آئینِ پاکستان کے تحت جب وفاقی حکومت کسی صوبے میں گورنر راج (ایمر جنسی) کے نفاذ کا اعلان کرے، تو پارلیمنٹ یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کو اس صوبے یا اس کے کسی بھی حصے کےلیے قانون بنانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کسی ایسے معاملے کے حوالے سے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہیں ہے، ان قوانین کی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے۔
ایڈووکیٹ شاہ خاور کے مطابق ایمر جنسی کے دوران میں وفاقی حکومت بنیادی حقوق معطل کر سکتی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو احکامات جاری کر سکتی ہے اور صوبائی اداروں اور معاملات کے حوالے سے آئینی دفعات کی کارروائی کو بھی معطل کر سکتی ہے۔ تاہم ایسے احکامات کی پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین میں یہ بھی واضح طور پر درج ہے کہ وفاقی حکومت آئین کو موقوف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اعلا عدلیہ سے متعلق آئین کی دفعات کو معطل کر سکتی ہے۔
شاہ خاور ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایمر جنسی کے اعلان سے متعلق تمام حالات میں اعلا عدالتوں کو آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت عدالتی نظرثانی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ عدلیہ کو ایمر جنسی کے اعلان کی درستگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا اور نفاذ کے جواز کے بارے میں ان کا فیصلہ حتمی اعلامیہ ہوگا۔
شیئرکریں: