ولی خان اپنی کتاب “باچا خان اور خدائی خدمت گاری” میں تاجو بی بی کی دردناک جدائی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1949ء میں مارچ کا پہلا ہفتہ تھا۔ مجھے جیل میں خبر ملی کہ تاجو مردان کے ایک ہسپتال میں جان کی بازی ہار گئیں۔ زچگی کے دوران میں اُن کے ہاں دو بچوں کی پیدایش ہوئی تھی۔ ایک ماں کے ساتھ ہی وفات پاگیا اور دوسرا بچہ اسفندیار ولی خان تھا۔
آگے لکھتے ہیں کہ مجھے اُس دن ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پورا جیل یعنی میرے دوست و احباب جو میرے ساتھ پابندِ سلاسل تھے، سب کو اس بارے علم تھا۔ کیوں کہ اُن کی وفات 14 فروری کو ہوئی تھی اور اَب اُن کی وفات کو دو ہفتے ہوچکے تھے۔ سب کو خبر تھی مگر غم و الم کی یہ خبر مجھے کوئی نہیں بتاسکا۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مجھ پر جتنی بھی مصیبتیں آن پڑی تھیں، اُن میں سب سے کرب ناک یہ خبر ہی تھی۔ جیل بھی انگریزوں کے زمانے کے جیل سے زیادہ وحشی تھا۔ میری تمام جائیداد بحق سرکار ضبط ہوچکی تھی۔ میری بیوی اور بچے بے سہارا ہوچکے تھے، مگر اُس وقت یہ تسلی رہتی تھی کہ تاجو موجود ہیں، وہ میرے گھر اور بچوں کو سنبھال لیں گی اور حقیقت بھی یہی تھی کہ وہ ایک بہادر خاتون تھیں۔ جب بھی اُن کا خط بڑی مشکلوں اور خفیہ طریقے سے مجھے ملتا، اُس میں ہمت اور حوصلے کی ایسی باتیں لکھی ہوتی تھیں کہ میرا حوصلہ اور بھی بڑھ جاتا اور مجھے اطمینان محسوس ہوتا کہ تاجو گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہیں۔ قیوم خان نے جب میری جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے، تو پولیس والوں نے گھر کا سامان بھی ضبط کرلیا۔ اس کارروائی کے دوران میں پولیس کی نظر جب جھولے پر پڑی، جس میں میری ایک سالہ بچی نسرین پڑی تھی، تو اس نے بچی کو اُٹھا کر زمین پر پھینکا اور وہ جھولا بھی بحقِ سرکار ضبط کیا۔
آگے لکھتے ہیں کہ اب گھر کی یہ حالت ہوگی کہ ایک چیز بھی نہیں رہی، بس دیواریں ہی رہ گئیں۔ تاجو کے بھائی (پروفیسر جہان زیب نیاز) اور ماں (میری ساس) اُن سے ملنے آئے اور اُن کو ساتھ چلنے کا کہا کہ تم پہلے بھی اکیلے رہتی تھیں، مگر اب تو گھر کا سامان بھی قیوم خان کی پولیس لے کر گئی ہے۔ تاجو نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ کیوں کہ مَیں نہیں چاہتی کہ دشمن خوش ہو کہ ولی خان کو جیل میں ڈال دیا ہے اور اب اُن کا گھر بھی نہیں رہا۔ اگر ولی خان جیل میں زمیں پر سوسکتا ہے، تو مَیں اور میرے بچے بھی اسی زمیں پر سوئیں گے۔ مَیں اُن کے گھر اور حجرے کو ویراں چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔
لکھتے ہیں کہ مَیں سوچ رہا تھا کہ میرا کیا، مَیں تو کسی طرح بھی جی لوں گا، مگر تاجو کی وجہ سے کم از کم بچوں کی فکر سے آزاد تو تھا…… اب بچوں کا کیا ہوگا!
لکھتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے ایک ماہ کے لیے پے رول پر رہائی ملی۔ مَیں جہان زیب نیاز کے ساتھ “شاہی باغ” آگیا۔ میرا گھر مکمل اُجڑ چکا تھا۔ میرے بچے (اسفندیار اور نسرین) اپنی نانی کے پاس تھے۔ مَیں نے اُن سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں، تو مَیں تاجو کی تابوت کو رجڑ سے شاہی باغ منتقل کرنا چاہتا ہوں۔ اُن کی اجازت پر جب ہم تابوت کو منتقل کرنے لگے، تو تابوت کے اوپر تاجو کا وہ بنارسی جوڑا پڑا ہوا تھا جس میں تاجو میرا گھر بسانے آئی تھیں، اِس آرزو کے ساتھ کہ وہ میرے گھر کو روشن کرے گی۔ آج اُسی گھر سے ہم اُن کی لاش کو اُسی جوڑے میں منتقل کررہے تھے۔ ہم نے تو زندگی بھر ساتھ رہنے کے عہد کیے تھے، لیکن تاجو مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔
لکھتے ہیں کہ تاجو نے مجھے زندگی کے رونقوں سے آشنا کیا تھا اور اُن کی موت نے مجھ پر اِس دنیا کی حقیقت کھول دی۔ گھر جا کے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ بابڑہ میں ہونے والے پولیس کے بدترین قتل عام کے موقع پر بھی تاجو اس جلوس میں شریک تھیں اور اُن کو ایک گولی بھی لگی تھی۔ اُس دن تاجو نے نرس کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے دوپٹے سے زخمیوں کی مرہم پٹی بھی کی۔ اس واقعے کے بعد وہ رنجیدہ رہنے لگی تھیں، جیسے یہ زندگی اُن کے لیے بے معنی ہوکر رہ گئی ہو۔ میرے بچوں کا اب کوئی آسرا نہیں رہا۔ اب نانا کا گھر ہی اُن کا مسکن تھا۔ کیوں کہ میرے شاہی باغ کا ہنستا مسکراتا گھر اب اجڑ چکا تھا۔”
قارئین، جاتے جاتے نوید البشر بشر کے اس شعر پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
اوگورئی پہ لاس کی د تاریخ د جبر تبر تہ
مڑ شو د بے ننگہ پختنو سرہ پہ ننگ ملنگ
شیئرکریں: