"زمونگ د سیاست اولنئی مدرسہ، پی ایس ایف، پی ایس ایف”
یعنی "ہماری سیاست کی پہلی درس گاہ، پی ایس ایف، پی ایس ایف”۔
قارئین، عوامی نیشنل پارٹی کے موجودہ قیادت میں اکثر رہ نما اپنی عملی سیاست کا آغاز پی ایس ایف سے کر چکے ہیں، جن میں سربراہ اے این پی اسفندیار ولی خان، غازی میاں افتخار حسین، محفوظ جان، عزت اللہ خان عابد، ڈاکٹر خادم حسین، سردار حسین بابک اور دیگر صف اوّل کے رہ نما شامل ہیں۔
پی ایس ایف کے خیبر پختون خوا الیکشن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حسام شاہ یوسف زئی نے اپنے پیغام میں کہا کہ 08 اپریل 1968ء کو پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد اجمل خان خٹک نے قومی شاعر خوشحال خان خٹک کی قبر پر رکھی۔ تب سے یہ تنظیم فخرِ افغان باچا خان اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کے افکار کو طلبہ و طالبات تک پہنچانے اور ان کی سیاسی تربیت میں سرگرمِ عمل ہے۔
پی ایس ایف کے یومِ تاسیس پر اپنے شہداء اور کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ پی ایس ایف نے روزِ اول سے طلبہ و طالبات کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا، اور آیندہ بھی ہر محاذ پر طلبہ کے حقوق، بقا اور دفاع کی جنگ لڑتی رہے گی۔ یہ تنظیم طلبہ و طالبات کے حقوق کی واحد نمایندہ تنظیم کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
قارئین، پی ایس ایف کے قیام کے اگلے ہی دن معروف کالم نگار اور ادیب سعد اللہ جان برق نے روزنامہ "بانگِ حرم” میں اس کے بارے میں "د پختنو زدکونکو مرکہ” کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی، جس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
