باچا خان اور فلسطین کا سفر

تاریخ بعض اوقات نعروں سے نہیں، بلکہ آنکھوں دیکھے مشاہدات سے اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ جہاں بھی گئے، وہاں کے حالات کو محض جذبات سے نہیں بلکہ شعور، عقل اور اجتماعی ذمے داری کے پیمانے پر پرکھا۔ فلسطین کا ان کا یہ مشاہدہ اسی فکری بصیرت کی ایک زندہ دستاویز ہے۔
قارئین، باچا خان اپنی کتاب ‘میری زندگی اور جدوجہد’ میں لکھتے ہیں کہ سنہ 1926ء میں حج ادا کرنے کے بعد مَیں فلسطین گیا۔ وہاں عرب مسلمانوں کے حالات دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ جس طرح پختونوں کو مولویوں نے امامِ مہدی کے انتظار میں بٹھا رکھا ہے، بالکل اسی طرح عربوں کو بھی اس فریب میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ امامِ مہدی آئے گا اور سب کچھ خود بہ خود ٹھیک ہو جائے گا۔
مَیں بیت المقدس (یروشلم) میں گھومتا پھرتا، حالات کا مشاہدہ کرتا، معلومات حاصل کرتا اور ہوٹلوں میں عربوں کے ساتھ فلسطین اور عرب قوم کے مستقبل پر بحث و مباحثہ کرتا رہتا تھا۔ ایک دن چند فلسطینیوں سے بحث ہو رہی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ "دیکھو، تم لوگ ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہو کہ یہودیوں کو اپنی زمینیں بیچ رہے ہو۔ یہودی ان زمینوں کو آباد کر لیتے ہیں، تو تم خود یہ کام کیوں نہیں کرتے…؟”
مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ جہاں کہیں خوب صورت بنگلے، سرسبز باغچے اور پانی کا باقاعدہ انتظام موجود ہے، وہ زمینیں یہودیوں کی ملکیت ہوتی ہیں، اور جو زمین بنجر، ویران اور ناقابلِ کاشت ہوتی ہے، وہ مسلمانوں کے حصے میں آتی ہے۔ یہودی فلسطین میں چھوٹے چھوٹے، مگر منظم اور خوب صورت گاؤں بسا رہے تھے، جب کہ عرب قوم غفلت کی گہری نیند سو رہی تھی۔ اسی دوران میں ان میں سے ایک عرب نے کہا کہ "یہ 14ویں اور آخری صدی ہے۔ ہم اپنی زمینیں یہودیوں کو اس لیے بیچ رہے ہیں کہ اس کے بعد امامِ مہدی آئے گا، اور یہ ساری زمینیں دوبارہ ہماری یعنی مسلمانوں کی ہو جائیں گی۔”
تب مجھے پوری شدت سے احساس ہوا کہ مولویوں نے جس طرح پختونوں کو امامِ مہدی کے انتظار میں مفلوج کر رکھا ہے، بالکل اسی طرح عربوں کو بھی اسی خام خیالی میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ وہ اس قدر بے علم تھے کہ امامِ مہدی کو تو چھوڑو، جب ایک قوم نے اپنے پیغمبر کا ساتھ بھی نہ دیا ہو، تو وہ اپنے مقصد میں کیسے کامیاب ہو سکتی ہے…؟
آج کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ دوبارہ فلسطین جاؤں اور ان عربوں سے جا کر پوچھوں کہ وہ 14ویں اور آخری صدی تو ختم ہو گئی، اب بتاؤ وہ زمینیں کس کی ہوئیں … یہودیوں کی یا مسلمانوں کی…؟
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جو قوم اپنی سرزمین اور اپنے مفادات کی خود حفاظت نہیں کرتی، وہاں بالآخر ظلم کی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔
قارئین، باچا خان بابا کا یہ مشاہدہ محض فلسطین یا ایک دور کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اُس قوم کے لیے آئینہ ہے جو عمل کے بہ جائے انتظار، محنت کے بہ جائے معجزے اور شعور کے بہ جائے فریب پر یقین رکھتی ہے۔ تاریخ کسی قوم سے یہ نہیں پوچھتی کہ وہ کس کا انتظار کر رہی تھی، بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ اس نے اپنی زمین، اپنی ذمے داری اور اپنے مستقبل کے لیے خود کیا کیا۔