پروفیسر ڈاکٹر سمیع الدین ارمان کے مطابق "موجودہ تناظر میں عدمِ تشدد کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے حق سے دست بردار ہو جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے حق کے حصول کے لیے آپ تشدد کا راستہ ترک کر دیں۔”
 اکثر ہم اس فرق کو سمجھنے میں الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اپنا حق لینے کے لیے تشدد کو چھوڑنا اور اپنا حق مکمل طور پر چھوڑ دینا، یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ عدمِ تشدد ایک نظریہ ہے جو طاقت کے استعمال کے بہ جائے اخلاقی اور عملی حکمت عملیوں کے ذریعے انصاف اور حقوق کے حصول پر زور دیتا ہے لیکن یہ خود پسندی یا کم زوری کا مترادف نہیں ہے۔
قارئین، فلسفۂ عدمِ تشدد پر مبنی سیاسی جد و جہد قوم کے اجتماعی دفاع کے حق کو معطل نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو قوم کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متحد اور منظم طریقے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ جذباتیت، انتشار اور ہجوم زدہ سیاست کے بہ جائے عدمِ تشدد کے نظریے پر متحد قوم کے لیے آسان ہوتا ہے کہ نئے راستوں کا تعین کرسکیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم کے مستقبل کے لیے منتخب کردہ راستے کے بارے میں اکثریت کا اعتماد ہو اور اس کی تیاری کے لیے ایک واضح اور دانش مندانہ حکمت عملی موجود ہو۔
تاریخی طور پر عدمِ تشدد کی تحریکوں نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یہ نہ صرف حقوق کے حصول کا موثر ذریعہ ہو سکتا ہے، بلکہ یہ قوموں کو طویل مدتی استحکام اور اخلاقی برتری بھی فراہم کرتا ہے۔
برسرِ آمدم، اس سلسلے میں باچا خان کی عدمِ تشدد کی جدوجہد ایک اہم مثال ہے۔ باچا خان نے برطانوی سامراج کے خلاف پختونوں کو متحد کرنے کے لیے "خدائی خدمت گار” تحریک شروع کی جو مکمل طور پر عدمِ تشدد کے اصولوں پر مبنی تھی۔ انہوں نے اور گاندھی جی نے مل کر "اہنسا” کے فلسفے کو پھیلا کر ثابت کیا کہ تشدد کے بغیر بھی ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ 1930ء میں قصہ خوانی بازار کے سانحے کے دوران میں خدائی خدمت گاروں نے برطانوی فوج کے تشدد کا مقابلہ نہتے ہو کر کیا لیکن اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹے۔ باچا خان کا ماننا تھا کہ عدمِ تشدد بزدلی نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو صبر، حوصلے اور اخلاقی برتری سے ظالم کو شکست دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریک نے نہ صرف پختونوں میں شعور پیدا کیا بلکہ برطانوی راج کے ظالمانہ نظام کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت کا نمونہ بھی پیش کیا۔
اسی طرح مہاتما گاندھی کی قیادت میں بھارت کی آزادی کی تحریک بھی اس کی ایک عظیم مثال ہے۔ گاندھی نے "اہنسا” اور "ستیہ گرہ” کے اصولوں کو اپنایا اور برطانوی سامراج کے خلاف ایک ایسی جدوجہد کی جو تشدد کے بہ جائے اخلاقی قوت اور عوامی اتحاد پر مبنی تھی۔ 1930ء کی "نمک مارچ” نے نہ صرف بھارتی عوام کو متحد کیا بلکہ عالمی سطح پر برطانوی استعمار کے جواز پر سوال اُٹھایا۔ اس تحریک نے واضح کیا کہ تشدد کے بغیر بھی ایک قوم اپنے حقوق کے لیے کام یاب جدوجہد کر سکتی ہے، بہ شرط یہ کہ اس کے پاس واضح حکمتِ عملی اور عوامی حمایت ہو۔
اسی تناظر میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی "سول رائٹس موومنٹ” نے 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف عدمِ تشدد کے اصولوں کو بہ روئے کار لایا۔ کنگ نے گاندھی سے متاثر ہو کر پُرامن مارچوں اور سول نافرمانی کے ذریعے سیاہ فام امریکیوں کے حقوق حاصل کیے۔ 1963ء کا واشنگٹن مارچ اس بات کا ثبوت تھا کہ عدمِ تشدد قومی سطح پر تبدیلی لا سکتا ہے، جب کہ تشدد سے گریز کرتے ہوئے بھی اپنے حق کے لیے لڑائی کو کم زور نہیں کیا گیا۔
اسی طرح جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی "اینٹی اپارتھائیڈ تحریک” بھی اس سلسلے میں قابلِ ذکر ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر عدمِ تشدد کو اپنایا گیا اور بعد میں مسلح جدوجہد کی طرف رُخ کیا گیا لیکن 90ء کی دہائی میں پُرامن مذاکرات اور عدمِ تشدد کی طرف واپسی نے ہی اسے کام یابی سے ہم کنار کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عدمِ تشدد قومی دفاع یا خود مختاری کے حق کو کم زور نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک زیادہ پائیدار طریقے سے حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لہٰذا باچا خان، گاندھی، کنگ اور منڈیلا کی جدوجہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدمِ تشدد پر مبنی سیاسی جدوجہد کوئی بزدلی یا ہتھیار ڈالنا نہیں، بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے جو قوم کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے مضبوط، متحد اور اخلاقی طور پر بلند مقام پر کھڑا کرتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم اپنے مستقبل کے راستے پر متفق ہو، اس کی تیاری کے لیے واضح منصوبہ بندی کرے اور اپنے اجتماعی دفاع کے حق کو ترک کیے بغیر تشدد کے بہ جائے عقل و دانش کے ہتھیار استعمال کرے۔ تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم کے پاس اعتماد اور تیاری ہے، عدم تشدد نہ صرف حقوق دلا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور پرامن مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
__________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

شیئرکریں: