برِصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 1928ء کا سال کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، مگر انہی ہنگامہ خیز اور فیصلہ کن ادوار کے درمیان ایک ایسا خاموش مگر دور رس انقلاب بھی جنم لے رہا تھا جس نے آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرنی تھی۔ یہ انقلاب 11 مئی 1928ء کو سردریاب، چارسدہ سے اُس وقت برپا ہوا جب بانیِ خدائی خدمت گار تحریک خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا نے پشتو زبان کے پہلے باقاعدہ اور منظم فکری رسالے "پختون” کا اجرا کیا۔

ابتدا میں یہ رسالہ ہفتہ وار شائع ہوتا تھا، جو بعد ازاں ماہانہ صورت اختیار کر گیا، اور آج تک اپنی فکری روایت کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ "پختون” محض ایک ادبی جریدہ نہیں تھا، بلکہ ایک ہمہ جہت فکری تحریک، شعوری بیداری کی منظم کوشش اور پختون معاشرے کو علم، سیاست اور قومی آگہی سے ہم کنار کرنے کا ایک سنجیدہ منصوبہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رسالہ پختون قومی تحریک کا فکری، ادبی اور نظریاتی چہرہ بن کر اُبھرا۔
یہ پشتو زبان میں شائع ہونے والا پہلا ایسا منظم اور نظریاتی مجلہ تھا جس نے پشتو صحافت، ادب اور سیاسی شعور کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اس سے قبل پشتو زبان میں رسالہ نویسی کی کوئی مضبوط روایت موجود نہیں تھی۔ اس اعتبار سے "پختون” پشتو صحافت کا پہلا چراغ ثابت ہوا، جس نے نہ صرف زبان کو ایک مستحکم ادبی بنیاد فراہم کی بلکہ ایک پوری نسل کو سوچنے، سمجھنے، سوال اُٹھانے اور اپنے حالات کا تنقیدی جائزہ لینے کا حوصلہ بھی عطا کیا۔
پختون میگزین کے اجرا کا بنیادی مقصد پختونوں کو علم، فہم اور شعوری بیداری کی راہ پر گام زن کرنا تھا۔ یہ رسالہ پختون قومی تحریک، خدائی خدمت گار تحریک کے فلسفے اور برِصغیر میں جاری آزادی کی جدوجہد کا فکری ترجمان بن کر سامنے آیا۔ سیاست، سماج، تعلیم، تاریخ، خواتین کے مسائل، شعر و ادب، کوئی ایسا موضوع نہ تھا جسے "پختون” کے صفحات پر جگہ نہ ملی ہو۔ یوں یہ رسالہ ایک جامع فکری دستاویز کی صورت اختیار کر گیا۔
خدائی خدمت گاروں کی بے لوث محنت اور نظریاتی وابستگی نے اس رسالے کو محض ایک اشاعتی سرگرمی تک محدود نہ رہنے دیا بلکہ اسے ایک مکمل فکری درس گاہ بنا دیا۔ اس کے صفحات سے وہ سیاسی شعور جھلکتا تھا جس نے پختونوں کو انگریز استعمار کے خلاف منظم اور پُرامن جدوجہد پر آمادہ کیا۔ پختون میگزین ہی وہ فکری آغوش تھی جس نے پشتو ادب کو ایسے حساس، نبض شناس ادیب، شاعر اور دانشور عطا کیے جنہوں نے آگے چل کر قوم کی فکری رہ نمائی کی اور ادب و سیاست دونوں میدانوں میں اپنی بصیرت کا لوہا منوایا۔
اس رسالے کی ایک نمایاں اور تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس نے پشتو ادب اور سیاست میں خواتین کی شمولیت کے دروازے کھولے۔ خواتین لکھاریوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے اسی پلیٹ فارم سے اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا، ایسے دور میں جب عورت کی تعلیم اور تحریر کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور یہ سوچ عام تھی کہ:
سبق د مدرسی وئی، د پارہ د پیسہ وئی
پہ جنت کے بہ يی زائے نہ وی
پہ دوزخ کے بہ غوپی وئی
آج پشتو ادب میں جو توانا نسائی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ان کی فکری جڑیں بھی "پختون” میگزین ہی سے جا کر ملتی ہیں۔ احمدی بانڈہ، کرک کی “الف جان خٹکہ” جیسی مثالیں آج بھی اس رسالے کی روشن اور بصیرت افروز روایت کی علامت ہیں۔
پشتو زبان کے معروف محقق اور شاعر پروفیسر ڈاکٹر نورالامین یوسف زئی کے مطابق 1928ء میں محض ایک ہی ماہ کے دوران میں "پختون” کے 2800 نسخے فروخت ہوئے، جو اُس دور کے لحاظ سے ایک غیر معمولی کام یابی تھی۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف رسالے کی مقبولیت کا ثبوت ہیں، بلکہ خدائی خدمت گار تحریک اور اس کے فکری پیغام کی عوامی پذیرائی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

ابتدا میں یہ رسالہ ہفتہ وار شائع ہوتا تھا جو بعد ازاں ماہانہ صورت اختیار کر گیا۔
فوٹو: ابدالؔی

اپنی طویل تاریخ میں پختون میگزین نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ آزادی، حقوق اور قومی شعور کی بات کرنے کی پاداش میں اس رسالے کو مختلف ادوار میں بھاری قیمت بھی چکانا پڑی۔ تقسیم سے قبل اور تقسیم کے بعد، مختلف حکومتوں کے ادوار میں اسے ریاستی جبر، پابندیوں اور سنسرشپ کا سامنا رہا۔ اس کی اشاعت بارہا روکی گئی، نسخے ضبط اور نذرِ آتش کیے گئے، مگر "پختون” ہر بار پہلے سے زیادہ عزم اور ولولے کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوا، یہی اس کی فکری طاقت کا اصل ثبوت ہے۔
باچا خان خود اس رسالے کے پہلے چیف ایڈیٹر تھے۔ بعد ازاں یہ ذمہ داری خدائی خدمت گار رہ نماؤں عبدالخالق خلیق اور مہدی شاہ باچا نے نبھائی۔ خان عبدالولی خان اور ان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان بھی ایک عرصے تک اس کے چیف ایڈیٹر رہے۔ رحمت شاہ سائل، حیات روغانی اور ساجد ٹکر کے بعد، گزشتہ ماہ اس عظیم فکری امانت کی ذمے داری ڈاکٹر سجاد ژوندون کے سپرد کی گئی۔
ڈاکٹر سجاد ژوندون نہ صرف پشتو ادب میں گولڈ میڈلسٹ ہیں بلکہ سیاست، تاریخ، زبان اور شعر و ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ تاریخی اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور میں تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والا پہلا خصوصی شمارہ "وسائل نمبر” حالیہ دنوں میں منظرِ عام پر آیا، جسے علمی و فکری حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔
کسی میگزین یا کتاب کو شائع کرنا ایک مرحلہ ہوتا ہے، مگر اسے قارئین تک پہنچانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر سجاد ژوندون اس فن میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا حلقۂ احباب بالخصوص ان کے "قامی شاگرد” اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ "پختون” کا یہ خصوصی شمارہ محض دو دن میں مکمل طور پر فروخت ہو گیا، اور اب دوسرے ایڈیشن کے لیے دوبارہ پریس میں بھیجا جا چکا ہے۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ آج بھی پختون معاشرے میں معیاری ادب اور سنجیدہ فکری مواد کی طلب موجود ہے، بہ شرط یہ کہ اسے خلوص اور مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔
آخر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ آج کا دور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے، جہاں نوجوان نسل کتاب سے زیادہ موبائل سکرین پر علم تلاش کرتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پختون میگزین کا یہ تاریخی ورثہ صرف پرنٹ تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سوشل میڈیا، ویب سائٹ، ای میگزین اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی عام کیا جائے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر سجاد ژوندون اور ان کی ٹیم اس سمت میں بھی سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ یہ فکری سرمایہ بہ راہِ راست نئی نسل تک منتقل ہو سکے۔ کیوں کہ "پختون” محض ایک رسالہ نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے۔ جو ہماری زبان، ہماری ثقافت اور ہماری اجتماعی یادداشت کا زندہ استعارہ ہے۔ یہ وہ قافلہ ہے جس نے علم، ادب، سیاست اور قومی شعور کو ایک ہی فکری لڑی میں پرویا۔ ڈاکٹر سجاد ژوندون کی قیادت میں یہ رسالہ ایک بار پھر اس خواب کو زندہ کر رہا ہے جو باچا خان نے 1928ء میں دیکھا تھا۔ ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور بیدار پختون سماج کا خواب۔ لہذا ہم سب پر لازم ہے، خصوصاً اہلِ قلم، نوجوان نسل اور پشتو زبان و ادب سے وابستہ اداروں پر، کہ وہ اس فکری سفر میں شریک ہوں تاکہ یہ تاریخی علمی سرمایہ ہمیشہ زندہ، متحرک اور توانا رہے۔
______________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: