وفاق کے ایوانوں میں بلوچستان کے مظلوم طبقات کی توانا آواز اور ان کے حقوق کےلیے جد و جہد کرنے والے ممتاز بلوچ قوم پرست سیاست دان ’’سینیٹر میر حاصل خان بزنجو‘‘ 3 فروری 1958ء کو بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال میں میر غوث بخش بزنجو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ والد میر غوث بخش بزنجو بلوچ قوم پرست راہ نما اور صوبہ بلوچستان کے پہلے گورنر تھے۔ خضدار کی تحصیل نال میں پیدا ہونے والے حاصل بزنجو بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی اجتماعات میں شرکت کرتے رہے۔
ابتدائی تعلیم مڈل ہائی سکول نال سے حاصل کی۔ جب ان کے والد بلوچستان کے گورنر مقرر ہوئے، تو اُس وقت میر صاحب (مرحوم) ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے۔ اُن کا خاندان کوئٹہ منتقل ہوا، جہاں اسلامیہ ہائی سکول سے 1977ء کو میٹرک امتحان جب کہ 1979ء کو گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے 80ء کی دہائی میں کراچی چلے گئے جہاں جامعہ کراچی سے آنرز کرنے کے بعد فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں وہ بی ایس اُو (بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے متحرک طالبِ علم رہے۔ دو بار کراچی یونی ورسٹی سے گرفتار ہوئے۔ 1980ء کو چار مہینوں کے لیے ایم آر ڈی (موومنٹ فار ریسٹورنگ آف ڈیمو کریسی) تحریک کے دوران میں کراچی سے گرفتار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے۔
زندگی میں پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں سیاسی طور پر گرفتار ہوئے۔ کیوں کہ اُن پر الزام تھا کہ اُنہوں نے پیپلز پارٹی کے علاقائی دفتر کو جلایا ہے۔ اس کے علاوہ مشرف دور میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کےلیے جدوجہد کے دوران میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 8 اگست 1988ء کو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
کھیلوں میں فٹ بال اور والی بال سے دل چسپی رکھنے کے ساتھ فلم بینی اور موسیقی کے بھی دل دادہ تھے۔ اس بات کا اعتراف خود کرچکے ہیں کہ 1973ء سے لے کر 76ء تک جتنی بھی پاکستانی فلمیں بنیں، سب دیکھ چکے تھے۔ وحید مراد، ندیم، شبنم اور محمد علی ان کے پسندیدہ اداکار جب کہ احمد رشدی، سہل لتا، مکیش اور کشور کمار ان کے پسندیدہ گلوکار رہے ہیں۔ تاریخ اور سوانح پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ کارل مارکس اور لینن کی شخصیت سے متاثر تھے۔
حاصل بزنجو کے آبا و اجداد ساتھ پشتوں سے بلوچستان میں آباد ہیں۔ اُن کے دادا فقیر محمد بزنجو، محراب خان کے زمانے میں مکران ڈویژن میں 40 سال تک خان آف قلات کے نایب رہے ہیں۔ اُس وقت نایب کی حیثیت گورنر کے برابر تھی۔
سیاست کا عملی آغاز 1970ء کو کیا، جب چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔ اس مقصد کےلیے اُنہوں نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس اُو) کا پلیٹ فارم منتخب کیا۔ 1972ء کو بلوچستان سٹوڈنٹ آرگنائزیشن نال زون کے صدر، جب کہ بعد میں مذکورہ تنظیم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1987ء کو ’’بی ایس اُو‘‘ اور ’’بی ایس اُو (عوامی)‘‘ کا اتحاد ہونے پر اس سے علاحدگی اختیار کرلی۔ جامعۂ کراچی میں قوم پرست اور ترقی پسند طلبہ کے اتحاد ’’یونائیٹڈ سٹوڈنٹس موومنٹ‘‘ کے چیئرمین بھی رہے۔ 1985ء کو تحریکِ بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) میں بھی متحرک کردار ادا کیا۔
1989ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد باقاعدہ طور پر ملکی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا حصہ بن گئے۔ 1990ء کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں رُکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے، جب کہ 1993ء کے عام انتخابات میں اُنہیں شکست ہوئی۔ 1997ء کو بلوچستان نیشنل پارٹی کو چھوڑ کر منحرف اراکین کے گروپ بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہوگئے اور مذکورہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ 2003ء میں اُنہوں نے نئی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2008ء کے عام انتخابات سے بائیکاٹ کیا اور 2009ء کو پہلی بار ایوانِ بالا کے رُکن یعنی سینیٹر منتخب ہوئے۔ وہ 90ء کی دہائی سے وفاق میں پاکستان مسلم لیگ ن کے حامی اور مضبوط اتحادی تھے۔ 2013ء کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مدد سے بلوچستان میں نیشنل پارٹی اقتدار میں آئی اور یوں اس کی قیادت نے قومی توجہ حاصل کی۔ میر صاحب (مرحوم) 2014ء کو اس کے صدر بنے۔ 2015ء کو دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے۔ اس دوران میں وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی بھی رہے۔
نڈر اور باہمت سیاست دان میر حاصل خان بزنجو 20 اگست 2020ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اُن کی وفات سے پاکستانی سیاست میں عموماً جب کہ بلوچستان کی سیاست میں خصوصاً بڑی خلا پیدا ہوئی، جو تادیر محسوس کی جائے گی۔ کیوں کہ ان کی سیاست کے چند پہلو ایسے ہیں، جو انہیں دوسرے سیاست دانوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ مسلح جد و جہد کے برعکس آئینی و جمہوری جد و جہد سے معاشرے کو بدلنے پر یقین رکھتے تھے ۔
آخر میں بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا ان کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
____________________________________
محترم قارئین! راقم کے اس تحریر کو آج یعنی 06 جنوری 2022ء کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بار شرفِ قبولیت بخش کر شائع کروایا ہے۔
شیئرکریں: