خیبر پختون خوا کے علاقے بنوں میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف "بنوں اولسی پاسون” نامی غیر سیاسی تنظیم کے زیرِ اہتمام ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مظاہرے میں ہر شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سفید جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور دہشت گردی کے خلاف زوردار نعرے بازی بھی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بنوں میں جاری تشدد اور ڈالر جنگ کے لیے مزید بے امنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور مطالبہ کیا کہ حکومت دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے بنوں امن مارچ کے شرکاء پر بہ راہِ راست فائرنگ کی گئی ہے، جس میں 20 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ شہادتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فوٹو: ابدالؔی

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بنوں میں جاری تشدد اور ڈالر جنگ کے لیے مزید بے امنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے اور مطالبہ کیا کہ حکومت دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے۔
مظاہرے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا اور شرکاء سے اظہار یکجہتی کیا، اس موقع پر مظاہرین نے دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
شیئرکریں: