پشتو مزاح کی دنیا میں تین نسلوں پر حکم رانی کرنے والے میرواس 1955ء کو صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ کے گاؤں تنگی کے “ملا خیل” نامی محلے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام حیات خان ہیں لیکن پشتو طنز و مزاح، شاعری، پیروڈی، لطیفہ گوئی اور گلوکاری میں “میراوس” کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔
موصوف نے اپنی فن کارانہ زندگی کا باقاعدہ 80 کی دہائی میں آغاز ریڈیو پاکستان (پشاور) سے کیا اور جلد ہی اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنا پر ایک عوامی فن کار بننے میں کام یاب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف بچوں، بزرگوں اور خواتین میں یکساں مقبول تھے اور چار دہائیوں تک ان کی ہونٹوں پہ مسکراہٹیں بکھیریں۔ اب تک ان کی مزاحیہ شاعری اور پیروڈی کی 766 کیسٹس ریکارڈ ہوئیں ہیں، جو پاکستان میں اس وقت ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کئی سالوں تک پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر پیش ہونے والے پروگرام “آباسین” میں بطورِ مہمان شریک ہوتے۔ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اب تک 18 ممالک میں جاکر اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ اسی طرح اپنی انہوں نے اپنے مزاحیہ شاعری اور لطیفوں کا ایک کتاب “خندا پہ ٹوقو ٹوقو کے” بھی شایع کی ہے۔
قارئین، میراوس کے مطابق، ان کے فن کارانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں برونائی دارالسلام کے “مادم تساؤ” نامی عجائب گھر میں ان کا ایک مجسمہ بھی لگایا گیا ہے۔
(پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل کی تصنیف “تاریخِ چارسدہ” مطبوعہ “مفکورہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر پشاور”، صفحہ نمبر 310 سے انتخاب)
شیئرکریں: