خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی کے علاقے کالو خان سے تعلق رکھنے والے خدائی خدمت گار تحریک کے سرگرم رکن عبدالرحیم آف کالو خان یاد کرتے ہیں کہ جب باچا خان بابا نے "جیل بھرو تحریک” کا اعلان کیا، تو اطلاع ہمیں تھوڑی تاخیر سے ملی۔ لیکن جیسے ہی خبر پہنچی، ہم فوراً صوابی کے کالو خان تھانہ کی جانب روانہ ہوئے تاکہ گرفتاری دینے کے ذریعے اپنے سیاسی اور اخلاقی فریضے کو پورا کریں۔ راستے میں دیکھنا یہ تھا کہ دیگر خدائی خدمت گار بھی قافلوں کی شکل میں تھانے کی طرف بڑھ رہے تھے، جو اس تحریک کے وسیع اثر اور عوامی مقبولیت کا عملی ثبوت تھا۔
تھانہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے ارد گرد چونا ڈال کر ایک وسیع و عریض جگہ قرار دیا گیا، لیکن خدائی خدمت گاروں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ یہ جگہ بھی تنگ پڑ گئی۔ عبدالرحیم مجبوراً دائرے کے باہر بیٹھ گئے، لیکن اپنی ٹانگیں دائرے کے اندر رکھ کر اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ فکری اور اخلاقی طور پر بھی تحریک میں شامل ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ اگر گرفتاری کی فہرست میں ان کا نام نہ آیا، تو لوگ کہیں گے کہ وہ ڈر گئے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ان کا نام باچا خان بابا کے حکم پر رضاکارانہ گرفتاری دینے والوں کی فہرست میں شامل ہوا۔
قارئین، یہ منظر صرف ایک شخص کی ہمت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس میں سماجی قربانی، اخلاقی استقامت، اور سیاسی شعور کی بھی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ باچا خان کے قیادت کے تحت عوام صرف خوف یا الزام کے تحت نہیں بلکہ شعور، رضاکاریت اور حق کی جستجو کے جذبے سے سامنے آتے تھے۔ اس طرح "جیل بھرو تحریک” صرف ایک احتجاجی عمل نہیں تھا، بلکہ ایک سماجی اور سیاسی تجربہ بھی تھا جو فرد کی ذاتی جرات کو اجتماعی جدوجہد میں بدل دیتا تھا۔
قارئین، خدائی خدمت گار عبدالرحیم بابا کی تصویر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بلاگ میں عارضی طور پر دیگر خدائی خدمت گاروں کی تصویر لگائی گئی ہے، لیکن یہ تصویر بھی اس جذبے، قربانی اور سیاسی شعور کی نمائندگی کرتی ہے جو ہر خدمت گار کے دل میں موجود تھا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخی تبدیلیاں صرف قیادت یا بڑے فیصلوں سے نہیں آتیں، بلکہ عوام کی چھوٹی چھوٹی قربانیوں اور اخلاقی حوصلے سے بنتی ہیں۔

شیئرکریں: