چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف تحریکِ انصاف کے مشتعل کارکنوں نے احتجاج کے دوران پشاور میں قایم پاکستان کے تاریخی ریڈیو سٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ جہاں انہوں نے نہ صرف آگ لگا کر ریڈیو سٹیشن کی عمارت کو نقصان پہنچایا، بلکہ سٹیشن میں موجود قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے۔ پشاور میں قایم ریڈیو پاکستان کی عمارت کو تحریکِ انصاف کے مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے بعد آگ لگائی۔ جس سے موجود قیمتی ریکارڈ جل کر خاکستر ہوگیا۔
قارئين، 1935ء میں قائم کیے گئے پشاور کے ریڈیو سٹیشن سے 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کا اعلان پشتو اور اردو زبانوں میں کیا گیا تھا۔ 1965ء کی جنگ ہو یا افغان وار، مذکورہ ریڈیو سٹیشن کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھی ریڈیو پاکستان کا کردار قابلِ ستایش رہا ہے۔ متاثرہ عمارت کا قیام 28 اپریل 1985ء میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا افتتاح اُس وقت کے صدرِ مملکت جنرل ضیاء الحق نے کیا تھا۔ بلڈنگ کی پہلی تین منزلوں میں ریڈیو پاکستان کے دفاتر جب کہ آخری منزل پر سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کا دفتر قایم ہے۔
قارئین، خیبر پختون خوا سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والے شعرا اور ادبا نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پختون تاریخی ورثے کو جلانے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیوں کہ ریڈیو سٹیشن پشاور کو جلانا قومی ورثے کا قتل ہے اور قاتل کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں ہوتا۔ 09 مئی کی رات کو سماج دشمن عناصر نے ریڈیو پاکستان پشاور کے تقدس کو پامال کر کے اسے جلایا، آرکائیوز کو جلا کر خاکستر کیا گیا، پشتو کی تاریخی اور انمول موسیقی، ڈرامے، انٹرویوز، اور تاریخی تصاویر جو کہ پشتو کا قیمتی اثاثہ تھا، کو آگ کی نذر کر کے ختم کیا گیا اور اسے ہمیشہ کےلیے خاموش کر دیا گیا۔
قارئین، نوى ژوند نامی تنظیم کے چئیرمین نسیم مندوخیل نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ریڈیو پشاور کے تاریخی ریکارڈ کو جلانا کھلی دہشت گردی اور سماج دشمن ذہنیت کی عکاسی ہے کیوں کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں اور نہ ہی خاکستر ہونے والا نادر ریکارڈ پھر سے ہمارے ہاتھ آ سکتا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے قومی ورثوں کی جان سے زیادہ حفاظت کی جاتی ہے، مگر جاہل معاشرے میں پڑھے لکھے ہلاکو خان اور چنگیز خان ہی اتنی بڑی قومی خیانت کرتے ہیں۔
شیئرکریں: