1990ء کے عام انتخابات کے دوران میں ولی خان نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے ایک پروگرام میں سینئر صحافی ایاز امیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: “پاکستان کو ایک دن امریکا کی پراکسی (Proxy) بننے کی بہت بڑی قیمت چکانے پڑے گی۔ انہوں نے امریکی خارجہ امور کے ایک ماہر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
“Pakistan is the most allied allied ally of America against Soviet Union.”
اس بات پر صحافی ایاز امیر نے ولی خان کو بولنے سے روکنے کی کوشش کی، تو ولی خان نے اپنے روایتی انداز میں صحافی کو ٹھوکتے ھوئے کہا آپ مجھے بات مکمل کرنے دے۔ یہ بہت نازک اور اہم مسئلہ ہے۔ جس کے بعد ولی خان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: “ایک ہوتا ہے (Allied)، ایک ہوتا ہے (Allied Allied) جب کہ آپ (Most Allied Allied) بن چکے ہیں۔ آج تو آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ مگر پتا آپ کو تب چلے گا جس دن یہی (Ally) آپ کے گلے پڑے گا اور اس کی لگائی ہوئی آگ آپ کے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔
قارئین، ولی خان کے اس بیان کے بعد جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو ولی خان کے خلاف انتخابی اتحاد میں اکٹھا کیا گیا۔ ڈالرز گلبدین حکمت یار نے فراہم کئے اور پشت پر امریکا کے (Most Allied Allied) والے لوگ تھے۔ یوں اس پلان اور سازش کے تحت ولی خان جیسے اصول پرست، زیرک اور قد آور شخصیت کو 1990ء میں بننی والی اسمبلی سے باہر رکھا گیا تاکہ ایوان کے اندر امریکا کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے۔
نوٹ: اس تحریر میں موجود حوالہ جات عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ کے صدر محفوظ جان کے ہیں۔
شیئرکریں: