جرات، بے باکی اور بہادری کا استعارہ شہید بشیر احمد بلور یکم اگست 1943ء کو پشاور کے معروف سیاسی اور کاروباری شخصیت بلور دین کے ہاں پیدا ہوئے۔ شہید نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایڈورز کالج پشاور سے بی اے کیا جب کہ پشاور یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1969ء میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ 1970ء میں ہارون بشیر بلور (شہید) اور 1971ء میں عثمان بلور (مرحوم) کی ولادت ہوئی۔
شہید کے والد بلور دین پہلے ہی باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ تھے۔ تاہم، 1970ء میں باقاعدہ طور پر “نیشنل عوامی پارٹی” میں شامل ہوئے اور تسلسل کے ساتھ باچا خان، ولی خان اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔
شہید بشیر بلور نے ایک فعال سیاسی زندگی گزاری۔ وہ اور اُن کا خانوادہ سر تا پا، باچا خان اور ولی خان کے افکار و نظریات کا عکس ثابت ہوئے۔ کیوں کہ موصوف جامِ شہادت تک ولی باغ کی نظریاتی سحر کے اسیر رہے۔ بہ قولِ شاعر:
کہ می دیدن لہ خدایا غواڑی
چرتہ غورزنگ د پختون گورہ زہ بہ یمہ
شہید 1976ء میں پہلی مرتبہ اے این پی کے صوبائی نائب صدر منتخب ہوئے۔ جب کہ 1988ء میں پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور اُس کے بعد 2008ء تک مسلسل پانچ مرتبہ اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ لیکن بے حسی، موقع پرستی، قول و فعل کے تضاد اور مفاد پرستی کی سیاست میں ایک حادثہ یہ ہوا کہ شہید بشیر بلور کے جاتے ہی جیسے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ کیوں کہ 2013ء کے عام انتخابات میں نام نہاد پختونوں نے شہید کے مقدس خون پر بے ہنگم “جنون” کو مقدم رکھا۔ شہید تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اُن کے پاس سینئر وزیر، لوکل باڈیز اور کمیونی کیشن کے قلم دان رہے ہیں۔
موصوف جس طرح ہر فورم پر کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے تھے، اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ یقیناً شدت پسندوں کے ہِٹ لِسٹ پر ہوں گے۔ مگر وہ ہمیشہ مسکرا کر ایک ہی نعرہ بلند کرتے تھے کہ “چی کمہ شپہ پہ گور ئی ھغہ پہ کور نہ ئی” یعنی جو رات قبر میں لکھی ہے، وہ گھر میں نہیں بِتائی جاسکتی۔
بلور ہوں کہ کانچ ہوں، پتھر سے پوچھ لے
میں وہ سخت جاں ہوں دمِ خنجر سے پوچھ لے
بشیر احمد بلور کی اس ادا پر اُنھیں اُس وقت کی وفاقی حکومت نے “ستارۂ جرات” سے بھی نوازا تھا۔ اُن کی دلیری اور بہادری کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ جہاں بھی دھماکا ہوتا، اُس کے فوراً بعد وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔
آئیے، شہید بلور کی زندگی تصاویر میں دیکھتے ہیں:

شہید بشیر احمد بلور کا خاندان 1970ء میں باقاعدہ طور پر “نیشنل عوامی پارٹی” میں شامل ہوا اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ باچا خان، ولی خان اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ رہا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان
فوٹو: ابدالؔی

شہید کو جب ایک دفعہ سیکورٹی تھریٹ کا معاملہ پیش آیا، تو اُنھوں نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے ایک بار پھر مجھے متنبہ کیا گیا ہے کہ مجھے سنگین قسم کا خطرہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مَیں چھپ ہو جاؤں گا، تو یہ اُس کی بھول ہے۔ میرا بیانیہ میرا نہیں بلکہ میرے اکابرین اور قوم کا ہے۔ اس سے کوئی خوش ہوتا ہو، یا کسی کو برا لگتا ہو، میرا بیانیہ یہی رہے گا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بشیر بلور شہادت کے وقت وزیرِ اعلا امیر حیدر خان ہوتی کے ساتھ سینئر صوبائی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور کو بہادری اور دلیری پر اُس وقت کے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے “ستارۂ جرات” سے بھی نوازا تھا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور کی دلیری اور بہادری کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ جہاں بھی دھماکا ہوتا، اُس کے فوراً بعد وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔
فوٹو: ابدالؔی

بشیر بلور کی یہ تصویر بائیس دسمبر کو ان کی رحلت سے چند گھنٹے پہلے لی گئی تھی۔
فوٹو: ابدالؔی

بشیر بلور کی وفات کی خبر سن کر اے این پی کے کارکن اور ہم درد صدمے سے نڈھال نظر آرہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

باچا خان مرکز پشاور کے میوزیم میں شہید بشیر بلور کے کوٹ اور کپڑے
فوٹو: ابدالؔی

کرنل شیر خان سٹیڈیم میں نمازِ جنازہ سے قبل بشیر بلور کے تابوت پر پاکستان کا پرچم لپیٹا جارہا ہے۔
فوٹو: ابدالؔی

سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفندیار ولی خان شہید بلور کے جنازے کو سلامی دے رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بشیر احمد بلور کا نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پشاور میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
فوٹو: ابدالؔی

قارئین، عزم و ہمت کے اس مینار پر 22 دسمبر 2012ء کو عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی کے دوران میں خودکش حملہ ہوا جس میں موصوف کے علاوہ اُن کے سیکرٹری اور ایک اعلا پولیس اہل کار بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔

شہید بشیر احمد بلور کی نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پشاور میں ادا کی گئی، جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، اُس وقت کے وزیرِ اعلا خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
شیئرکریں: