عورت ہر روپ میں مقدس ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے عورت کو ہر دور میں کمتر سمجھا گیا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں عورت کے حوالے سے سماجی گھٹن اور مشکلات موجود ہوں، جہاں عورتوں کا ووٹ ڈالنا تک مشکل ہو، جہاں مردوں کی برتری اور عورت گریز سوچ غالب ہو اور جہاں عام حالات میں عورت کا گھر سے نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہو۔ وہاں کسی عورت کا کردار ادا کرنا اور پھر سیاسی میدان میں اپنی حیثیت منوانا انتہائی کم نظر آتا ہے۔
مگر انہی مشکل حالات میں بیگم نسیم ولی خان تاریخ میں ہمیشہ امر رہیں گی۔ انہوں نے ایک طرف خود کو پختون ثقافت کی روایات کے ساتھ انتہائی وقار سے جوڑے رکھا کیوں کہ وہ تعلیم یافتہ، خوش گفتار، بااخلاق اور سلیقہ مند خاتون تھیں، تو دوسری طرف پختون خوا کے سیاسی افق پر تین دہائیوں تک ایک مضبوط اور جان دار سیاسی کردار ادا کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
قارئین، پختون معاشرے میں ہمیں ایسی عورتوں کا تذکرہ مردوں کے مقابلے میں بہت کم ملتا ہے جو سیاسی روپ میں جلوہ افروز ہوئیں۔ بیگم نسیم ولی خان کا سیاسی قد، قومی سیاست میں ان کا متحرک کردار اور پورے پختون خوا کی قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آج بھی پختون معاشرے میں عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ ذہانت اور کردار میں دنیا کے کسی بھی معاشرے کی عورتوں سے کم نہیں۔
تاریخ میں ہمیں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں ایک سکندر یونانی کے خلاف بازیرہ (تلاش کے مقام پر) اساکینوں کے لشکر کی سربراہی کرنے والی ملکہ روشانہ کا ذکر ملتا ہے، جس نے اپنی فراست سے سکندر کے لشکر کو تتر بتر کیا اور اپنی قوم کو بچایا۔ مغلیہ سلطنت کے خلاف لڑنے والے بایزید انصاری کی بہو بی بی الائی کا ذکر ملتا ہے، جس نے مشکل حالات میں پختون قومی لشکر کی میدانِ جنگ میں قیادت کی، جو حسن کے ساتھ بہادری میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ اسی طرح جلال الدین اکبر کے دور میں پختون قبیلہ دلہ زاک کی بہادر خاتون بی بی شابوڑے کا تذکرہ ملتا ہے، جو تنہا مغلوں کے خلاف لڑی۔ ملالہ میوند کا ذکر بھی تاریخ میں نمایاں ہے، جب کہ جدید دور کی آخری مثال نسیم ولی خان ہیں۔
اگر ہم پاکستان بننے کے بعد پختون معاشرے میں کسی عورت کے جان دار سیاسی کردار کو دیکھیں، تو ہمیں صرف ایک ہی نام نمایاں نظر آتا ہے بیگم نسیم ولی خان، جنہوں نے کئی بار بہ راہِ راست مرد حریفوں کو انتخابی میدان میں شکست دی۔
قارئین، بیگم نسیم ولی خان 1936ء میں مردان میں خدائی خدمت گار امیر محمد خان ہوتی کے گھر پیدا ہوئیں۔ وہ اے این پی کے موجودہ سینئر نائب صدر حیدر ہوتی کے والد اعظم ہوتی کی بہن تھیں۔ 1949ء میں جب ولی خان جیل میں تھے، تو دورانِ حراست ان کی پہلی بیوی تاجو بی بی دو بیٹوں کی پیدائش کے وقت وفات پا گئیں، جب کہ ایک بیٹا بھی ساتھ ہی چل بسا۔ زندہ رہنے والا بچہ اسفندیار ولی خان تھا۔ 1954ء میں جیل سے رہائی کے بعد ولی خان کی شادی بیگم نسیم سے ہوئی۔ نسیم ولی خان ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور شادی کے بعد وہ باچا خان کی بہو بنی، جب کہ ولی خان اُس وقت پاکستان کے سیاسی افق کے صفِ اول کے راہ نماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
ولی خان اپنی کتاب "باچا خان اور خدائی خدمت گاری” میں لکھتے ہیں کہ 1975ء میں حیات شیرپاؤ کے قتل کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں انہیں اور نیشنل عوامی پارٹی کی صفِ اول کی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔ نیپ پر دہشت گردی کا الزام لگا کر پابندی عائد کر دی گئی اور حیدرآباد سازش کیس کے نام سے ٹربیونل قائم کیا گیا۔
جیل سے باہر موجود کارکنوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ پارٹی پر دوسری بار پابندی لگی۔ ولی خان سکھر جیل میں تھے اور بیگم نسیم ولی خان ملاقات کے لیے آتی رہتی تھیں۔ ایک بار ملاقات کے دوران میں سی آئی ڈی کا ایک افسر موجود تھا جو اُردو میں بات کرنے پر زور دیتا تھا، مگر ولی خان نے پشتو میں بات کرنے پر اصرار کیا۔ اسی دوران میں بیگم نسیم ولی خان نے تجویز دی کہ ساتھیوں کو منظم رکھنے کے لیے ایک نئی پارٹی بنائی جائے بعد میں غلام احمد بلور اور امیر زادہ خان کے ساتھ مل کر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) قائم کی گئی، جس کے صدر سردار شیر باز خان مزاری اور نائب صدر بیگم نسیم ولی خان منتخب ہوئیں۔
انہوں نے بھٹو حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ 1977ء میں چارسدہ اور مردان سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر بہ یک وقت منتخب ہوئیں مگر تحریک کی وجہ سے حلف نہ اُٹھا سکیں۔ بعد ازاں ضیاء الحق کے دور میں بھی وہ سیاسی طور پر متحرک رہیں۔ 1986ء میں عوامی نیشنل پارٹی کے قیام کے بعد پارٹی کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1988، 1990، 1993 اور 1997ء میں مسلسل صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور 1990ء اور 1997ء میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہیں۔
1998ء میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے تاریخی قرارداد پیش کی اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے جرگے منعقد کیے۔ اُس وقت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر تاریخ نے بیس سال بعد ان کی بصیرت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ وہ 1994ء اور 1998ء میں اے این پی کی صوبائی صدر بھی رہیں۔ ان کے دور میں پارٹی تنظیمی طور پر مضبوط ہوئی اور باچا خان مرکز کی تعمیر ایک تاریخی کارنامہ تھا۔
قارئین، بیگم نسیم ولی خان میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ وہ انتہائی دلیر، سیاسی بصیرت کی حامل، ذہین اور تنظیمی امور پر گہری نظر رکھنے والی خاتون تھیں۔ وہ ہر ضلع کے عہدے داروں کو نام سے جانتی تھیں۔ چار بار بہ راہِ راست ووٹ سے صوبائی اسمبلی پہنچنا پختون معاشرے میں ایک بے مثال اعزاز ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے پختون قومی وحدت کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ پختونوں کے درمیان کسی سامراجی لکیر کو نہیں مانتیں۔
2014ء میں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی (ولی) کے نام سے نئی جماعت بنائی لیکن بعد میں اختلافات ختم کر کے دوبارہ اے این پی میں شامل ہو گئیں۔ وہ ہمیشہ خواتین کے سیاسی کردار کی حامی رہیں اور خود ایک مثال تھیں۔ ان کا ایک بیٹا سنگین ولی خان 2008ء میں وفات پا گیا جب کہ بیٹی ڈاکٹر گلالئی حیات ہیں۔
قارئین، بیگم نسیم ولی خان 16 مئی 2021ء کو ایک بھر پور، جدوجہد سے عبارت اور تاریخ ساز زندگی گزارنے کے بعد اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات نہ صرف پختون سیاست بلکہ پورے ملک کے جمہوری حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ادا کی گئی اور انہیں چارسدہ کے تاریخی ولی باغ میں اپنے شوہر خان عبدالولی خان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ولی باغ جو خود پختون قومی جدوجہد کی علامت ہے، اس عظیم خاتون سیاست دان کی آخری آرام گاہ بن کر مزید تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یوں بیگم نسیم ولی خان جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئیں، مگر ان کی جدوجہد، جرات، سیاسی بصیرت اور وقار ہمیشہ پختون قوم کی تاریخ میں روشن باب کی صورت زندہ رہیں گے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
__________________________________
یہ تحریر بیگم نسیم ولی خان کی برسی کے موقع پر ابدالی ڈاٹ کام کی جانب سے خصوصی طور پر شائع کی جا رہی ہے۔

ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: