زخمی ہونے کی خبر ملنے اور ابتدائی معلومات لینے کے بعد میں نے گیلہ من کے بارے میں اپنی پہلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ “میں نے دعائیں مانگنی چھوڑ دی ہیں، ورنہ گیلہ من کے لیے دعا ضرور کرتا۔ خواہش ہے کہ وہ لمبی، محفوظ، اور خوش حال زندگی جیئے۔” کیوں کہ دعائیں اس کے لیے کی جاتی ہیں جس میں زندگی کی کوئی رمق موجود ہو، گیلمن زندہ نہیں تھا، زندہ رکھا گیا تھا۔ پہلی سرجری کے بعد کلینکلی اس کی موت کب کی واقع ہوچکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود تحریک کا سربراہ اور گیلہ من کے ساتھی آخری کوشش کے طور پر ڈاکٹروں کے بین الاقوامی ٹیم کے ذریعے یقینی بنانا چاہتے تھے کہ گیلہ من کی صحت اور زندگی کے بارے میں کہیں کوئی معمولی چانس ہو، کہیں پر کوئی دستِ مسیحا موجود ہو، تو وہ بروئے کار لایا جائے۔ ورنہ “پیمز ہسپتال” کے ڈاکٹر پہلے ہی مایوسی کا اظہار کر چکے تھے۔
میں نے دوسری پوسٹ میں لکھا تھا کہ “وہ پنجاب میں ہوتا، تو مشاعرے لوٹتا اور وی آئی پی ہوتا۔ لیکن وہ اسلام آباد میں ہے۔ اس کا جسم زخم زخم، پنبہ پنبہ ہے۔ اس کی کھوپڑی چٹخی ہوئی ہے۔ اس کی نبض کی دھمک اور دل کی دھڑکن مشینوں کے ذریعے ماپی جا رہی ہیں۔ اس کی سانسیں وینٹی لیٹر کی مرہون منت ہیں۔”
میرے ان الفاظ کہ اس کی سانسیں وینٹی لیٹر کی مرہون منت ہیں، سے صاف ظاہر تھا کہ اس کی زندگی کا انحصار ایک مشین کی موجودگی پر ہے، ورنہ وہ نہیں ہے۔
“اس کے دوست اور دل دار، اس کی شاعری کے دیوانے، اس کی مزاحمت کے پرستار، اس کے چاہنے والے اور بہی خواہ، خوف زدہ کونجوں کی طرح ایک دوسرے کی گردن میں گردن ڈالے ایک ایک حرکت، ایک ایک سرسراہٹ پر سہم جاتے ہیں۔ وہ سب رونا چاہتے ہیں، لیکن اس کی بجائے ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دیتے  ہیں۔”
درج بالا پیرگراف میں خوف زدہ کونجوں سے لے کر جھوٹی تسلیوں تک میں نے یہی حقیقت بیان کی تھی کہ قریبی لوگ سب جانتے ہیں کہ گیلہ من کی حقیقی حالت کیا ہے…؟ وہ جانتے تھے اس لیے ہر آہٹ اور سرسراہٹ پر خوف زدہ ہوجاتے تھے کہ خدا خواستہ آنے والا کیا خبر لے کر آئے گا…؟
“میں نہیں جانتا کہ اس تحریر کو کس طرح ختم کردوں۔ منظور پشتون کو حوصلہ دوں اور بتادوں کہ قوم ایسی حالت میں لیڈر کی طرف دیکھتی ہے۔ سمندر بنو، یہ لیڈرشپ کا امتحان ہے یا تمام پختونوں کو بتادوں کہ اجتماعی طور پر رونے کا اہتمام کردو، تاکہ گلے میں پھنسا ہوا درد آنسو بن کر بہہ نکلے”۔ یہاں میں نے منظور پشتون کو حوصلہ نہیں دیا تھا بلکہ اس کے ساتھ تعزیت کی تھی اور مشورہ دیا تھا کہ بہت ہوگیا۔ اب اعلان کرے کہ قوم اجتماعی طور پر رو لے، تاکہ گلے میں پھنسے ہوئے، گیلہ من کی جواں مرگی اور جدائی کا درد آنسو بن کر بہہ نکلے۔ کیوں کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ گیلہ من ان حالات میں زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ میری خواہش تھی کہ وہ جیئے، اس لیے کسی اور جگہ لکھا کہ “وہ پیدائشی فائٹر ہے، وہ یہ لڑائی بھی جیتے گا، وہ زندہ رہے گا۔ یقین کریں۔” یہ میری خواہش تھی، یہ آپکی بھی خواہش تھی، اس لیے اس کے بعد میں نے ایک پوسٹ لکھی، اور پھر مٹادی، جو پشتو کے ایک ٹپے پر مشتمل تھی کہ:
پہ مرگ دی نہ مری جانان خوگ دے
کٹ کے دی پروت وی چی پوختنی لہ ورزمہ
 (یعنی میرا یار موت کی بانہوں میں نہ چلا جائے، بے شک عمر بھر بیمار پڑا رہے اور میں اس کی عیادت کےلیے آتا جاتا رہوں)۔ لیکن یہ گیلہ من کے لیے دعا نہیں بد دعا تھی، اس لیے میں نے پوسٹ مٹا دی۔
مشر منظور احمد پشتون نے اپنے دوسرے بیان میں گیلہ من کے سانحے کو عارف وزیر، ارمان لونی اور عثمان کاکڑ کے سانحات کے ساتھ نتھی کیا، تو مجھے سو فی صد یقین ہوگیا کہ گیلہ من اسی راستے پر جانے کے لیے تیار ہے جس پر مذکورہ قافلہ بڑی شان کے ساتھ گزرا ہے۔
قارئین، دبئی سے جب گیلہ من کے بھائی پہنچ گئے اور گاؤں سے اس کی فیملی، تو میرا مزید دل بیٹھ گیا کہ گیلہ من بول سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے، لیکن اسے دیکھنے کے لیے قافلے آ آ کر اتر رہے ہیں۔ نمازیں پڑھی جارہی ہیں، نفلیں ادا کی جا رہی ہیں، تہجد ادا کئے جا رہے ہیں، دعائیں اور فریاد کئے جا رہے ہیں، لیکن وہ پمز ہسپتال کی بلڈنگ سے اوپر نہیں جا رہی تھیں۔ کیوں کہ گیلہ من موجود تو تھا، لیکن نہیں تھا۔ تبھی حاجی صمد نے آخری رات لکھا کہ میں اور گیلمن دونوں ایک ساتھ موجود ہیں۔ میں اس کے ساتھ گپ شپ کر رہا ہوں، لیکن وہ خاموش پڑا ہوا ہے جواب نہیں دیتا۔
پھر سرِ شام پی ٹی ایم کی ذمہ دار پیجز سے اعلانات آنے شروع ہوگئے کہ بیرون ملک سے ڈاکٹروں کی ٹیم آنے والی ہے۔ ان کے معائنہ کے بعد اخری فیصلہ کیا جائے گا، آخری فیصلہ…؟ اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے…؟ جنازے کا اعلان اور مسافر کی رخصتی کا اہتمام!
آخری شام ایک اور عجیب سلسلہ شروع ہوا۔ عالم زیب محسود اور زکیم نے دو انٹرویو دیئے، اور دونوں میں گیلہ من کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا۔ میں نے اس پر احتجاج بھی کیا کہ آپ کیوں گیلہ من کے لیے “ہے” کی بجائے “تھا” لفظ استعمال کر رہے ہو…؟ لیکن وہ گیلہ من کے غم کو قابلِ برداشت بنانے کےلیے جان بوجھ کر کیا جا رہا تھا۔ جس ذریعے نے ایک دن پہلے گیلہ من کی موت کی خبر پھیلائی تھی وہ صحیح تھا۔
قارئین، فیض نے لکھا ہے کہ “جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے”۔ جب کہ باچا خان نے اپنی سوانح عمری میں ایک پشتو ضرب المثل لکھی ہے کہ “کونی مری او فریاد ئی پاتی کیگی، یعنی بزدل مر کر چلا جاتا ہے لیکن اس کی آہ و زاریاں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ مرتے تو اب ہیں اس لیے کوئی کیسے مرا یہ اتنا اہم نہیں ہوتا، اہم یہ ہوتا ہے کہ کوئی مرنے سے پہلے کیسے جیا۔
قارئین، گیلہ من جوان تھا، بے خوف تھا، اپنے مقصد کے ساتھ مخلص اور کمٹڈ تھا۔ پختون روایتی اسطورے میں جوانی میں بہادری سے لڑتے ہوئے مرنا اعلا درجے کی موت شمار ہوتی ہے۔ سینے پر گولی کھانا، چھلنی سینہ لے کر گھر آنا، بزدلوں کی طرح لڑائی میں پیٹھ نہ دکھانا، قوم و وطن کی خاطر قربان ہونا، زلف کے دھاگے سے کفن سینا، ایسے موضوعات ہیں، جن پر بے شمار پشتو ٹپے کہے گئے ہیں۔
ٹپہ پشتو شاعری کا لوک موضوع ہے، جس کی وافر اکثریت عورتوں کی تخلیق ہے۔ جن میں عشق و محبت کے ٹپوں کو چھوڑ کر 80 فی صد کے قریب ٹپے لڑائی میں بہادری دکھانے اور جنگ سے منھ نہ موڑنے کے طعنوں پر مشتمل ہے۔ پختون خواتین اور دوسری اقوام کی خواتین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پختون خواتین اپنے مردوں کو جنگ پر بھیجتی ہیں، جب کہ دوسری طرف عموماً ایسا نہیں ہوتا۔
لشکروں کے راستے میں رہنے کی وجہ سے پشتون کی زندگی مختصر لیکن بھر پور ہوتی تھی۔ اسے پتا ہوتا تھا کہ جنگ کی مڑی کیگی، یعنی جنگ میں اموات واقع ہوتی ہیں، اس لیے ایک طرف بیٹھ کر مرنے سے بہتر ہے کہ لڑ کر مرا جائے۔ اگر گیلہ من آج سے پچاس سال پہلے زندہ ہوتا، تو ایسی موت مر کر تابندہ ہوتا۔ اگرچہ آج بھی لیجنڈ بن کر مرا ہے۔ اور آخر کس کی خاطر منظور پشتون اور علی وزیر نے اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ تین دن اور تین راتیں آنکھ جھپکائے بغیر ہسپتال کی لان میں گھاس پر بیٹھے گذارے ہیں، لیجنڈ اور کیا ہوتا ہے…؟
میری ایک خواہش تھی کہ گیلہ من ایک دفعہ پمز کے باہر موجود لان پر نکل کر دیکھ لیں، کہ پختون اس سے کتنی محبت کرتے ہیں، اور سوشل میڈیا سکرول کرکے پڑھ لے کہ پوری دنیا میں گیلہ من کس طرح ٹرینڈ کر رہا ہے…؟ پھر بے شک چلا جائے تاکہ دوسری طرف وہ گیلہ من ہوکر نہ جائیں مطمئن ہوکر جائیں۔
____________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: