وزیرِاعظم کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کو کامیاب بنانے کےلیے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تین حکومتی اتحادیوں یعنی مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) اور ایم کیو ایم پاکستان سے مذاکرات جاری ہیں۔ جن کی قومی اسمبلی میں کُل 17 ارکان ہیں۔ یہ تین جماعتیں اگر اپوزیشن کے ساتھ مل جاتی ہے، تو تحریکِ انصاف اتحاد کی تعداد 179 سے کم ہو کر 162رہ جائے گی جب کہ اپوزیشن اتحاد کی تعداد بڑھ کر 179 ہو جائے گی۔ تحریکِ عدمِ اعتماد کو کامیاب بنانے کےلیے اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
اس وقت قومی اسمبلی میں ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے ارکان کی تعداد 341 ہے۔ حکومتی اتحاد کے پاس 179 ارکان ہیں جب کہ اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد 162 ہے۔ اپوزیشن سے مذاکرات میں مصروف حکومتی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے ارکان کی 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5 اور ایم کیو ایم کی 7 اراکین ہیں۔ ان اتحادیوں کی جانب سے اپوزیشن کی حمایت کی صورت میں یہ17 ووٹ حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائیں گے۔ نتیجتاً حکومتی اتحاد کی تعداد 179 سے کم ہو کر 162ہو جائیگی، جو اس وقت اپوزیشن اتحاد کی تعداد ہے۔
پی ٹی آئی کے موجودہ اتحاد میں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ تین مزید اتحادی جی ڈی اے کے 3، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا ایک ایک رکن شامل ہے۔ جب کہ 2 آزاد ارکان بھی حکومتی بنچ پر موجود ہیں۔
اسی طرح اپوزیشن بنچ میں اس وقت مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، ایم ایم اے کے 15، بی این پی مینگل کے 4، اے این پی کا ایک اور 2 آزاد ارکان شامل ہیں۔
شیئرکریں: