دنیا میں بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو مثالی طرز حیات رکھتی ہیں۔ اُن کا رہن سہن، ملنا جلنا، اُٹھنا بیٹھنا، بات چیت، لب و لہجہ، اخلاق و تمیز، الغرض شخصیت کا ہر زاویہ بہترین اور بے مثال ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح سیاست کے میدان کا کھلاڑی سب کا ہر دل عزیز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی ترجمان اور ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختون خوا اختیار ولی خان صاحب ہیں۔ جن کو اللہ تعالا نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اُنہوں نے اپنی غیر متزلزل جدوجہد کی خاطر پاکستانی سیاست میں اپنا ایک جداگانہ حیثیت اور مقام بنا رکھا ہے۔
اُن کا بھاری بھر کم جسم اب ایسا بھی نہیں کہ اسے فربہی یا موٹاپے پہ مملو کیا جائے۔ اپنے جسم کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ خاص کر پیٹ تو بالکل نہیں بڑھنے دیتے، شاید اُن کو احساس ہے کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور بڑھا ہوا پیٹ کھبی واپس نہیں آتے۔ لمبے ہاتھ، بازوں تگڑے، سینہ چوڑا، کندھے مناسب اور گھٹی گردن سے قدرے اوپر چہرے کی خدوخال پہ نظر ڈالی جائے تو ان کی سانولی رنگت میں اپنی اِک خاص جاذبیت موجود دکھائی دیتی ہے۔ ہلکی سپید داڑھی اور اسی تناسب سے ہلکی سی مونچھوں کے مابین دو عنابی ہونٹوں پہ ہلکی مسکان سجی رہتی ہے۔ قدرے اُبھرے بادامی گال، متناسب ناک، نرم لب و لہجہ، شیریں گفتار، کانوں میں رس گھولتی آواز اور جھیل ایسی گہری آنکھیں جن پہ کالا فیشن ایبل چشمہ سجائے ان کی شخصیت کو اور بھی پُرکشش بنا دیتا ہے۔ تا ہم سر کے بالوں کی اب وہ نوعیت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ کیوں کہ بظاہر بورے نظر آنے والے بالوں کو غور سے دیکھیں، تو ان میں کہیں کہیں چاندنی چکمتی نظر آتی ہے۔ جو ان کو عندیہ دے رہی ہیں کہ یہ تر و تازہ جوانی اب پختگی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہی ہے۔ وجاہت اور شرافت کا یہ پیکر اپنا ایک کردار اور جداگانہ طرزِ سیاست رکھتے ہیں۔ بہترین اخلاق، تہذیب و تمدن سے بھرپور، علم و ادب کا درخشندہ ستارا اور ایک ایسی شخصیت جس کے چہرے پر مسکراہٹ، جوشیلہ پن، اطمینان و حوصلہ اور اعتماد کا ایک طوفان نظر آتا ہے۔ علاحدہ اخلاق، مِلن ساری اور عوام کے ساتھ شفقت کا ایک منفرد طریقۂ کار رکھتے ہیں۔ جس سے ملتے ہیں، تو اسے اپنا شیدائی بنالیتے ہیں یا اس پر فریفتہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان بھر میں مختلف سیاسی سوچ اور نظریات رکھنے والے لوگ آپ ہی کے شرافت اور اخلاق کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔
قارئین، راقم کو اپنی مختصر سیاسی زندگی میں ڈھیر ساری شخصیات سے ملاقاتوں اور فون پر بات کرنے کے مواقع ملے لیکن موصوف سے فون پر رابطہ اور بات چیت بالکل منفرد رہی۔ چند روز قبل جب ان سے فون پر بات ہوئی، تو پتا چلا کہ جو حلقہ آپ نے حسنِ اخلاق اور کردار سے بنا رکھا ہے، وہ دیگر سیاست دانوں میں کہا…؟
موصوف 1973ء کو نوشہرہ میں مختیار ولی خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی سے حاصل کی جب کہ ایف ایس سی کا امتحان نوشہرہ کالج سے پاس کیا۔ آپ زمانۂ طالب علمی سے ہی پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں۔ دورانِ طالب علمی “مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن” نوشہرہ کالج کے صدر رہے۔ جب کہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور ڈویژن کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مسلم لیگ یوتھ ونگ میں چلے گئے اور اپنے سیاسی استاد خواجہ سعد رفیق کے سیاسی تجربے سے براہِ راست مستفید ہوئے۔
آپ نے 1997ء کے الیکشن میں حصہ لیا لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ اسی طرح 2002ء، 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں بطورِ امیدوار کنارہ کشی اختیار کی، تاہم سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے اپنا ناتا جوڑے رکھا۔ 2018ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے اُترے لیکن سلیکشن کی وجہ سے جیت نہ سکے۔ جب 2021ء کو ضمنی انتخاب کے دوران میدان میں آئے تو سابق وزیرِ اعلا خیبر پختون خوا اور موجودہ وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک کے حمایتی یافتہ امیدوار کو شکست دے کر رُکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔
آپ نے آمریتی دور میں اپنے قائد نواز شریف اور پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا، جس کی وجہ سے اسفندیار ولی خان، اقبال ظفر جھگڑا، انور کمال خان مروت، میاں افتخار حسین اور کئی دیگر قدآور شخصیات کے ساتھ سیاسی جیلیں کاٹ چکے ہیں۔ پارٹی کے ساتھ وفادار ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی تکالیف اُٹھائیں اور صعوبتیں جھیلیں۔ جیل میں ان کی انگلیاں توڑ دی گئیں۔ ناخن نکالے گئے مگر سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے قائد، پارٹی اور موقف پر ڈٹے رہے۔ 32 سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران آپ کو کئی آفرز ہوئیں لیکن نظریہ اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کہا کہ “مَیں جان ہتھیلی پر رکھ کر کھیلنے والا سیاسی کارکن ہوں۔ میرے لیے اسمبلی ہال، صدر بازار اور سنٹرل جیل سب ایک برابر ہیں۔”
بقولِ اسلم شاہؔد!
مَیں جس کا ہاتھ پکڑتا ہوں تھامے رکھتا ہوں
مرا مزاج زمانے سے تھوڑا ہٹ کر ہے
ان کے سیاسی کیرئیر کا مختصر خلاصہ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے تاثرات میں کچھ یوں ملتا ہے: “میں اختیار ولی خان کو 1994ء سے جانتا ہوں۔ اُن کی طویل سیاسی، عوامی اور جمہوری جدوجہد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ آپ ایک منجھے ہوئے، زیرک، بہادر اور وفادار سیاسی کارکن ہیں، جن کا سیاسی سفر 31 برس پر محیط ہے۔ آپ نے جس جواں مردی سے عوامی مسائل کے حل کےلیے بدترین ریاستی تشدد کا سامنا کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ میرا دل گواہی دیتا تھا کہ اختیار ولی کو دنیاوی اسباب کے برعکس ربِ تعالا ان کے طویل سیاسی سفر (خدمت) کا صلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔ کیوں کہ عوامی مسائل کےلیے لڑنا، مکالمہ کرنا، خطاب کرنا اور سب سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں پر محبت کے پھول نچھاور کرنا آپ جیسی ہستیوں کا کام ہیں۔ آپ مسلم لیگ ن کا نہایت ہی قیمتی اثاثہ ہیں جن کا طویل سیاسی جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔”
قارئین، مہذب دنیا میں سیاست نہ صرف عوام کی خدمت کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کو عبادت کادرجہ بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مملکتِ خداداد میں گزشتہ چند سالوں سے کچھ “حادثاتی لیڈران” اس کو بدنام کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر سیاست کی بات کی جائے، تو فوراً ہمارے ذہنوں میں دھوکہ دہی، چالاکی، دوسروں پر کیچڑ اُچھالنا، مخالفین کوکمتر اور نیچا دکھانا آجاتا ہے۔ اس دور میں جہاں عمران نیازی اینڈ کمپنی نے سیاست میں دلائل و براہین کے بجائے گالم گلوچ، الزام تراشیوں اور اپوزیشن کو ہر معاملے میں مؤردِ الزام ٹھہرانا اپنا شیواہ بنا رکھا ہے، تو دوسری طرف کچھ ایسے بااخلاق اور باکردار سیاست دان آج بھی موجود ہیں، جو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کسی غیر اخلاقی تنقید کا جواب ہو، یا پارٹی موقف کا دفاع کرنا ہو، اخلاقیات کے دائرے میں رہ کرتے ہیں، جو کہ فی زمانہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن اختیار ولی خان یہ کام بخوبی نبھا رہے ہیں۔ موصوف ہر تنقید کا جواب اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر نپے تلے انداز سے کرکے پارٹی موقف کا بھرپور دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
آپ ان خوبیوں کے ساتھ ایک باذوق انسان بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ اپنی تقاریر میں بامقصد پشتو اور اُردو اشعار سنا کر سامعین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو سبق بھی دے کر جاتے ہیں۔ ان کا یہ خوب صورت لب و لہجہ اور مثبت رویہ نئی نسل کی سیاست کےلیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک بہترین تعلیمی نظام، پولیس کو حقیقی معنوں میں عوام کی خادم بنانا اور سرکاری ہسپتال کے نظام کو پرائیویٹ ہسپتالوں کے معیار تک لانا آپ کی سیاسی زندگی کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اُن کے بقول: “سیاست میرا کاروبار نہیں، بلکہ شوق ہے، کیوں کہ میں کاروبار سے کما کر سیاست پر لگاتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے حلقے کے لوگ مجھ سے بے پناہ پیار اور محبت کرتے ہیں۔ محبتیں کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہوتی اس لیے مجھے احساس ہے کہ میں صرف نوشہرہ کے نہیں بلکہ خیبر پختون خوا کے ہر مظلوم معاشرتی نا انصافیوں کے شکار طبقے کی آواز ہوں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن اگر اپنے کام اور خدمت کےلیے مجھے آواز دیں گے تو میں لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوں گا کیوں کہ خدمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔”
یہ ضلع نوشہرہ اور بالخصوص حلقہ PK-63 کے عوام کی خوش قسمتی ہی ہے کہ ان کی نمائندگی ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرنے والوں کے بجائے اختیار ولی خان جیسے نڈر، بے باک، مخلص اور ملن سار شخصیت کے ہاتھوں میں ہیں۔ بقولِ شاعر!
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
اگر آئندہ الیکشن میں حلقے کے عوام نے بحیثیتِ نمائندہ ان کو اسمبلی نہ بھیجا، تو یہ اپنے آپ اور حلقے سے زیادتی ہوگی کیوں کہ آپ جیسے ملن سار اور باہمت لوگ قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں۔
اختیار ولی خان کو حال ہی میں بہترین پارلیمانی خدمات اور عوام کی حقیقی ترجمانی کے اعتراف میں “فخرِ پختون خوا” ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
قارئین، وطنِ عزیز پاکستان اور قوم کے ساتھ محبت کا ایسا جذبہ جو بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے، آپ ہی میں نظر آتا ہے۔ بلاشبہ اختیار ولی خان جہاں پاکستانی سیاست میں منفرد مقام رکھتے ہیں، وہیں اپنے حلقے کے عوام کےلیے ایک انمول ہیرا بھی ہیں۔ اس ہیرے کو ملک پاکستان کی ترقی کےلیے استعمال کرنا ہوگا۔ ایسی شخصیات پاکستان کاحقیقی اثاثہ ہیں، جو ذاتی مفادات کے بجائے محض اپنے ملک اور قوم کی ترقی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ربِ کائنات سے دست بہ دعا ہوں کہ وطنِ عزیز پاکستان کو اختیار ولی خان جیسے مخلص راہ نما عطا فرمائیں، آمین!
آخر میں سوشل میڈیا پر وائرل آپ ہی کے اس اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ:
د ظلم او ستم دغہ بازار دی یادلرہ
دا پہ مونگ چی نن کوی دغہ ناتار دی یاد لرہ
متل د پختنو دے چی دنرانو ہرسہ پہ بدل دی
وار مو را روان دے خپل گزار دی یاد لرہ
_________________________________
محترم قارئین، راقم کے اس مضمون کو آج یعنی 06 اگست 2021ء کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بارشرفِ قبولیت بخش کرشائع کروایا ہے۔
شیئرکریں: