خیبر پختون خوا حکومت نے مالی بحران کے پیشِ نظر سٹیٹ بینک سے قرض لینے کےلیے بین الاقوامی اداروں سے ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے۔ صوبائی حکومت نے خود کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کےلیے سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ ون میں مقررہ حد سے زائد رقم ظاہر کرنی ہے۔ جس کےلیے اب بین الاقوامی امدادی اداروں سے فنڈز لئے جائیں گے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کےلیے غیر ملکی امدادی اداروں کی جانب سے 93 ارب، 18 کروڑ اور 80 لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈز مختص کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت اپنے مالی بحران پر قابو پانے کےلیے اس رقم کو جاری اخراجات کےلیے استعمال نہیں کر سکتا۔ تاہم صوبائی حکومت کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ اس رقم کو اکاؤنٹ ون میں منتقل کرتے ہوئے خود کو دیوالیہ ہونے سے بچائے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے امدادی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے مختص ترقیاتی فنڈز جاری کر دیں اور اس فنڈ کو محکمہ خزانہ سٹیٹ بینک میں قائم اکاؤنٹ ون میں منتقل کرتے ہوئے اپنے خسارے کو پورا کرنے کےلیے سٹیٹ بینک سے مزید قرض حاصل کرلے گا۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور مالی طور پر خود کو محفوظ بنانے کےلیے صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈز منجمد کر دئے ہیں اور اب بین الاقوامی امدادی اداروں سے بھی فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے۔ صوبائی حکومت کے وفاق کے ذمہ واجب الادا رقم 118 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جو وفاقی حکومت ادا نہیں کر رہی۔
شیئرکریں: