پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت، جو باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر اور باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ کے سابق وائس چانسلر ہیں، کے مطابق خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان، مہاتما گاندھی اور قائدِ اعظم محمد علی جناح، برِصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ کے ایک ہی زمانے کے تین بڑے نام ہیں۔ تاہم، گاندھی اور جناح کے مقابلے میں باچا خان کی انفرادیت کئی حوالوں سے نمایاں تھی۔
سب سے پہلی انفرادیت یہ تھی کہ باچا خان نے اپنی سیاسی سٹیج یا پلیٹ فارم خود تیار کی، جب کہ گاندھی اور جناح کو بالترتیب کانگریس اور مسلم لیگ جیسی پہلے سے قائم سیاسی تنظیموں کا سہارا ملا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ باچا خان نے اپنی سیاسی جدوجہد کی بنیاد خود رکھی اور ایک آزاد پلیٹ فارم کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کی۔
دوسری اہم انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے خدائی خدمت گار تحریک کا آغاز دیہاتی علاقوں سے کیا، جہاں عام طور پر سیاسی شعور اور تنظیمی ڈھانچے کمزور ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر سیاسی تنظیمیں اور تحریکیں اکثر شہری علاقوں سے اُبھرتی ہیں، جہاں تعلیم اور سیاسی بیداری کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے باچا خان کی کوششیں نہ صرف منفرد تھیں بلکہ وہ ایک دیہی عوامی تحریک کے ماڈل کے طور پر بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔
گاندھی اور قائدِ اعظم کے مقابلے میں باچا خان کی انفرادیت
