قارئین! صنفِ “پھہ” اپنی ہیئت اور ساخت کے اعتبار سے ایک منفرد تجربہ ہے۔ اس صنف میں ڈھائی مصرعے ہوتے ہیں؛ جن میں پہلے دو مصرعے گیارہ گیارہ سیلابوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جب کہ تیسرا (آدھا) مصرعہ سات سیلابوں پر قائم ہوتا ہے۔ یوں یہ صنف اختصار، معنویت اور شعری توازن کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے
حنیف قیسؔ کا کارنامہ، پشتو ادب میں نئے صنف "پھہ” کا اضافہ

وادئ سوات سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان و ادب کے معروف شاعر محمد حنیف قیسؔ نے پشتو شاعری کی اصناف کے گلدستے میں ایک نئے اور خوش رنگ پھول کا اضافہ کیا ہے، جسے پشتو ادب کے اساتذہ پروفیسر عطاءالرحمان عطا، لیکچرار احسان یوسف زئی اور عطاءاللہ جان ایڈووکیٹ نے متفقہ طور پر “پھہ” کا نام دیا ہے۔
قارئین! صنفِ “پھہ” اپنی ہیئت اور ساخت کے اعتبار سے ایک منفرد تجربہ ہے۔ اس صنف میں ڈھائی مصرعے ہوتے ہیں؛ جن میں پہلے دو مصرعے گیارہ گیارہ سیلابوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جب کہ تیسرا (آدھا) مصرعہ سات سیلابوں پر قائم ہوتا ہے۔ یوں یہ صنف اختصار، معنویت اور شعری توازن کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے
قارئین! صنفِ “پھہ” اپنی ہیئت اور ساخت کے اعتبار سے ایک منفرد تجربہ ہے۔ اس صنف میں ڈھائی مصرعے ہوتے ہیں؛ جن میں پہلے دو مصرعے گیارہ گیارہ سیلابوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جب کہ تیسرا (آدھا) مصرعہ سات سیلابوں پر قائم ہوتا ہے۔ یوں یہ صنف اختصار، معنویت اور شعری توازن کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے
صنفِ "پھہ” کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
☆ ووڑی کے ناوی شی بلھا خکلے دے
جمے سپرلے خزان ئی لا خکلے دے
سوات پہ ریختیا خکلے دے
____________
☆ د نفرت زیلہ زیلہ خوری محبت
ازغی نہ ھم گل جوڑہ وی محبت
زڑہ کے چی وی محبت
____________
☆ دنیا ستا ہر گل کہ د زڑہ مرھم دے
خو د وخت نمر دیر تیز دے دغہ غم دے
ژوندون د واوری چم دے
یہ نئی صنف نہ صرف پشتو شاعری کی تخلیقی وسعت کا ثبوت ہے بلکہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ پشتو ادب آج بھی تجربے، جدت اور فکری تازگی سے ہمکنار ہے۔ محمد حنیف قیسؔ کی یہ کاوش یقیناً آنے والے وقت میں پشتو شعری روایت میں ایک معتبر حوالہ بن سکتی ہے۔