تاریخ صرف کتابوں میں درج اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ وہ یادیں، مزار اور وہ مقامات بھی ہیں جو خاموشی سے اپنی داستان خود سناتے ہیں۔ ملاکنڈ خاص میں واقع سبز گنبد والی مسجد کا احاطہ بھی ایسی ہی ایک تاریخی گواہی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جہاں جنگِ ملاکنڈ 1895 کے ایک بہادر مجاہد، سکندر شاہ پاپینی سید (سپین شہید) آسودۂ خاک ہیں۔
اکثر دوستوں کی جانب سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ملاکنڈ خاص میں سبز گنبد والی مسجد کے احاطے میں واقع یہ مزار کس بزرگ کا ہے…؟ دوستوں کی دلچسپی اور تاریخی آگاہی کے پیشِ نظر یہاں اس مزار کے بارے میں مستند معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔
قارئین، یہ مزار سکندر شاہ پاپینی سید کا ہے، جو تاریخ میں سپین شہید کے نام سے معروف ہیں۔ سکندر شاہ پاپینی 1895ء کی مشہور جنگِ ملاکنڈ کے دوران میں انگریز سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے اسی مقام پر شہید ہوئے۔ بعد ازاں، حالات کی نزاکت کے باعث انہیں ملاکنڈ خاص میں سڑک کے کنارے ہی سپردِ خاک کیا گیا اور آج یہی مزار سبز گنبد والی مسجد کے احاطے میں موجود ہے۔
سکندر شاہ پاپینی کا تعلق سوات کے علاقے نجی گرام سے تھا اور وہ حسب و نسب کے اعتبار سے پاپینی سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد کا نام محمد سلطان تھا۔ سکندر شاہ کے تین بیٹے تھے جن میں قیصر شاہ، محبوب شاہ اور حضرت شاہ شامل ہیں۔
راقم (امجد علی اُتمان خیل) نے جب سکندر شاہ بابا کے نواسے ایوب لالا سے رابطہ کیا، تو انہوں نے اس تاریخی واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جنگِ ملاکنڈ 1895 کے دوران میں سکندر شاہ بابا اپنے دو بیٹوں، قیصر شاہ اور محبوب شاہ کے ہم راہ میدانِ جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
جب ملاکنڈ خاص میں شدید لڑائی چھڑ گئی، تو سکندر شاہ بابا نہایت دلیری سے لڑتے ہوئے آخرکار انگریز فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ اسی لمحے ان کے بیٹوں محبوب شاہ اور قیصر شاہ نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے والد کی شہادت کا بدلہ لیا اور ایک انگریز کپتان کو اسی کے پستول سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
بعد ازاں محبوب شاہ اور قیصر شاہ وہ پستول اپنے ساتھ نجی گرام سوات لے آئے، جو آج بھی بہ طورِ یادگار سکندر شاہ بابا کے ایک نواسے عالم زیب خان کے پاس محفوظ ہے۔
ایوب لالا کے مطابق سکندر شاہ بابا کی لاش جنگ کے بعد ملاکنڈ خاص میں ہی موجود رہی، مگر حالات اور عجلت کے باعث محبوب شاہ اور قیصر شاہ کے لیے اپنے والد کی میت نجی گرام لے جانا ممکن نہ رہا۔ چناں چہ انگریز کپتان کو قتل کرنے کے بعد وہ فوراً نجی گرام واپس چلے گئے، اور سکندر شاہ بابا کو وہیں ملاکنڈ خاص میں سڑک کنارے دفن کر دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب بھی کوئی ملاکنڈ خاص سے گزرتا ہے اور اس سبز گنبد والی مسجد پر نظر پڑتی ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس مسجد کے احاطے میں جنگِ ملاکنڈ 1895 کے ایک عظیم مجاہد اور شہید، سکندر شاہ پاپینی سید (سپین شہید) آرام فرما ہیں۔
آخر میں بہ طورِ سند ایوب لالا کا شجرۂ نسب درج کیا جا رہا ہے۔ ایوب لالا بن بختیار پاپین خیل، بن حبیب شاہ، بن محبوب شاہ، بن سکندر شاہ (سپین شہید)، بن محمد سلطان، بن شاہان بابا، بن امیر سلطان، بن سلطان محمود، بن حضرت حاجی یوسف شاہ بابا، بن ملک حاجی دریخان بابا، بن حضرت شالدودین ننگر ہاری۔
سکندر شاہ پاپینی سید کی شہادت اور ان کے خاندان کی قربانیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ آزادی اور غیرت کی تاریخ صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی، بلکہ ایسے گُم نام مگر عظیم کرداروں سے تشکیل پاتی ہے جن کے نقوش آج بھی ہماری زمین، ہماری یادوں اور ہمارے مزارات میں زندہ ہیں۔ ان کا تذکرہ دراصل اپنی تاریخ کو پہچاننے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: