طنزیہ انداز میں معاشرتی مسائل اُجاگر کرنے والے نوجوان سمیع اللہ خاطرؔ

انسان کی فطرت میں اظہار کا رجحان ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ جذبات، خیالات اور مشاہدات کو زبان یا عمل کے ذریعے بیان کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس اظہار کے متعدد پیرائے ہیں، اور ان میں سے ایک نہایت دلچسپ اور اہم پہلو طنز و مزاح بھی ہے۔ طنز و مزاح نہ صرف ذہانت اور مشاہداتی صلاحیت کا آئینہ ہے بلکہ معاشرتی تنقید اور اصلاح کا بھی سب سے خوش طعم ذریعہ ہے۔ دنیا کے ہر خطے، ہر زبان اور ہر ثقافت میں یہ خداداد ہنر نظر آتا ہے، جو انسانی فطرت کے جاذب اور لطیف پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔
طنز و مزاح ایک پیچیدہ اور نازک فن ہے، جس کے لیے نہ صرف ذہنی استعداد بلکہ حساسیت، درست ادراک، اور معاشرتی مسائل کی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ یہ فن ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ چند خوش نصیب افراد میں یہ ہنر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے، اور انہی نایاب ہستیوں میں سے ایک سمیع اللہ خاطرؔ ہیں۔
سمیع اللہ خاطرؔ صوبہ خیبر پختون خوا کے زرخیز ضلع دیر لوئر کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا اصل نام سمیع اللہ ہے، جبکہ خاطرؔ تخلص کرتے ہیں۔ مارچ 1984ء میں آپ نے جنم لیا اور والد محترم محمد شیر خان کی سرپرستی میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں جبگئی لوئر دیر سے حاصل کی، مڈل تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بلامبٹ سے مکمل کی اور 2001ء میں میٹرک، 2004ء میں ایف ایس سی اور 2007ء میں بی اے کی ڈگری گورنمنٹ ڈگری کالج تیمرگرہ سے امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔ اس دوران میں آپ نے کالج میں گریجویشن کے شعبے میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی، جو آپ کی علمی قابلیت کا شان دار ثبوت ہے۔
آپ نے بعد میں یونی ورسٹی آف پشاور سے سوشیالوجی میں ماسٹر اور یونی ورسٹی آف ملاکنڈ سے پشتو زبان و ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کی تعلیمی قابلیت اور علمی دلچسپی واضح کرتی ہے کہ سمیع اللہ خاطرؔ صرف طنز و مزاح کے ماہر نہیں بلکہ ایک تحقیقی سوچ کے حامل شخصیت بھی ہیں۔
شاعری اور تحریر کا تعلق آپ کو آٹھویں جماعت میں ہی حاصل ہوا، اور تب سے یہ شوق آپ کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔ آپ نے مختلف معاشرتی اور سماجی مسائل پر کالم لکھے، جن میں "خاطر نامہ” کے عنوان سے روزنامہ آئین، نوائے وقت اور آزادی سوات میں شائع ہوتے رہے۔ آپ کی تحریریں معاشرتی شعور بیدار کرنے، سیاسی و سماجی ناانصافیوں کو اجاگر کرنے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
2010ء سے 2018ء تک آپ نے علاقائی ریڈیو ایف ایم روخان پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جہاں آپ نے طنز و مزاح کے ذریعے عوام کے مسائل کو بہترین انداز میں پیش کیا۔ 2009ء سے آپ مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے بھی منسلک ہیں، لیکن آپ کی اصل شہرت سوشل میڈیا پر ان کے طنزیہ فیک کالز کی وجہ سے ہے۔
سمیع اللہ خاطرؔ کی یہ کالز ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ آپ جب فون پر بات کرتے ہیں، تو ہر لفظ میں طنز و مزاح کی جادوئی آمیزش محسوس ہوتی ہے، جو سننے والے کو نہ صرف ہنسنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ان کا یہ فن محض تفریح تک محدود نہیں، بلکہ عوامی مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچانے اور اصلاح کا پیغام دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
قارئین، ایسے افراد جو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرتی خدمات انجام دیتے ہیں، معاشرے کے لیے بیش بہا سرمایہ ہیں۔ سمیع اللہ خاطرؔ جیسے لوگ طنز و مزاح اور علمی قابلیت کے امتزاج کے ذریعے نہ صرف عوام کی توجہ اہم مسائل کی طرف مبذول کرواتے ہیں بلکہ معاشرتی شعور کو بھی بیدار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ طنز و مزاح محض ہنسی مذاق نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح اور عوامی فہم کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے ہنرمند افراد کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے کام کو فروغ دیں۔ دعا ہے کہ ربِ کائنات سمیع اللہ خاطرؔ کو مزید مہارت، بہترین صحت اور خوشیوں بھری زندگی عطا فرمائے، تاکہ وہ اسی طرح طنز و مزاح کے ذریعے معاشرتی اور سماجی مسائل کی نشان دہی کرتے رہیں اور عوام و اربابِ اختیار کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے رہیں۔
______________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔