پاکستان کی آئینی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے طاقت کے مراکز کے سامنے کھڑے ہو کر قانون، جمہوریت اور عوامی نمائندگی کا مقدمہ لڑا۔ ان میں مولوی تمیز الدین خان کا نام ایک روشن استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ محض ایک سیاست دان یا قانون دان نہیں تھے بلکہ نوآزاد ریاستِ پاکستان میں آئین کی بالادستی اور پارلیمانی خودمختاری کے علمبردار تھے۔ ان کی جدوجہد اس اصول کی علامت ہے کہ ریاستیں بندوق یا فرمان سے نہیں بلکہ قانون اور آئین سے چلتی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں آئین اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے مولوی تمیز الدین خان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ 1889ء میں بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر فرید پور، ڈھاکا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد 1914ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی قانونی بصیرت اور سیاسی شعور نے جلد ہی انہیں عوامی نمائندگی کی راہ پر گام زن کر دیا۔ 1926ء میں وہ پہلی مرتبہ بنگال کی مجلسِ قانون کے رکن منتخب ہوئے، جب کہ 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہو کر غیر منقسم بنگال کی کابینہ میں شامل کیے گئے۔
1945ء کے انتخابات میں مولوی تمیز الدین خان ہندوستان کی مرکزی مجلسِ قانون ساز کے رُکن منتخب ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے نائب صدر بنے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد انہیں مجلسِ دستور کا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کی زندگی کا سب سے فیصلہ کن اور تاریخی موڑ 1954ء میں آیا، جب گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ ایسے نازک وقت میں مولوی تمیز الدین خان نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اس غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا۔ اگرچہ عدالتی فیصلہ ان کے حق میں نہ آ سکا، لیکن یہ مقدمہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور بعد ازاں آنے والی سیاسی و عدالتی بحثوں کی بنیاد بنا۔
1962ء میں مولوی تمیز الدین خان قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں اسپیکر کے منصب پر فائز رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں کراچی کی ایک مصروف شاہراہ ان کے نام سے منسوب کی گئی۔ وہ 19 اگست 1963ء کو انتقال کر گئے اور ڈھاکا میں آسودۂ خاک ہیں۔
مولوی تمیز الدین خان کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والی آوازیں وقتی طور پر دب تو سکتی ہیں، مگر تاریخ میں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں۔ وہ ان چند راہ نماؤں میں سے تھے جنہوں نے اقتدار کے بجائے آئین کو ترجیح دی اور طاقت کے سامنے قانون کی حرمت کا مقدمہ لڑا۔ آج جب پاکستان کو آئینی استحکام اور جمہوری تسلسل جیسے چیلنجز درپیش ہیں، تو مولوی تمیز الدین خان کی زندگی اور کردار ہمارے لیے ایک واضح راہ نما اور یاد دہانی ہے کہ قومیں اصولوں کی پاس داری سے ہی مضبوط ہوتی ہیں۔

شیئرکریں: