"فرعون” کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ شاہانِ مصر کا لقب تھا۔ جس طرح چین کے بادشاہ کو خاقان، روس کے بادشاہ کو زار، روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے، اسی طرح مصر کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔
لغوی لحاظ سے فرعون اصل میں فارَا، اَوہ (Pharaoh) تھا۔ مصری زبان میں فارَا کا مطلب "محل” اور اَوہ کے معنی "اونچا” ہیں، یعنی "اونچا محل”۔ اس سے مراد مصر کے بادشاہ کی ذات اور اس کا محل تھا۔ اسی طرح فرعون کا عام لغوی مطلب "عظیم محل” بھی لیا جاتا ہے، اور قدیم مصر میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ تمام فرعون مصری دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ فرعون اُس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا۔ جو بھی شخص مصر کا بادشاہ بنتا، اسے فرعون کہا جاتا تھا۔ قدیم مصر میں تقریباً 30 خاندانوں نے حکومت کی، یعنی سیکڑوں فرعون صدیوں تک مصر پر حکمرانی کرتے رہے۔
فرعون، قدیم مصر میں بادشاہ یا شہنشاہ کا عہدہ
