر سارے امور پر اختلافات تھے۔ پیپلز پارٹی اس اتحاد کو آنے والے دنوں میں انتخابی اتحاد میں بدلنے کی خواہش مند تھی، جب کہ اصغر خان اس کے برعکس اپنی ذات اور جماعت کو ضیا الحق اور مارشل لا کا متبادل سمجھتے تھے۔ اس لیے انھیں انتخابی اتحاد میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک موقع پر سیاسی سنسنی میں اس وقت اضافہ ہوا جب تحریکِ استقلال کے سیکرٹری جنرل مشیر پیش امام سے منسوب ایک خبر سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ تحریکِ استقلال نے ایم آر ڈی سے اپنا راستہ الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تمام اختلافات اور شکوک و شبہات کے باوجود یہ اتحاد 1985ء کے انتخابات کے بعد تک قائم رہا اور آہستہ آہستہ غیر موثر ہوتا گیا۔
مشرف کی آمریت کے خلاف دسمبر 2000ء میں ماضی کے سیاسی حریف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے “Alliance for Restoration of Democracy” (اے آر ڈی) قائم کی، جو بعدازاں نواز شریف کے بیرونِ ملک جانے سے غیر فعال ہوگئی۔ 2006ء میں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والا “میثاقِ جمہوریت” (Charter of Democracy) بھی اسی اتحاد کا تسلسل تھا۔ آنے والے دنوں میں دیگر جماعتوں کی شمولیت کے بعد آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ نامی اتحاد تشکیل پایا۔
2002ء کے انتخابات سے پہلے دینی جماعتوں پر مشتمل اتحاد “متحدہ مجلسِ عمل” (ایم ایم اے) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اس اتحاد میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی جیسی اہم دینی جماعتیں شامل تھیں جنھوں نے الیکشن کے بعد خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔ تاہم یہ اتحاد بھی فردِ واحد کے گرد گھومنے کے بعد ختم ہوئی۔
قارئین، نومبر 2007ء میں عام انتخابات کا اعلان ہوا، تو ‘اے آر ڈی” اور “اے پی ڈی ایم اے” کی جماعتوں کے مابین انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے جب کہ مسلم لیگ (ن) نے ابتدا میں اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ 25 نومبر کو نواز شریف کی ملک واپسی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بھی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اے این پی اور جے یو آئی بھی ہم رکاب ہوگئیں جس کے بعد “اے پی ڈی ایم” ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ اس کے بعد پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچک زئی کی قیادت میں پختون، سندھی، بلوچی اور سرائیکی قوم پرستوں نے “The Pakistan Oppressed Nations Movement” (پونم) کے نام سے ایک اتحاد قائم کرلیا۔ اگرچہ یہ سیاسی اتحاد نہیں تھا، لیکن پھر بھی بلوچستان اسمبلی کے انتخابات میں اس اتحاد میں شامل جماعتوں نے ایک دوسرے کے امیدواروں کو سپورٹ کیا۔
2018ء کے عام انتخابات کے بعد عمران خان حکومت کے خلاف 11 جماعتی سیاسی اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مذکورہ اتحاد اپنے قیام کے 7 ماہ بعد ہی زوال کا شکار ہوگیا۔ اتحاد کی دو بڑی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں بڑھتی ہوئی کش مہ کش اور دوریوں نے پی ڈی ایم کے مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا۔
پی ڈی ایم میں دراڑ اس وقت پڑی جب عوامی نیشنل پارٹی نے مذکورہ سیاسی اتحاد سے نکلنے کا اعلان کیا۔
قارئین، ماضی کے اتحادوں اور تحریکوں کے سیاسی واقعات، اختلافات اور مفادات کو مدِ نظر رکھ کر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان میں تاریخ کے علاوہ سیاست بھی اپنے آپ کو دہراتی ہے۔
____________________________
قارئین، راقم کے اس تحریر کو روزنامہ آزادی سوات نے آج یعنی 29 دسمبر 2023ء بروزِ جمعہ کو پہلی بار شرفِ قبولیت بخش کر شایع کروایا ہے۔ ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: