جب ہم لفظ "کلچک” کی بازگشت سنتے ہیں، تو ذہن کے دریچوں میں ایک ایسے تاریک عہد کا تصور اُبھرتا ہے جہاں سچائی نایاب اور ناانصافی عام ہوتی ہے۔ قدیم فلسفیانہ فکر اور اساطیری روایات کے مطابق یہ وہ زمانہ ہے جس میں نیکی کے چاروں پائے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور معاشرہ محض مادیت کے سہارے کھڑا رہ جاتا ہے۔
کلچک دراصل اس اخلاقی دیوالیہ پن کا استعارہ ہے جہاں رشتے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور طاقت ہی کو حق کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس عہد کی سب سے نمایاں علامت عدل کا فقدان ہے، جہاں منصف بکنے لگتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔ مختلف تہذیبی مفکرین نے اسی لیے تنبیہ کی ہے کہ جب عالم بےعمل، امیر بےفیض اور حاکم بےانصاف ہو جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسانیت اپنے آخری زمانے، یعنی کلچک، کے حصار میں داخل ہو چکی ہے۔
اس دور کا اصل المیہ یہ نہیں کہ یہاں برائی زیادہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ برائی کو ہوشیاری اور سچائی کو نادانی کا نام دے دیا گیا ہے۔ کلچک کی فضا میں ذخیرہ اندوزی، جھوٹ اور مکر و فریب وہ اوزار بن جاتے ہیں جن سے کامیابی کے مینار تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ارسطو نے جب عدل کو ریاست کی روح قرار دیا تھا، تو شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جہاں روح نکال لی جائے گی اور محض ایک کھوکھلے ڈھانچے کو "نظام” کا نام دے کر پوجا جائے گا۔
آج کے ملکی حالات اور عالمی تناظر میں جب ہم ناانصافی کا غلبہ دیکھتے ہیں جہاں غریب کے لیے قانون کی سختی اور طاقتور کے لیے رعایت کا اصول کارفرما ہے، تو یہ سب کلچک کے اسی اثر کی گواہی دیتے ہیں، جہاں ضمیر کی آواز مصلحتوں کے شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔
تاہم کلچک کی اس بھیانک تصویر کا ایک پہلو امید سے بھی روشن ہے۔ تاریخِ فکر کا مسلمہ اصول ہے کہ جب اندھیرا اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، تو وہیں سے نئی صبح کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر کلچک آخری زمانہ ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ اب اس بوسیدہ نظام کی بساط لپیٹی جانے والی ہے۔ اس تاریک دور میں چراغِ راہ وہی لوگ ہیں جو ناانصافی کے سیلاب کے سامنے سدّ سکندری بن کر کھڑے ہوتے ہیں، جو انفرادی اصلاح کو کلچک کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ نظام کی نوحہ خوانی اسی وقت بامعنی ہوگی جب ہم خود کو اس کلچک کا حصہ بننے سے بچائیں گے۔ اگر ہم اپنے حصے کا انصاف کرنا شروع کر دیں، تو یہی آخری زمانہ ایک نئی اور روشن منزل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
اس کلچک کا پہلا اور سب سے بنیادی حل انفرادی بغاوت ہے لیکن یہ بغاوت سڑکوں پر نکلنے سے پہلے اپنے اندر کے اس ذخیرہ اندوز، مفاد پرست اور کرپٹ انسان کے خلاف ہونی چاہیے جو نظام کی خرابی میں برابر کا شریک ہے۔ جب تک ایک عام شہری رشوت کو سہولت اور جھوٹ کو ضرورت سمجھنا نہیں چھوڑے گا، اس وقت تک نظام کی کایا پلٹنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔
سیاسی سطح پر اس کا حل ادارہ سازی میں پوشیدہ ہے۔ کلچک جیسے عہد میں شخصیات کے سہارے کے بہ جائے ایسے خود مختار اداروں کی ضرورت ہے جو کسی بھی طاقتور کے سامنے جھکنے سے انکار کر سکیں۔
دوسرا اہم حل تعلیمی ایمرجنسی ہے، مگر وہ تعلیم نہیں جو صرف ڈگریاں بانٹے، بلکہ وہ جو شعورِ عدل پیدا کرے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنا ہوگی جو کلچک کی مصنوعی چمک دمک اور مادی ہوس کو رد کرتے ہوئے خیر، سچ اور انسانیت کو اپنا شعار بنائے۔
یاد رہے، حل حکومتوں کی تبدیلی میں نہیں بلکہ قدروں کی تبدیلی میں ہے۔ جس دن ہم نے بہ طورِ قوم یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم ناانصافی کے اس بہاؤ کا حصہ نہیں بنیں گے، اسی دن کلچک کا جادو ٹوٹ جائے گا اور انصاف کی وہ منزل قریب آ جائے گی جس کا خواب ہم مدتوں سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔
_________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
