دنیا بھر کے مذاہب و اساطیر میں جہاں خدا یا خدائی توانائی کا تصور تواتر سے موجود ہے وہاں آخرت اور اس کے نشانیوں کے تصورات بھی موجود ہیں۔ آخرت کے تصورات میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ اخرت سے پہلے برائی دنیا پر چھا چکی ہوگی اور اچھائی کے کردار اس برائی یا اس برائی کے ذمہ دار کرداروں کو شکست دے کر دنیا میں پھر سے اچھائی کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے بعد کیا ہونا ہے، اس کے میں بہرحال اختلاف پایا جاتا ہے
نورس (Norse mythology) میں آتا ہے کہ دنیا کے اختتام کے نزدیک (Ragnarok) کی جنگ لڑی جائے گی جس میں ووڈن کا بیٹا ودار (Vidar) دیوہیکل (Fenrir) نامی بھیڑیا کو شکست دے کر دنیا کو بچائے گا۔
ہندو اساطیر میں بگوان وشنو کا اخری اوتار کلکی (Kalki) آئے گا اور kali yuga (برائی، افراتفری اور اندھیرے کے صورت حال) کو شکست دیں کر اچھائی کو بحال کریں گا اور اس سے نئے سنہرے دور کا اغاز ہوگا۔
زردشتی اساطیر میں سوشیانت (Saoshyant) آخری وقتوں میں آکر دنیا میں انصاف اور اچھائی کی تجدید کریں گا اور برائی کو شکست دے گا۔
بدھ مت اساطیر میں گوتما بدھا کا جانشین میتریا (Maitreya) ائے گا اور روحانی تعلیمات سے انسانیت کو اذیت اور تکالیف سے آزاد کرکے امن اور نروان کے جانب لے جائے گا۔
یہودیت میں داود کے قوم سے یہودی بادشاہ جسے (Mashiach) یا (Messiah) بھی کہا جاتا ہے، آئے گا اور یہودیوں کو بچا کر ان میں امن اور انصاف قائم کرے گا۔
عیسائیت میں حضرت عیسٰی کا خود دوبارہ ظہور ہوگا۔ یعنی عیسائیت کا (Savior figure) حضرت عیسٰی علیہ السلام خود ہے۔
اسلام میں امام مہدی کے بارے میں یہی تصور پایا جاتا ہے۔ اور پھر حضرت عیسٰی کے دوبارہ ظہور کا تصور پایا جاتا ہے جو برائی یعنی “دجال” کے مخالف لڑے گا اور مسلمانوں کے حق میں اسے شکست دے گا۔
قارئین، اجتماعی طور پر کارل یونگ کے (Archetype) ہمیں سمجھاتی ہے کہ ایسے عقائد کے پیچھے ہمارا اجتماعی لاشعور (Collective unconscious) ہوتا ہے جس کا ظہور ایسے (Archetypes) کے شکل میں ہوتا ہے جو انسانوں کی شریک تجربات اور خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ وہ عالم گیر اور بنیادی تصاویر اور سمبلز ہوتے ہیں جو ہمارے نفس میں مزمن یعنی پختہ ہوتے ہیں۔ جیسے خدا کا (Archetype) اس خواہش کی نمایندگی کرتا ہے کہ انسان ابدیت حاصل کرلیں اور موت کو شکست دیں۔ اسی طرح یہ ہیرو (Archetype) ہمارے اس اندرونی تبدیلی کی تمنا کی نمایندگی کرتا ہے جس میں ہم اپنے موجودہ حالت کو پار کرنا چاہتے ہو، وجود کو زندگی پر قابض کرنا چاہتے ہو۔
قدیم انسانوں کو ہمیشہ یہ خطرہ لاحق ہوتا کہ نہ جانے کب ان کی اجتماعی زندگی قدرتی آفات (سیلاب، طوفان، قحط وغیرہ) کے باعث موت سے دوچار ہوجائے جنہیں (موت سمیت) برائی سمجھا جاتا۔ ہر برائی شیطان یا برے دیوتاؤں کے  کھاتے میں ڈالی جاتی اور ہر اچھائی پر اچھے دیوتاؤں کو سراہا جاتا۔ ان کی خوش نودی کے لیے انسانوں، جانوروں اور کھانے کے دیگر چیزوں کی قربانی دی جاتی۔ پھر موت کے بارے لاعلمی سے پیدا شدہ خوف اور زندہ رہنے کی خواہش بھی انہیں دیوتاؤں کو پوجنے اور ایسے کہانیاں گڑنے پر مجبور کرتے جو ان کی نفسیاتی خوف اور غیر یقینیت کا آزالہ کرتی۔ ان کے خیال میں جب برائی اچھائی پر مکمل طور پر غالب آجائے، تو ان کے دیوتا برائی سے دنیا اور انہیں بچانے کے لیے یا تو خود برائی سے لڑیں گے یا پھر اچھائی کے اخری نجات دہندگان (Last saviors) کو نازل کریں گے جو انہیں برائی سے نجات دلا کر دنیا اور ان کی زندگیوں کو نیا موڑ دیں گے۔ برائی کے غالب آنے کا یہ اجتماعی خوف اور اس کا اجتماعی تجربہ ہی ہے جو بطور (Archetype) انسانوں کے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن مختلف اساطیر و مذاہب میں مختلف انداز سے نظر آتی ہے۔
____________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: