ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم و خانۂ شماری کا  آغاز کر دیا گیا ہے، عوام کو موبائل اور کمپیوٹر پر انٹرنیٹ کےذریعے اپنی اور خاندان کی تفصیلات درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیف کمشنر مردم شماری کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے متعلق تمام صوبوں کو آن بورڈ لیا گیا ہے، مردم شماری کا پہلا مرحلہ یکم سے 15مارچ تک ہوگا، ایک ماہ بعد قوم کو مردم شماری کے اعداد و شمار کے نتائج دیےجائیں گے۔
واضح رہے کہ مردم شماری ملک میں آبادی اور اس کے تناسب سے وسایل کی فراہمی کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
حکومت کی طرف سے مردم شماری کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم دیا گیا ہے جس میں ہر شخص کو کمپیوٹر یا موبائل فون کے ذریعے اپنا اور خاندان کا اندراج کرنا ہوگا۔ رجسٹریشن کے عمل سے گزر کر ہر شہری کو پاس ورڈ ملے گا، اس کے ذریعے وہ اپنا ڈیجیٹل مردم شماری فارم بھرے گا اور تصدیق کے بعد موبائل پر یو ٹی این نمبر وصول کرے گا، یہ نمبر دکھا کر خانہ شماری کےلیے آنے والے سٹاف کو دکھانا ہوگا، تاکہ اس کی تصدیق کی جاسکے۔
تا ہم یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ ملک کے طول و عرض میں نہ تو انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے نہ ہی ہر شخص کمپیوٹر یا سمارٹ فون سے واقف ہے اور  نہ ہی اتنا خواندہ ہے کہ درج ہدایات پڑھ سکے۔ حکومت کے ایسے سینٹرز بھی موجود نہیں ہیں جو لوگوں کا اندراج کرسکیں، نہ ہی سیاسی جماعتوں یا سماجی تنظیموں نے ایسا کوئی انتظام کیا ہے۔
عام شہری اب تک مردم شماری سے مکمل آگاہ نہیں نہ ہی اس کی سرکاری سطح پر کوئی تشہیر کی گئی ہے۔ اسی لیے مختصر وقت میں خانہ و مردم شماری جیسے اہم کام کے مکمل نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
شیئرکریں: