عبدالرحمان خان، استقامت و استقلال کا استعارہ

کچھ لوگ خاموشی سے تاریخ میں داخل ہوتے ہیں، مگر ان کے قدموں کے نشان وقت کی پیشانی پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ عبدالرحمان خان بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ایسے کردار جو شور نہیں مچاتے، مگر نظریے کی شمع کو آخری سانس تک جلائے رکھتے ہیں۔ خدائی خدمت گار تحریک کے سچے وارث اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے سابق صدر عبدالعزیز خان کاکا کے پوتے عبدالرحمان خان کی وفات کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ اہلِ فکر و نظر جانتے ہیں کہ یہ صرف ایک فرد کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کی خاموش رخصتی ہے۔
عبدالرحمان خان کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ دوستوں، رفقا اور نظریاتی ساتھیوں نے اپنے اپنے انداز میں ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ایسے میں دہرانے کے بہ جائے صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ اپنے پیش روؤں کے فکری تسلسل کا مضبوط حلقہ تھے۔ سعید خان خلیل کے بعد جب انہوں نے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کی صدارت سنبھالی، تو قاسم جان مرحوم کے رنگ و آہنگ اور سعید خان خلیل کے نظریاتی ورثے کو ساتھ لے کر ایک ایسا دور رقم کیا جو آج بھی تنظیمی تاریخ کا زریں باب سمجھا جاتا ہے۔
وہ زمانہ محض طلبہ سیاست کا نہیں، بلکہ نظریاتی سیاست کا دور تھا۔ جیسے جمعیت طلبہ اسلام، جماعت اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، اسی طرح پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن عوامی نیشنل پارٹی کی نظریاتی طاقت تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاست وابستگی، قربانی اور نظریے کا نام تھی اور عبدالرحمان خان اسی سیاست کے نمائندہ چہرہ تھے۔
1990ء میں اسی روشن دور پر وہ اندھیری گھڑی آن پڑی جس نے نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کراچی میں تشدد پسندوں کی کلاشنکوف کی ایک گولی عبدالرحمان خان کی ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہو گئی اور وہ عمر بھر کے لیے چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔
معروف کالم نگار اجمل خٹک کشر کے مطابق واقعہ یوں پیش آیا کہ سیوا کنج ہاسٹل، پاکستان چوک میں ایک اجلاس کے بعد جب کریم خان مندوخیل مرحوم کی گاڑی میں کنیا ہاسٹل گلشنِ اقبال کی طرف روانگی ہوئی، تو اجمل خٹک کو یہ کہہ کر رخصت کیا گیا کہ واپسی میں سہولت نہیں ہوگی۔ گاڑی میں اس وقت مرکزی صدر ساجد ترین اور عمر علی شاہ ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ کنیا ہاسٹل کے قریب ہی گھات لگا کر حملہ کیا گیا، پجیرو جیپ کو چھلنی کر دیا گیا۔ باقی ساتھی محفوظ رہے، مگر عبدالرحمان خان کو وہ گولی لگی جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
اطلاع ملتے ہی آغا خان ہسپتال میں کارکنوں اور راہ نماؤں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ ڈاکٹروں نے واضح کر دیا کہ جہاں زخم لگا ہے، وہاں مکمل صحت یابی ممکن نہیں۔ بعد ازاں عبدالرحمان خان اپنے آبائی گاؤں زیدہ، صوابی منتقل ہو گئے۔ پچھلے برس جب راقم پختون خوا گیا، تو سعید خان خلیل اور محمد علی شاہ کے ہم راہ ان کی عیادت کا موقع ملا، یہ ملاقات آخری ثابت ہوئی۔
یہاں اس واقعے کا ایک اہم اور لازمی پہلو بھی شامل کرنا ضروری ہے، جس کی طرف فدا کاکڑ نے توجہ دلائی۔ ملک حمید کاسی اس روز گاڑی میں موجود نہیں تھے بلکہ عبدالرحمان خان سے ملنے کے لیے ہاسٹل کے باہر ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی، ملک حمید کاسی نے اپنی پستول سے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، مگر حملہ آوروں نے پورا برسٹ ان پر مارا، جس کے نتیجے میں انہیں سترہ گولیاں لگیں۔ بعد ازاں جب اجمل خٹک کشر ان کی عیادت کو اسپتال گئے، تو حمید کاسی نے وہ تاریخی جملہ کہا جو مزاحمت کی روح بن گیا کہ "ابھی تو مجھے سترہ گولیاں لگی ہیں، اگر سو بھی لگیں تو جئے ولی کا نعرہ نہیں چھوڑوں گا۔”
عبدالرحمان خان کی عظمت یہاں سے اور واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی معذوری کو کبھی کم زوری نہیں بنایا۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر بھی اسی قافلے کا حصہ رہے جو باچا خان کے عدمِ تشدد، انسان دوستی اور قومی وقار کے اصولوں پر چلتا تھا۔ اے این پی اور پختون کاز سے ان کی وابستگی آخری سانس تک قائم رہی۔ جسمانی طور پر محدود ہو جانے کے باوجود فکری اور نظریاتی طور پر وہ پہلے سے زیادہ مضبوط تھے۔ فکر و نظر، استقامت و استقلال کا یہ استعارہ 17 مئی 2023ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
عبدالرحمان خان اور ان کے خانوادے کی قربانیوں پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، مگر اصل خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کے نظریے کو زندہ رکھا جائے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اُس دنیا میں وہ راحت عطا فرمائے جو اس دنیا میں انہیں نصیب نہ ہو سکی، اور ان کے اہلِ خانہ، رفقا اور پوری خدائی خدمت گار تحریک کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
عبدالرحمان خان چلے گئے، مگر ان کی ہمت، فکر و نظر، استقامت اور استقلال آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، ایک چراغ کی طرح، جو راستہ دکھاتا رہے گا۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔