پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کی سات سالہ مدت کے دوران میں باچا خان پہلے چھے سال رکنِ اسمبلی ہونے کے باوجود پابندِ سلاسل رہے اور ان کو اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے سے روکا گیا۔
مذکورہ اسمبلی کے آخری سال اور تحلیل سے کچھ ہی عرصہ قبل انہیں رہا کیا گیا۔ اسمبلی کی 16ویں اور آخری نشست میں جب باچا خان کو اسمبلی فلور پر بات کرنے کا موقع دیا گیا، تو انہوں نے درجِ ذیل الفاظ میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لیے “وفاقیت” کا تصور پیش کیا۔ ملاحظہ ہو:
“مَیں اس آئین ساز اسمبلی کے سامنے مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے چند گزارشات رکھنا چاہتا ہوں۔
مَیں اپنی سیاسی زندگی میں ابتدا ہی سے صوبائی خود مختاری کا حامی رہا ہوں، جس کے لیے صوبوں کا ثقافتی، لسانی اور نسلی اعتبار سے یکساں ہونا بہت ضروری ہے۔
مَیں شروع دن سے اس بات پر زور دیتا رہا ہوں اور یہی میری سیاسی زندگی کا مقصد ہے۔
یہ میرا ایمان ہے کہ صرف اور صرف مضبوط صوبے ہی مضبوط مرکز کو جنم دے سکتے ہیں۔ صوبائی خود مختاری کی بدولت جب صوبے مضبوط اور خود مختار ہوں گے، تو عوام مطمئن ہوں گے اور نتیجتاً حکومت کو استحکام حاصل ہوگا۔ مَیں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ اگر آپ پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، اور اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کے عوام کی دنیا بھر میں عزت و احترام ہو، تو پھر آپ کو کوشش کرنی ہوگی کہ آپ سے عوام سیاسی طور پر مطمئن ہوں۔ عوام کو ایسے مواقع دیے جائیں جن سے ان کی خود اعتمادی بڑھے۔ ایسا تب ممکن ہے جب آپ عوام پر اعتماد کریں گے اور انھیں اپنی طبع کے مطابق یعنی اپنے صوبوں کے اندرونی معاملات اور نظم و نسق چلانے کا موقع دیں گے۔
جب آپ عوام کو زیادہ اختیار دیں گے، تبھی جاکر وہ اپنی ذمے داریاں پہچان سکیں گے۔ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں گے اور حکومت کو اپنا سمجھ سکیں گے۔ اس طرح پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر مضبوط ہوگا۔
مَیں مضبوط مرکز کے خلاف نہیں ہوں، لیکن میرے خیال میں مضبوط صوبائی اکائیاں ہی مضبوط مرکز کو جنم دے سکتی ہیں۔ صوبائی اکائیاں اُس وقت مضبوط ہوں گی جب ان کا انتظام و انصرام اور نظم و نسق ان کے اپنے ہی نمایندوں کے ہاتھوں میں ہو، جن پر عوام اعتماد کرسکیں اور جنھیں اپنے عوام پر اعتماد ہو۔
اس کے برعکس ایک ایسا مرکز کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا جس کی صوبائی اکائیوں کی تشکیل وہاں کے عوام کی مرضی کے برعکس ہو۔ یہی جمہوریت کا پہلا سبق ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ ہم اپنے مسایل کا حل نکالتے وقت اس سبق کو سامنے رکھیں۔
مَیں آخر میں ایک بار پھر یہ بات دہراؤں گا کہ کم زور صوبائی اکائیاں مضبوط مرکز کو نہیں بلکہ مضبوط صوبائی اکائیاں ہی ایک مضبوط مرکز کو جنم دے سکتی ہیں۔”
قارئین، اگر مملکتِ خداداد، باچا خان کی ان باتوں پر عمل کرتی، تو 1971ء میں پاکستان دولخت نہ ہوتا۔ اس طرح آج بلوچ قوم اپنی آزادی کی جنگ نہ لڑ رہے ہوتے اور نہ پختونوں اور دیگر اقلیتی اقوام اور پنجاب کے مابین کشیدگی اور بے چینی ہی ہوتی۔ لیکن ان کی نصیحت اور نظریے پر عمل کرنے کی بجائے ان پر غدارِ وطن کا ٹھپا اُن لوگوں نے لگایا جو اصل میں خود غدارِ وطن تھے۔
پاکستان میں غدارِ وطن کا لقب دشنام نہیں بلکہ اکرام ہے۔ کیوں کہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ماضی میں جن لوگوں کو غدار ٹھہرایا گیا، ان میں سے زیادہ تر کو قوم نے غدار تسلیم نہیں کیا۔ کیوں کہ لوگوں نے اسے ایک ناقص سیاسی حربہ ہی سمجھا۔
فخرِ افغان خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان، محترمہ فاطمہ جناح، جی ایم سیّد اور حسین شہید سُہروردی کی عزت و توقیر میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی۔ البتہ اُنھیں غدار کہنے والوں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، انہیں اچھے الفاظ کے ساتھ یاد نہیں کیا جاتا۔
بہ حوالہ:
(Constituent Assembly of Pakistan Debates, Vol. XVI, No. 27, Dated Sep 15, 1954, p. 369).
___________________________________
محترم قارئین، راقم کے اس تحریر کو آج یعنی 11 نومبر 2022ء بروز جمعہ کو روزنامہ آزادی سوات نے پہلی بار شرف قبولیت بخش کر شائع کروایا ہے۔
شیئرکریں: