ریاستِ دیر کے “جانبٹئی قلعہ” (Janbatai Fort) کے حوالے سے میلیسن اپنی رپورٹس میں کچھ یوں رقمِ طراز ہیں:
جانبٹئی قلعہ جو ایک بے قاعدہ شکل میں جانبٹئی، براول اور بن ندیوں کے سنگھم پر واقع ہے۔ قلعے کی نچھلی دیواریں پانچ تا چھے فٹ موٹی اور تنگ (narrow) دو فٹ تک اونچائی پر ہے اور بیس فٹ تک اونچی ہیں۔
The banquette is formed of a row of sticks some 5 feet from The top of The Wall without Any platform on them.
قلعے میں مختلف اطراف میں سوراخیں (Loopeholes) بنائے گئے ہیں، جہاں سے مختلف اطراف میں گولیاں برسائی جاسکتی ہیں۔ اس قلعے کے مشرقی اور جنوبی کونے پر تیرہ فٹ مربع نما دو برج موجود ہیں، جو دیواروں سے سات فٹ اونچائی پر ہیں۔ جب کہ تین اور چھوٹے برج دوسرے اطراف میں موجود ہیں۔ اس قلعے کے شمال مشرقی اور جنوب  مغربی مخالف اطراف میں دو دروازے موجود ہیں اور ایک کشادہ سڑک ان دونوں دروازوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ ایک تنگ فٹ پاتھ جانبٹی ندی سے اس قلعے کے شمالی دروازے تک جا پہنچتی ہے، جہاں سے پھر راستہ دوسری طرف مڑ کر براول ندی کی طرف جاتا ہے۔ جنوبی دروازے کی طرف راستہ جانبٹئی کوتل سے آ پہنچتا  ہے۔
اس قلعہ کے جنوبی طرف “خان آف دیر” کا گھر واقع ہے جہاں اندرونی صحن میں تیس فٹ اونچا ایک برج موجود ہے جب کہ قلعے کا باقی حصہ مقامی لوگوں کے جھونپڑیوں اور مسجد پر مشتمل ہے۔ اس قلعے کی تین سو (300) گز دوری پر واقع پہاڑی سے نگرانی کی جاتی ہے۔ یہاں جانبٹی ندی سے ایک سو پچاس گز کی دوری پر جانبٹئی نامی گاؤں واقع ہے۔ پانی آسانی سے مہیا ہوتا ہے۔ ایک طرف ہماری بٹالین خیمہ زن ہے، مختلف اطراف سے رائفلز سے نگرانی کی جاتی ہے۔
اس قلعے کی دیواروں کو پتھروں اور لکڑیوں ٹمبرز کو درمیان میں مضبوطی سے رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے جب کہ مظبوط بیم کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ ایک بیم کے گرنے کا مطلب دیوار کے ایک حصے کا گرنا ہے۔
The top of The wall is protected from the rain by brush Wood  plastered with mud.
___________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: