خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار، رحیم شاہ اخون خیل

دنیا میں اگر کوئی عمل خلوص، بے لوثی اور انسانی عظمت کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے، تو وہ خدمتِ خلق ہے۔ یہ وہ مقدس جذبہ ہے جس کے لیے نہ کسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی رہبر کی، کیوں کہ یہ دل کا سودا ہے اور رضا کارانہ طور پر ہی کیا جاتا ہے۔ ایک سچا رضا کار دل سے عہد کرتا ہے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی استطاعت بھر کوشش کرے گا۔ وہ مخلوقِ خدا کی خدمت کرتے ہوئے نہ تھکتا ہے، نہ رکتا ہے، اور نہ ہی اس میں دکھاوے یا نمائش کا شائبہ ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دل میں خوفِ خدا بسائے، انسانیت کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں، اور انہی کے دم سے یہ دنیا خوب صورت اور آباد نظر آتی ہے۔
محتاجوں کے کام آنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، اپاہجوں اور یتیموں کی سرپرستی کرنا وہ نیکیاں ہیں جو معاشرے میں امن و آشتی، انس و محبت اور باہمی اعتماد کے پھول بکھیرتی ہیں۔ ضلع دیر کے معروف سیاسی، سماجی اور روحانی خاندان کے چشم و چراغ رحیم شاہ اخون خیل بھی خدمتِ خلق کے ایسے ہی روشن نمونوں میں شمار ہوتے ہیں، جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
دراز قد، بھاری بھرکم جسم، گھنی داڑھی، مناسب مونچھیں، سر پر ضلع دیر کی روایتی ٹوپی، روشن چہرہ، کشادہ پیشانی، مضبوط بازو، سینہ تان کر چلنے کا انداز، ہر دم لبوں پر سجی مسکراہٹ، کپڑوں سے ہم آہنگ واسکٹ اور ملنے جلنے کا مخصوص انداز، یہ سب ان کی شخصیت کو وقار اور کشش عطا کرتے ہیں، مگر اصل کشش ان کے کردار اور عمل میں پوشیدہ ہے۔
سر رحیم شاہ اخون خیل کی پیدائش ضلع دیر کے تاریخی گاؤں ماندیش میں معروف بزرگ فیروز شاہ اخون خیل کے گھر ہوئی۔ ابتدائی دینی اور دنیاوی تعلیم گھر اور گاؤں کی مسجد میں حاصل کی۔ عصری تعلیم کا آغاز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول خال سے کیا، جب کہ جماعت دوم گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول رباط سے مکمل کی۔ 1970ء میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے کہ کراچی ہجرت کر گئے، جہاں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سی ایم ایس سکول سے میٹرک اور اسی ادارے کے کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔
اعلیٰ تعلیم کے شوق نے مارچ 1982ء میں انہیں امریکہ پہنچایا، جہاں انہوں نے سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں ایم بی اے میں بھی ماسٹرز کی ڈگری اعلیٰ نمبروں سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد منیجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا اور 19 برس تک اسی شعبے میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 2008ء میں سبک دوش ہونے کے بعد اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا، جس میں تاحال مصروفِ عمل ہیں۔
خدمتِ خلق کا جذبہ ان کی فطرت میں رچا بسا ہے۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کا رجحان فلاحی و سماجی سرگرمیوں کی طرف رہا۔ امریکہ میں قیام کے دوران انہوں نے ایک طلبہ تنظیم قائم کی، جو نئے آنے والے طلبہ کی رسہ نمائی اور معاونت کا فریضہ انجام دیتی تھی۔ عملی زندگی میں بھی وہ ہمیشہ فلاحی کاموں میں صفِ اوّل میں کھڑے نظر آئے۔ بقولِ علامہ محمد اقبال:
ہے لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
2010ء میں انہوں نے "خہ بی بی ویلفیئر ٹرسٹ” کے نام سے ایک غیر سرکاری، غیر سیاسی اور غیر منافع بخش فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی، جو آج بھی پوری فعالیت کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارہ امریکہ میں عمومی طور پر اور پاکستان میں بالخصوص لوئر دیر، اپر دیر اور کراچی میں تعلیم، صحت اور کھیل کے میدانوں میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ "سر فاؤنڈیشن” کے نام سے ایک اور فلاحی ادارہ بھی چلا رہے ہیں، جو انہی شعبہ جات میں انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے مکمل طور پر ذاتی وسائل سے چلائے جا رہے ہیں۔ نہ کسی سرکاری امداد کا سہارا ہے اور نہ ہی کسی غیر سرکاری فنڈنگ پر انحصار۔ سر رحیم شاہ اخون خیل نے اپنے کاروبار کی آمدن کا ایک تہائی حصہ مستقل طور پر فلاحی و سماجی کاموں کے لیے وقف کر رکھا ہے، جس کا پچاس فیصد پاکستان میں تعلیم، صحت اور کھیل کے شعبوں پر جب کہ باقی پچاس فیصد امریکہ میں اسلامی مدارس، مساجد اور سکولوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
ایسے لوگ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی پہچان ان کا کردار، ان کی پہچان ان کے اعمال اور ان کی اصل پہچان وہ دعائیں ہوتی ہیں جو دکھی انسانیت کے لبوں سے نکلتی ہیں۔ رحیم شاہ اخون خیل ان خاموش چراغوں میں سے ایک ہیں جو روشنی بانٹتے ہیں، خود نمایاں ہونے کے بغیر۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، لمبی عمر اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اسی خلوص اور لگن سے مخلوقِ خدا کی خدمت کرتے رہیں، آمین۔ جاتے جاتے پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے یہ اشعار موصوف کے نام کرنا چاہوں گا کہ:
پہ جوند کے ھغہ وخت دہ کار شی سڑے
دہ بنیادمو چی پہ کار شی سڑے
دہ خلی خبری وی دہ خلی خبری
سڑے ھغہ چی پہ کردار شی سڑے
__________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔