کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں، وہ اپنے وقت کی پہچان، اپنے خطے کی آواز اور اپنے لوگوں کی اُمید بن جاتی ہیں۔ ان کا ذکر صرف تعارف نہیں بلکہ تاریخ کا حوالہ بن جاتا ہے۔ خیبر پختون خوا، بالخصوص صوابی کی سیاسی و سماجی تاریخ میں اگر کسی ایک نام کو احترام، اعتماد اور خدمت کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا، تو وہ بلا شبہ مختیار خان ایڈووکیٹ ہیں جنہیں عوام نے بجا طور پر "محسنِ صوابی” کا نام دیا۔
دراصل مختیار خان ایڈووکیٹ کی کثیرالجہتی شخصیت کا مکمل احاطہ ایک تحریر، ایک کتاب یا چند کالموں میں ممکن نہیں۔ ان کی ہمہ گیر خدمات، نظریاتی استقامت، عوامی سیاست اور تعمیری کردار ایسا ہمہ جہت موضوع ہیں جن پر بہ آسانی ایک نہیں بلکہ متعدد تحقیقی مقالے تحریر کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایک کالم میں اگر ان کے کردار کی جھلک دکھائی جائے، تو یہ بھی تاریخ کے ساتھ ایک دیانت دار مکالمہ ہوگا۔
خیبر پختون خوا کی سیاسی و سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض افراد نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی علامت بن جاتی ہیں۔ مختیار خان ایڈووکیٹ کا شمار انہی درخشاں ناموں میں ہوتا ہے جنہوں نے قانون، سیاست اور عوامی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ ایک ایسے سینئر سیاست دان اور سینئر قانون دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کے لیے آواز بلند کی۔
بہ طورِ وکیل، مختیار خان ایڈووکیٹ نے انصاف کے ایوانوں میں وہ کردار ادا کیا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ ان کی وکالت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک نظریہ رہی، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کا نظریہ۔ ان کی شخصیت میں قانون کی سختی کے ساتھ انسان دوستی کی نرمی بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ عوام میں ایک ہم درد، دیانت دار اور قابلِ اعتماد رہ نما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ان کی سیاست بھی اسی اصولی سوچ کا تسلسل ہے۔ وہ اقتدار کی سیاست کے بہ جائے خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوابی کے عوام انہیں محض نمائندہ نہیں بلکہ اپنا محسن سمجھتے ہیں، ایسا محسن جو وعدوں کے بہ جائے عمل پر یقین رکھتا ہے۔
مختیار خان کا تعلق کسی عام سیاسی خاندان سے نہیں بلکہ ایک ایسے خانوادے سے ہے جس نے تحریکِ آزادی، پختون تشخص اور عدمِ تشدد کی سیاست میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ ان کے آبا و اجداد نے خان عبدالغفار خان (باچا خان بابا) کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر قید و بند، مظالم اور قربانیوں کا سامنا کیا، مگر اپنے نظریات سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
یہ خاندان پختون قوم پرستی، جمہوریت اور عوامی خدمت کی زندہ مثال ہے۔ قید و سلاسل، تشدد اور ریاستی جبر کے باوجود ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ یہی نظریاتی ورثہ مختیار خان کو منتقل ہوا، جسے انہوں نے نہ صرف سنبھالا بلکہ نئی نسل تک منتقل بھی کیا۔ آج بھی وہ اور ان کا خاندان عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے پختونوں کے حقوق، وسائل اور شناخت کی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔
مختیار خان ایڈووکیٹ کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی وابستگی نے انہیں عوامی نیشنل پارٹی کا قابلِ فخر سرمایہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی قیادت نے بارہا ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں خیبر پختون خوا اسمبلی کے لیے ٹکٹ دیا اور عوام نے اس اعتماد پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ صوابی کے عوام نے بار بار انہیں اپنا نمائندہ منتخب کر کے ثابت کیا کہ مختیار خان کی سیاست کھوکھلے نعروں پر نہیں بلکہ عملی خدمت پر مبنی ہے۔
وہ اسمبلی کے اندر ہوں یا باہر، مختیار خان ایڈووکیٹ نے ہمیشہ پختون عوام کے اجتماعی مسائل یعنی تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ ان کی سیاست میں ذاتی مفاد نہیں بلکہ قومی مفاد نمایاں رہا۔
اگر صوابی کی تاریخ میں تعلیمی و سماجی تعمیر کا ذکر آئے، تو مختیار خان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ ان کی قیادت میں صوابی میں نصف درجن سے زائد بوائز اور گرلز ڈگری کالجز، درجنوں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولز، صحت کے اہم ادارے اور متعدد انفراسٹرکچر منصوبے ممکن ہوئے۔
خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ایک قدامت پسند سماج میں تعلیمِ نسواں کو فروغ دے کر انہوں نے پختون معاشرے کو ایک روشن سمت دی۔ اس تعلیمی وژن کا عملی اظہار یونی ورسٹی آف صوابی کی صورت میں سامنے آیا جو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔
مختیار خان ایڈووکیٹ کی خدمات کو الفاظ میں مکمل طور پر سمیٹنا ممکن نہیں۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک سوچ اور ایک تسلسل ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر سیاست خلوص، نظریے اور عوامی خدمت سے جڑی ہو تو معاشروں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔
میں بہ طور اہلِ صوابی، اپنے محسن، محسنِ صوابی مختیار خان ایڈووکیٹ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان کی جدوجہد، قربانیاں اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مختیار خان جیسے رہ نما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو نہ جھکتے ہیں، نہ بکتے ہیں، اور نہ تھکتے ہیں۔ آج کے سیاست زدہ دور میں ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصول، نظریہ اور عوامی خدمت اب بھی زندہ اقدار ہیں، بہ شرط یہ کہ نیت صاف اور راستہ درست ہو۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ صوابی اور پختون قوم نے ایک ایسے فرزند کو جنم دیا جس نے اپنی پوری زندگی قوم، مٹی اور انسانیت کے نام کر دی۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی اور طویل عمر عطا فرمائے،
آمین۔
____________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: