
شہید بشیر احمد بلور کا خاندان 1970ء میں باقاعدہ طور پر "نیشنل عوامی پارٹی” میں شامل ہوا اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ باچا خان، ولی خان اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ رہا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان
فوٹو: ابدالؔی

شہید کو جب ایک دفعہ سیکورٹی تھریٹ کا معاملہ پیش آیا، تو اُنھوں نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے ایک بار پھر مجھے متنبہ کیا گیا ہے کہ مجھے سنگین قسم کا خطرہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مَیں چھپ ہو جاؤں گا، تو یہ اُس کی بھول ہے۔ میرا بیانیہ میرا نہیں بلکہ میرے اکابرین اور قوم کا ہے۔ اس سے کوئی خوش ہوتا ہو، یا کسی کو برا لگتا ہو، میرا بیانیہ یہی رہے گا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بشیر بلور شہادت کے وقت وزیرِ اعلا امیر حیدر خان ہوتی کے ساتھ سینئر صوبائی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور کو بہادری اور دلیری پر اُس وقت کے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے "ستارۂ جرات” سے بھی نوازا تھا۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بلور کی دلیری اور بہادری کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ جہاں بھی دھماکا ہوتا، اُس کے فوراً بعد وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔
فوٹو: ابدالؔی

بشیر بلور کی یہ تصویر بائیس دسمبر کو ان کی رحلت سے چند گھنٹے پہلے لی گئی تھی۔
فوٹو: ابدالؔی

بشیر بلور کی وفات کی خبر سن کر اے این پی کے کارکن اور ہم درد صدمے سے نڈھال نظر آرہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

باچا خان مرکز پشاور کے میوزیم میں شہید بشیر بلور کے کوٹ اور کپڑے
فوٹو: ابدالؔی

کرنل شیر خان سٹیڈیم میں نمازِ جنازہ سے قبل بشیر بلور کے تابوت پر پاکستان کا پرچم لپیٹا جارہا ہے۔
فوٹو: ابدالؔی

سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفندیار ولی خان شہید بلور کے جنازے کو سلامی دے رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

شہید بشیر احمد بلور کا نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پشاور میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
فوٹو: ابدالؔی
قارئین، عزم و ہمت کے اس مینار پر 22 دسمبر 2012ء کو عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی کے دوران میں خودکش حملہ ہوا جس میں موصوف کے علاوہ اُن کے سیکرٹری اور ایک اعلا پولیس اہل کار بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔
چی خبرہ د غیرت او قامی یون شی
چی خبرہ د لخکر او د پاسون شی
دا دعا می خولی لہ راشی بے اختیارہ
ہر سڑے دی د بشیر غوندی پختون شی
شہید بشیر احمد بلور کی نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پشاور میں ادا کی گئی، جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، اُس وقت کے وزیرِ اعلا خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کی درجات بلند فرمائے، آمین۔
