کتاب کا سرورق نہایت عمدہ لیکن کاغذ کافی نحیف ہے۔  چھپائی سادہ، ترتیب و تزئین بے حد کمال کی، لیکن اندر موجود تصاویر بلیک اینڈ وائٹ ہیں۔ یہ وہ منفرد کتاب ہے جو مصنف کے ذوق اور مشاہدہ کی شاہد ہے۔ جی ہاں، “گورڑہ (گاؤں) ماضی اور حال کے آئینے میں” ڈاکٹر بخت جمال صاحب (تمغۂ امتیاز) کا نثری مجموعہ ہے، جس کی تقریبِ رونمائی 05 نومبر 2023ء بروزِ اتوار کو “نڑیوال ادبی تڑون” اور “نوے ژوند ری ہیبیلی ٹیشن سنٹر” کے زیرِ اہتمام تحصیلِ مٹہ کے گاؤں گورڑہ میں واقع ڈاکٹر بخت جمال صاحب کے ہجرے میں ہوئی۔
تقریبِ رونمائی سے متعلق دعوت نامہ سوشل میڈیا پر دوستوں کو بھیجا گیا تھا۔ جب کہ ہمیں اس تقریب میں شرکت کی دعوت مذکورہ کتاب کے خالق ڈاکٹر بخت جمال صاحب اور کیڈٹ کالج سوات میں شعبۂ اُردو کے لیکچرار ڈاکٹر طاہر بوستان خیل نے دی تھی۔ مذکورہ شخصیات کی دعوت کو مدِنظر رکھتے ہوئے راقم (اختر حسین ابدالؔی) اور ڈاکٹر محمد شیر علی خان نے مقرر دن پر نمازِ ظہر کے بعد گورڑہ کی راہ لی۔ ہم ٹھیک اُس وقت پہنچے جب حاضرین کی آمد کی ابتدا ہی ہوئی تھی۔ راستے میں استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی اور اتل افغان سے ملاقات ہوئی۔ جب ہجرے میں داخل ہوئے، تو ڈاکٹر صاحب کے بیٹے ڈاکٹر تاثیر جمال نے استقبال کیا۔ ہجرے کے کشادہ صحن میں کرسیوں کا انتظام تھا۔ بعد از دعا تقریب میں ہم بھی بیٹھ گئے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی تحصیلِ مٹہ کے وائس چئیرمین ڈاکٹر نعمت سبحان خان جب کہ جب کہ صدرِ محفل پشتو زبان و ادب کے درخشاں ستارے پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی تھے۔
یہ پُروقار تقریب دوپہر دو بجے شروع ہوئی۔ تقریب میں مدعو مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مہمانانِ گرامی، شعراء و ادباء، معروف قلم کاروں، ماہرینِ تعلیم، ڈاکٹرز، پروفیسرز صاحبان، اساتذۂ کرام، شعر و ادب کے شوقین اور علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طاہر بوستان خیل صاحب ادا کر رہے تھے۔
اسلامی روایات کی رو سے تقریب کا باقاعدہ آغاز مفتی زرداد صاحب نے تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔ تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد ریاض احمد حیران نے ڈائس پر آکر آنے والے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ جب وہ بیٹھ گئے، تو خالقِ کتاب ڈاکٹر بخت جمال صاحب نے مختصر الفاظ میں اپنی کتاب پر روشنی ڈالی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ یہ سلسلہ ختم ہوتی ہی کتاب کی رونمائی کا مرحلہ شروع ہوا۔ مہمانِ خصوصی، صدرِ محفل اور خالقِ کتاب سمیت دیگر مہمانانِ گرامی نے کتاب کی رونمائی کی۔ ڈاکٹر صاحب کے بعد ڈاکٹر طاہر بوستان خیل نے اُردو اور پشتو زبان کے معروف شاعر شہزادہ برہان الدین حسرت کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ موصوف نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت، ان کی کتاب اور سماجی زندگی پر مختصر مگر جامع بحث کی۔
اس کے بعد ساجد علی خان ابو تلتاند کی بیٹی مریم حنا سٹیج پر نمودار ہوئی، جس نے کتاب پر پشتو زبان میں لکھا ہوا اپنا تفصیلی مقالہ پیش کرتے ہوئے حاضرینِ مجلس سے خوب داد وصول کی۔ اس نے کتاب میں حوالہ جات نہ ہونے کا ذکر کیا، لیکن جب وہ بیٹھ گئیں، تو ڈاکٹر طاہر بوستان خیل (جو مذکورہ کتاب کے پروف ریڈر بھی ہیں) نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں مستند حوالہ جات موجود ہے لیکن بد قسمتی سے وہ پرنٹ کے وقت پبلشر بھول گئے ہیں اور ہم آیندہ طباعت میں اسے ضرور شامل کریں گے، انشاءاللہ۔
حیدر علی حیدر نے اپنی میٹھی اور سریلی آواز میں ترنم سے نظم گا کر محفل کا لطف دوبالا کیا۔ موصوف نے جو نظم پڑھی وہ کچھ یوں ہے؛
سیڑنی او تحقیق لہ ئی لوئی زیار کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
خائستہ امیل ئی جوڑ کڑو د خورو ورو لعلونو
په مینہ پہ الفت او پہ خہ خائستہ شوخو رنگونو
گورڑے لہ ئی خائستہ سنڑہ سینگار کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
وڑمبی زل ئی د کلی نوم پہ ټولہ نڑئی خپور کڑو
پہ بام ئی دتیارو رونڑ تخیل ستورو تہ سور کڑو
باور وکڑئی دا زیار ئی  ڈیر شان دار کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
پہ دی کے محقق  کڑی زڑہ پوری تبصری دی
کہ یو پلہ تاریخ دے پکی بل خوا تجزئی دی
پہ هر رنگہ موضوع ئی خہ اظہار کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
سرگندہ دہ چی دی د علم ڈکہ مجموعہ کے
پہ دغہ کلتوری او گٹہ ورہ فن پارہ کے
صوف د زڑہ د تلہ خاص کردار کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
حیدرہ د ماضی نہ تر د حال پہ آئینہ کے
نایابہ دور گوہر دی د لفظونو خزانہ کے
کمال ئی پہ اصولو او پہ معیار  کڑے دے
جمال صاحب ادب لہ خکلے کار کڑے دے
قارئین، ایک ہی چہرہ بار بار دیکھنے سے بندہ اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر طاہر بوستان خیل نے نظامت کے فرائض ریاض احمد حیران کو سونپ دیے۔ اب کی بار سٹیج پر ڈاکٹر واحد زمان زمان صاحب آئے، تو اپنے مدھم مگر دل کش، انوکھے اور میٹھےاندازِ بیاں سے کتاب پر اپنے بڑی عرق ریزی سے تاثرات پیش کیے۔
روزی خان لیونی بابا نے کتاب پر تاثرات پیش کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں سے طبیعت ناساز ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے بطورِ مہمان یہاں پر مدعو کیا۔ موصوف نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور ان کی کتاب پر مختصر بحث کرتے ہوئے موصوف کو کتاب پر مبارک باد پیش کی۔
قارئین، اس دوران میں سٹیج سے کتاب پر بولی لگانے کا اعلان ہوا، جس پر روزی خان بابا نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر اس کی مخالفت کی۔ لیکن پنڈال میں موجود لوگوں نے ان کی ایک نہ سنی اور کتاب پر بولی لگانے کا مطالبہ کیا جس پر باقاعدہ بولی کا آغاز ہوا۔ اس دوران میں سٹیج سیکرٹری ریاض احمد حیران اور روزی خان بابا کے درمیان ایک زبردست مکالمہ ہوا جس پر محفل زعفران زار ہوئی اور زور دار تالیوں کی آواز سماعت سے ٹکرانے لگی۔
یہاں ایک بات قابل دید تھی کہ گاؤں کے لوگوں نے بولی نہیں لگائی، لیکن کتاب کو قیمتاً خریدنے کا اعلان کیا۔ البتہ رحمت الہٰی صاحب نے ڈاکٹر جمال صاحب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے 5 ہزار روپے کے عوض ایک کتاب خریدی۔ اس دوران میں جن لوگوں نے کتاب خریدنے کی ہامی بھری تھی، ڈاکٹر صاحب نے اپنے دستِ مبارک سے ان میں کتب تقسیم کیں۔
یہ نشست ختم ہوتے ہی ممتاز کالم نگار اور محقق ساجد علی خان ابوتلتاند سٹیج پر ظہور پذیر ہوئے۔ اپنے خطاب میں مصنف اور اس کی تخلیق کو خوب صورت انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اور ڈاکٹر صاحب کے کتاب میں فرق بس یہی ہے کہ مَیں چوں کہ عمر میں ڈاکٹر صاحب سے چھوٹا ہوں اس لیے مَیں نے جو کچھ سپردِ قلم کیا ہے وہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے۔ جب کہ ڈاکٹر صاحب نے وہ سب کچھ خود دیکھا ہے اور ان حالات سے گزرے ہیں۔
موصوف کے جانے کے بعد سٹیج سیکرٹری کی جانب سے امجد علی سورج کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ مذکورہ کتاب کا پشتو زبان میں ترجمہ کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو آنے والی نسلوں کےلیے مفید ثابت ہوگی۔ اگر کوئی شخص اس کو ترجمہ کرنا چاہے، تو تحصیل مٹہ میں تقریباً دس ادبی تنظیمیں موجود ہیں، وہ اُس کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گی۔
اس کے بعد تحصیلِ مٹہ کے وائس چیئرمین اور تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نعمت سبحان نے مصنف ڈاکٹر بخت جمال صاحب کے زندگی اور کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنف نے تاریخ کے دامن جو جوہر رکھا ہے، وہ قابلِ ستایش ہے۔ میں اہلِ گورڑہ کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کو اس گراں قدر کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
تقریب کے آخری مرحلے میں صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زے صاحب نے خطاب کرتے ہوئے مصنف سے دوستی کی مختصر تاریخ کے ساتھ ان کی عملی اور سماجی زندگی، ان کی تخلیق، گورڑہ گاؤں کی تاریخی، سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی پسِ منظر، پختون قوم کی تاریخ، ثقافت، تہذیب و تمدن اور پختون ولی پر تفصیلی اور مدلل بحث کی۔ اس کے بعد مہمانِ خصوصی اور دیگر مہمانوں نے کتاب کے مصنف ڈاکٹر بخت جمال صاحب کو اعزازی شیلڈ سے نوازا اور یوں یہ پُر وقار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
آخر میں ریاض احمد حیران نے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور چائے بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
قارئین، اب آتے ہیں زیرِ موضوع تاریخی اور ثقافتی دستاویز “گورڑہ (گاؤں) ماضی اور حال کے آئینے میں” جو ڈاکٹر بخت جمال صاحب کی تخلیق ہے، کتاب کو دیکھ کر راقم کو اپنے یار تصدیق اقبال بابو (مرحوم) کی وہ بات یاد آگئی جو انہوں نے ساجد علی خان ابو تلتاند کی کتاب کے دیباچے میں لکھی تھی کہ “ساجد ابو تلتاند نے سائینسی، نفسیاتی اور استقرائی اندازِ تحقیق سے نہ صرف اپنے گاؤں کو امر کر دیا ہے بلکہ سوات بھر پہ بھی احسان چڑھا دیا ہے۔ جس سے ہر گاؤں والے لکھاری کو ایک تحریک تو ضرور ملے گی۔” یقیناً بابو صاحب کی وہ زریں خیالات سچ ثابت ہوئے کیوں کہ یہ کتاب ہمیں اُس سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
کتاب کے مصنف ڈاکٹر بخت جمال صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ ضلع سوات کے ایک مایہ ناز ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ “ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر” (ڈی ایچ او) بھی رہ چکے ہیں۔ اُن کی کتاب پر کچھ لکھنا میرے لیے “چھوٹا منھ بڑی بات” کے مصداق ہے۔ تاہم کتاب کا موضوع ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کتاب میں موجود اہم اور نایاب معلومات قاری کے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ انہیں دعوتِ فکر بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ کتاب پر کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
قارئین، اگر چہ مصنف کا تعلق شعبۂ طب سے ہے اور آج کل سبک دوشی کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ماضی کی یادیں ان کو ستا رہی ہیں جن کو آپ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے ان کو کتابی شکل میں پیش کر  رہے ہیں۔ حالاں کہ وہ یادیں اب ماضی کا قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب میں وادیِ سوات کے مشہور اور تاریخی گاؤں گورڑہ کی تاریخ اور اس سے متعلق نایاب معلومات کو ایک منفرد انداز میں یک جا کرکے ان کو جدید تقاضوں کے مطابق تحریر کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے، جس سے ان کی تصنیف میں ایک جدت پیدا ہوگئی ہے۔
کتاب 22 ابواب اور تین سو سے زاید صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر باب اپنی خصوصیت کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ مصنف نے بابِ اول سے آخر تک کتاب کے ہر موضوع میں وادی سوات کے بالعموم اور گورڑہ گاؤں کا بالخصوص ایک تاریخی ڈھانچا پیش کیا ہے، جو آنے والے وقت میں تاریخ اور ثقافت پر تحقیق کرنے والوں کےلیے وافر مقدار میں معلومات فراہم کرے گا۔ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر صاحب نے اسے اپنے گاؤں “گورڑہ” تک محدود رکھا ہے۔ لیکن در حقیقت یہ پورے سوات کی ایک سماجی، ثقافتی اور تہذیبی تاریخ ہے۔ کیوں کہ مصنف نے اس کتاب میں ماضی کے تمام پہلوؤں کو احاطہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف کا یہ کام علم کے متلاشیوں پر احسان کے مترادف ہے۔ موصوف نے اپنے تحقیق کی بنا پر مختصر مگر جامع اور واضح انداز میں اپنے آبائی گاؤں گورڑہ کی سیاسی، سماجی، ثقافتی، تہذیبی، اقتصادی، ادبی، مذہبی اور اخلاقی خط و خال کو بیان کیے ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر ان کے اہلِ فن ہونے کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔
کتاب کا اگر باریک بینی سے جایزہ لیا جائے، تو یہ بات بالکل عیاں ہوتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب طبی کتابوں کے ساتھ ساتھ تاریخی و ادبی کتابوں کا بھی مطالعہ کر چکے ہیں، جس سے ان کی شخصیت میں ایک قسم کا نکھار پیدا ہوا ہے اور ان میں وسعت و رفعت کے رنگ اُبھر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم توازن کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے، جس سے ان کی پختہ فکر اور سنجیدگی کا پتا چلتا ہے۔
قارئین، ڈاکٹر صاحب کو اپنی جنم بھومی سے عشق اور اپنی دھرتی ماں سے پیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیار، عقیدت اور احترام کا جواب انہوں نے مذکورہ کتاب میں دینے کی کوشش کی ہے۔ بعینہ اس طرح جس طرح ساجد علی خان ابو تلتاند نے اپنے گاؤں برہ درش خیلہ کے بارے میں “درش خیلہ (سوات) تہذیب کے دریچے میں” لکھ کر اپنی مٹی کا حق ادا کر دیا تھا۔
غرض یہ کتاب تاریخ کے طلبہ و طالبات اور تحقیق سے دل چسپی رکھنے والوں کےلیے ایک کار آمد کتاب ہوگی۔ اس اَن مول اور بہترین کاوش پر مصنف ڈاکٹر بخت جمال صاحب داد اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس حوالے سے اگر مَیں ان کی کاوشوں کی داد نہ دوں، تو ناانصافی ہوگی۔
جاتے جاتے یہی دعا ہے کہ اللہ کرے حسنِ رقم اور ذیادہ، آمین۔
_______________________________
قارئین، راقم کے اس تحریر کو روزنامہ آزادی سوات نے آج یعنی 10 نومبر 2023ء بروزِ جمعہ کو پہلی بار شرفِ قبولیت بخش کر شایع کروایا ہے۔ ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: