ذرائع کے مطابق ملاکنڈ یونی ورسٹی کے انتظامیہ یعنی پرووسٹ اور چیف پراکٹر نے شعبہ صحافت کے چھٹے سمسٹر کے طالب علم موسیٰ خان (ڈپٹی جنرل سیکرٹری پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن) کو رباب ہاسٹل لانے کی جرم میں ہاسٹل سے نکال دیا تھا۔ جس پر طالب علم موسیٰ نے رات ہاسٹل میں گزارنے کےلیے درخواست بھی جمع کرائی تھی مگر وارڈن نے پرووسٹ کے حکم پر انہیں ہاسٹل میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی۔ جس کی وجہ سے وہ گذشتہ رات ہاسٹل سے بٹ خیلہ جارہے تھے کہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں موسیٰ نے جان کی بازی ہاری۔طلبہ یونین کے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یونی ورسٹی انتظامیہ نے موسیٰ خان کو 29 مئی کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی سر پر امتحان کا بوجھ تھا۔ کل انہیں ایپیلیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بھی بلایا گیا تھا۔ لیکن اسی روز یعنی 29 مئی ہی کو ہاسٹل سے نکال دیا۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کے دباؤ کی وجہ سے موسیٰ خان ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گئے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق پوسٹ بھی وائرل کوئی ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے یونی ورسٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شیئرکریں: